حدیث نمبر ۸: الحرب خُدعة

کعب رضی اللہ عنہ کا طریق

متنِ حدیث

عن كعب رضي الله عنه:

أن النبي ﷺ كان يقول: «الحرب خُدعة».

(مسند الشہاب، ج ۱، ص ۴۰-۴۱)

سندِ قضاعی

أنبأنا أحمد بن إبراهيم بن جامع، ثنا علي بن عبد العزيز، ثنا أبو عمر الحوضي، ثنا الحسن بن أبي جعفر، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب، عن كعب رضي الله عنه۔

تخریج

“الحرب خُدعة” کا اصل متن صحیح اور معروف ہے۔ یہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ سے صحیح اسانید کے ساتھ مروی ہے۔ اسے امام بخاری، امام مسلم، مسند احمد، سنن ابی داود، جامع ترمذی اور دیگر ائمۂ حدیث نے روایت کیا ہے۔

کعب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس مخصوص طریق کے علاوہ معمر، زہری اور دیگر ائمہ کے واسطے سے اصل حدیث کے متعدد طرق موجود ہیں۔
(مسند الشہاب، ج ۱، ص ۴۰-۴۱)

سند کا رجالی تجزیہ

الحسن بن أبي جعفر

حسن بن ابی جعفر بصری راوی ہیں۔ ائمۂ نقد نے ان کے حفظ اور روایت پر کلام کیا ہے؛ ان کی روایت کو ضعیف شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے جب وہ ثقہ رواۃ کے خلاف یا منفرد طریق میں واقع ہوں تو ان کی روایت قابلِ احتجاج نہیں رہتی۔

زیرِ بحث سند میں وہ معمر سے روایت کر رہے ہیں۔ ان کے ضعف کی وجہ سے یہ مخصوص قضاعی طریق صحیح نہیں کہا جا سکتا۔

معمر بن راشد

معمر بن راشد ثقہ، حافظ اور مشہور محدث ہیں۔ زہری سے ان کی روایت معروف ہے۔ لیکن معمر تک پہنچنے والا طریق حسن بن ابی جعفر کی وجہ سے کمزور ہے۔

محمد بن مسلم الزهري

امام زہری ثقہ، حافظ اور ائمۂ حدیث میں سے ہیں۔ ان کی روایت اصولاً معتبر ہے، مگر اوپر کے کمزور واسطے کی بنا پر اس مخصوص سند کی صحت ثابت نہیں ہوتی۔

سند کا حکم

قضاعی کی کعب رضی اللہ عنہ والی یہ مخصوص سند ضعیف ہے۔

اس کا بنیادی سبب حسن بن ابی جعفر کا ضعف ہے۔ اس لیے اس سند کو بذاتِ خود صحیح یا حسن قرار نہیں دیا جائے گا۔

متن کا مجموعی حکم

“الحرب خُدعة” کا متن اس ضعیف طریق پر موقوف نہیں۔ یہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت متعدد معتبر مصادر میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ سے ثابت ہے۔ اس لیے یہاں واضح امتیاز ضروری ہے:

• قضاعی کی کعب رضی اللہ عنہ والی یہ سند: ضعیف۔

• “الحرب خُدعة” کا نبوی اصل: صحیح اور ثابت۔

درایتی و فقہی بحث

“خُدعة” کے معنی جنگی تدبیر، دشمن کو حکمتِ عملی سے غافل رکھنا، اپنی جنگی منصوبہ بندی کو محفوظ رکھنا، اور میدانِ جنگ میں جائز عسکری چال اختیار کرنا ہیں۔ اس حدیث سے غدر، عہد شکنی، دھوکے سے قتل، امان توڑنے یا معاہدے کی خلاف ورزی کا جواز نہیں نکلتا۔

اسلامی جنگی اخلاق میں وعدہ، امان، معاہدہ اور غیر جنگجو افراد کے حقوق مستقل اصول ہیں۔ لہٰذا “الحرب خُدعة” کو ان قطعی اخلاقی و شرعی پابندیوں سے الگ کر کے استعمال کرنا علمی اور شرعی دونوں اعتبار سے غلط ہو گا۔

حکمِ حدیث

قضاعی کی یہ سند: ضعیف۔
اصل متن: صحیح۔

وجہِ حکم

حسن بن ابی جعفر کے ضعف کی وجہ سے کعب رضی اللہ عنہ سے مذکور قضاعی طریق مضبوط نہیں۔ مگر متن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما وغیرہ سے صحیح اور متعدد طرق میں ثابت ہے، اس لیے حدیث کے مجموعی اصل میں کوئی شبہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *