اردو ادب اور لوک کہانیوں میں کچھ استعارے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے معنی بدل لیتے ہیں۔ الف لیلیٰ کا وہ مشہورِ زمانہ جادوئی چراغ جسے الہ دین نے غار کے اندھیروں سے ڈھونڈ نکالا تھا، ایک زمانے تک لامتناہی طاقت اور ناممکن کو ممکن بنانے کی علامت رہا ہے۔ کہانی کے مطابق اس چراغ پر ہلکا سا ہاتھ رگڑا جاتا اور ایک دیوقامت جن حاضر ہو کر آقا کی ہر خواہش پلک جھپکتے ہی پوری کر دیتا۔ شعور کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد جب ہم نے وطنِ عزیز کے سیاسی نشیب و فراز اور اقتدار کے ایوانوں کا مشاہدہ کیا، تو معلوم ہوا کہ یہ جادوئی چراغ کسی غار میں نہیں بلکہ ہمارے سیاسی شعبدہ بازوں کے ترکش میں محفوظ ہے۔ لیکن تاریخ کا جبر دیکھیے کہ آج پاکستانی سیاست اس موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں یہ “جادوئی چراغ” اتنی بار رگڑا جا چکا ہے کہ اب اس کا جادو پوری طرح ختم ہو چکا ہے۔ اب اسے مزید رگڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ یہ چراغ اب سیاست کے بازار میں محض ایک “چلے ہوئے کارتوس” کی مانند ہے، جس کا کھوکھلا خول تو باقی ہے مگر اندر کا بارود اور اثر ختم ہو چکا ہے۔
ملکی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہر دور میں عوام کو دلاسے دینے کے لیے ایک نیا چراغ تراشا گیا۔ کبھی “روٹی، کپڑا اور مکان” کا چراغ رگڑ کر غریبوں کی بستیوں میں خوشحالی کا جن اتارنے کے خواب دکھائے گئے، کبھی “ایشین ٹائیگر” اور موٹرویز کے چمکتے خوابوں سے آنکھیں خیرہ کی گئیں، تو کبھی “تبدیلی” اور “نیا پاکستان” کے سحر انگیز نعرے کو جادوئی چراغ بنا کر پیش کیا گیا۔ سادہ لوح عوام، جو دہائیوں سے صاف پانی، سستی بجلی اور انصاف جیسی بنیادی ضرورتوں کو ترس رہے ہیں، ہر نئے شعبدہ باز کے ہاتھ میں چمکتا چراغ دیکھ کر اس کے پیچھے چل پڑتے تھے۔ عوام سمجھتے تھے کہ شاید اب کی بار چراغ پر صحیح رگڑا لگا ہے اور اب ان کے نصیب کا ستارہ چمکے گا۔ مگر المیہ یہ رہا کہ جیسے ہی انتخابات کا جادو ختم ہوتا اور اقتدار کی ہما کسی کے سر پر بیٹھتی، تو چراغ سے ترقی کا کوئی جن برآمد نہیں ہوتا تھا، بلکہ پٹرول کی قیمتیں، کمر توڑ مہنگائی، ابلتے ہوئے گٹر اور آئی ایم ایف (IMF) کی کڑی شرائط کا بھوت غریب عوام کو نگلنے کے لیے سامنے کھڑا ہوتا تھا۔
آج کے حالات ماضی سے یکسر مختلف اور کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ اب بحران صرف معاشی نہیں رہا، بلکہ یہ ساکھ اور اعتماد کا بحران ہے۔ سیاستدانوں کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ عوام اب بیدار ہو چکے ہیں۔ وہ پرانے نعرے، وہ روایتی بیانیے اور وہی گھسی پٹی تقریریں جو ماضی میں سیاسی بقا کا سامان بنتی تھیں، اب اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔ جب ایک ہی چراغ کو بار بار، ہر انتخابی موسم میں بے دردی سے رگڑا جائے، تو اس کی چمک ماند پڑ جاتی ہے اور جادو غائب ہو جاتا ہے۔ عوام اب جان چکے ہیں کہ جن نعروں کو پارسا بنا کر بیچا جا رہا ہے، ان کے پیچھے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی یا ملکی مفاد نہیں، بلکہ صرف اقتدار کی ہوس اور ذاتی مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے بندوق میں چلا ہوا کارتوس دوبارہ ڈال کر فائر کرنے کی کوشش کی جائے؛ اس سے صرف ایک بے جان ‘ٹک’ کی آواز تو پیدا ہو سکتی ہے، لیکن کوئی سیاسی شکار ممکن نہیں ہو سکتا۔
ہماری اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کو یہ نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ اب عوام کو سنہرے خوابوں کی گولی دے کر زیادہ دیر تک بہلایا نہیں جا سکتا۔ ملک اس وقت جس نہج پر پہنچ چکا ہے، وہاں کھوکھلی تسلیوں اور جادوئی حل کے دعووں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اب اگر نظام کو چلانا ہے اور ملک کو بحرانوں کے دلدل سے نکالنا ہے، تو پرانے رگڑے ہوئے چراغوں پر تکیہ کرنے کے بجائے سچائی، شفافیت اور حقیقی اصلاحات کا دامن تھامنا ہوگا۔ جب تک سیاسی جماعتیں اپنے طرزِ عمل میں سنجیدگی نہیں لائیں گی اور چلے ہوئے کارتوسوں کو نیا بارود بنا کر پیش کرنے کی روش ترک نہیں کریں گی، تب تک مایوسی کا یہ دھواں چھٹنے والا نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی شعبدہ بازی کے اس بازار کو بند کیا جائے اور زمینی حقائق کا سامنا کر کے ملک کو آگے بڑھایا جائے۔
Muhammad Sajid