روایہ: علم، تحقیق اور ادب کے ایک نئے سفر کا آغاز

روایہ کیوں؟ ایک سہ لسانی علمی، تحقیقی اور ادبی مجلے کے آغاز، اس کے فکری نصب العین، اداراتی اصولوں اور مستقبل کے سفر پر ۔ مدیرِ اعلیٰ کا پہلا اداریہ

ہر علمی و ادبی سفر کا آغاز کسی نہ کسی سوال سے ہوتا ہے۔ کبھی یہ سوال اپنے عہد کو سمجھنے کی خواہش سے پیدا ہوتا ہے، کبھی علمی روایت سے نئے سرے سے رشتہ قائم کرنے کی ضرورت سے، اور کبھی اس احساس سے کہ لکھنے، سوچنے اور مکالمہ کرنے کے لیے ایسے پلیٹ فارم درکار ہیں جہاں نہ صرف معروف اہلِ قلم کو جگہ ملے بلکہ وہ نئی آوازیں بھی سامنے آ سکیں جو ابھی اپنے اظہار کی پہلی منزلوں میں ہیں۔ روایہ اسی احساس، اسی ضرورت اور اسی امید کا حاصل ہے۔

روایہ کا آغاز محض ایک اور ویب سائٹ یا آن لائن مجلے کے اضافے کے طور پر نہیں کیا گیا۔ ہماری خواہش ایک ایسا علمی، تحقیقی، ادبی اور فکری پلیٹ فارم قائم کرنے کی ہے جہاں تحقیق کی سنجیدگی، ادب کی لطافت، تاریخ کا شعور، فکر کی آزادی اور زبان کی شائستگی ایک دوسرے سے جدا خانوں میں مقید ہونے کے بجائے باہم گفتگو کر سکیں۔

روایت سے روایہ تک

ہمارے لیے ’’روایہ‘‘ صرف ایک نام نہیں۔ اس لفظ میں روایت بھی ہے، روایت کا بیان بھی، اور کسی واقعے، خیال یا تجربے کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کا مفہوم بھی۔ انسانی تہذیب کی بڑی علمی روایتیں اسی عمل سے زندہ رہی ہیں: کسی نے دیکھا، کسی نے سوچا، کسی نے تحقیق کی، کسی نے اختلاف کیا، کسی نے قلم بند کیا، اور آنے والوں نے اسے پڑھ کر نئے سوال اٹھائے۔

اسی تسلسل میں روایہ ماضی کی علمی میراث کے احترام اور حال کے فکری سوالات کے شعور کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یہاں تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کی فہرست نہیں ہوگی، ادب صرف جمالیاتی تفریح نہیں ہوگا، اسلامیات صرف منقولات کا مجموعہ نہیں ہوگی، اور معاصر مسائل محض وقتی خبروں کی صورت میں زیرِ بحث نہیں آئیں گے۔ کوشش یہ ہوگی کہ ہر موضوع کو اس کے مناسب علمی، تاریخی، تہذیبی اور انسانی تناظر میں دیکھا جائے۔

تین زبانیں، ایک علمی مکالمہ

روایہ کی ایک بنیادی خصوصیت اس کا اردو، انگریزی اور عربی پر مشتمل سہ لسانی مزاج ہے۔

اردو ہماری علمی و ادبی روایت کی ایک عظیم زبان ہے۔ اس میں صدیوں کے فکری مباحث، تاریخ، شاعری، تنقید، مذہبی علوم اور سماجی تجربات محفوظ ہیں۔ عربی اسلامی علمی روایت کے بنیادی مصادر کی زبان ہونے کے ساتھ ایک زندہ عالمی زبان بھی ہے، جبکہ انگریزی عصرِ حاضر میں علمی تحقیق اور بین الاقوامی علمی رابطے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔

روایہ ان زبانوں کو ایک دوسرے کے حریف نہیں سمجھتا۔ ہمارا تصور یہ ہے کہ مختلف زبانوں کے علمی سرمائے کے درمیان پل تعمیر کیے جائیں۔ اردو کا قاری عربی اور عالمی علمی روایت سے استفادہ کرے، عربی قاری برصغیر کے علمی و ادبی مباحث سے متعارف ہو، اور انگریزی میں لکھنے والے اہلِ قلم بھی اس علمی مکالمے میں شریک ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ روایہ میں کسی ایک زبان کو دوسری زبانوں کی قیمت پر غالب کرنے کے بجائے ہر زبان کو اس کے فطری علمی اور ادبی ماحول میں جگہ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

تحقیق بھی، ادب بھی

علمی دنیا میں کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحقیق اور ادب دو الگ دنیائیں ہیں۔ ایک طرف حوالہ، استدلال، مصادر اور تنقیدی تجزیہ ہے، اور دوسری طرف تخیل، احساس، زبان اور انسانی تجربہ۔

روایہ اس تقسیم کو قطعی نہیں سمجھتا۔

ایک اچھا مؤرخ محض تاریخیں جمع نہیں کرتا؛ وہ انسانی تجربے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک اچھا ادیب محض الفاظ نہیں سجاتا؛ وہ اپنے عہد کے باطن کو پڑھتا ہے۔ ایک سنجیدہ محقق محض نتائج پیش نہیں کرتا؛ وہ سوال پیدا کرتا اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

اسی لیے روایہ کے صفحات پر تحقیق و تنقید، تاریخ و تہذیب، اسلامیات، ادب و زبان، فکر و نظر، سماج و معاشرہ، حالاتِ حاضرہ، کتابوں کے مطالعات، تراجم اور دیگر علمی و ادبی موضوعات ایک ہی وسیع علمی منظرنامے کے اجزا ہوں گے۔

اختلاف، مگر علمی آداب کے ساتھ

زندہ علمی روایت سوال اور اختلاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہر سنجیدہ علمی معاشرے میں مختلف آرا، تعبیرات اور نتائج موجود ہوتے ہیں۔

روایہ اختلافِ رائے کو علمی زندگی کا فطری حصہ سمجھتا ہے، لیکن ایسا اختلاف جو دلیل کے بجائے شخصیات کو نشانہ بنائے، تحقیق کے بجائے تعصب پر قائم ہو، یا علمی نقد کو تحقیر اور دشنام میں تبدیل کر دے، ہمارے مطلوب علمی ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہاں کسی خیال سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، کسی کتاب پر تنقید کی جا سکتی ہے، کسی تاریخی تعبیر کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور کسی معروف رائے کو نئے شواہد کی روشنی میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؛ لیکن اس سب کی بنیاد دلیل، ماخذ، تہذیبِ گفتگو اور علمی دیانت ہونی چاہیے۔

معروف ناموں کے ساتھ نئی آوازیں

علمی و ادبی دنیا کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نئے لکھنے والوں کے لیے پہلا دروازہ کھلنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک نوجوان لکھنے والا اس وقت تجربہ کیسے حاصل کرے گا جب اسے لکھنے، غلطی کرنے، اصلاح حاصل کرنے اور بہتر ہونے کا موقع ہی نہ دیا جائے؟

روایہ معروف اہلِ علم اور تجربہ کار قلم کاروں کی تحریروں کا خیر مقدم کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ نئے اور ابھرتے ہوئے لکھنے والوں کے لیے بھی جگہ رکھنا چاہتا ہے۔

ہماری کوشش ہوگی کہ اچھی صلاحیت رکھنے والی تحریر کو صرف اس لیے رد نہ کیا جائے کہ اس کا مصنف ابھی معروف نام نہیں۔ جہاں ممکن ہو، اداراتی رہنمائی، زبان کی اصلاح اور علمی حوالہ جات کی بہتری کے ذریعے نئے قلم کاروں کو آگے بڑھنے میں مدد دی جائے۔

ننھے قلم کار: آنے والے کل کی آواز

اس تصور کا ایک خصوصی پہلو ’’ننھے قلم کار‘‘ ہیں۔

بچوں سے وہ علمی معیار طلب کرنا درست نہیں جو کسی یونیورسٹی کے محقق یا تجربہ کار مصنف سے مطلوب ہوتا ہے۔ بچے کی پہلی کہانی، پہلا مضمون، پہلا سفرنامہ یا کسی کتاب کے بارے میں اس کے چند سادہ تاثرات بظاہر ایک چھوٹی تحریر ہو سکتے ہیں، مگر اسی میں مستقبل کے کسی ادیب، محقق یا مفکر کی پہلی جھلک بھی چھپی ہو سکتی ہے۔

اسی لیے ننھے قلم کاروں کی تحریروں کا جائزہ ان کی عمر، تخلیقی صلاحیت، اظہار، مشاہدے اور تربیتی و ادبی قدر کے لحاظ سے لیا جائے گا۔ ان پر رسمی علمی حوالہ جات اور تحقیقی منہج کی وہ شرائط نافذ نہیں ہوں گی جو باقاعدہ تحقیقی مقالات کے لیے ضروری ہیں۔

ہم ان کی زبان بہتر کر سکتے ہیں، املا درست کر سکتے ہیں، مگر کوشش یہ ہوگی کہ اصلاح کرتے ہوئے بچے کی اپنی آواز ضائع نہ ہو۔

اشاعت سے پہلے اداراتی ذمہ داری

ڈیجیٹل دنیا نے اظہار کو آسان بنایا ہے، لیکن آسان اشاعت کا مطلب غیر ذمہ دار اشاعت نہیں ہونا چاہیے۔

روایہ میں بھیجی جانے والی تحریر براہِ راست شائع نہیں ہوگی۔ وہ پہلے ادارتی جائزے سے گزرے گی۔ موضوع کی مناسبت، زبان، علمی و ادبی معیار، حوالہ جات اور بنیادی اشاعتی اصولوں کو دیکھا جائے گا۔ جہاں ضرورت ہوگی، مصنف سے اصلاح یا وضاحت طلب کی جائے گی۔

تحقیقی اور تخصصی مواد کے سلسلے میں ضرورت کے مطابق متعلقہ اہلِ علم سے مشاورت بھی کی جا سکے گی۔

اس پورے عمل کا مقصد تحریر کو غیر ضروری رکاوٹوں میں ڈالنا نہیں، بلکہ یہ کوشش کرنا ہے کہ روایہ کے نام سے شائع ہونے والا مواد حتی الامکان قابلِ اعتماد، پڑھنے کے لائق اور محفوظ کیے جانے کے قابل ہو۔

مسلسل اشاعت، مستقل آرکائیو

روایہ نے مسلسل اشاعت کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی تحریر کو محض اس لیے ہفتوں یا مہینوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا کہ اگلا روایتی شمارہ کب مکمل ہوگا۔ جو تحریر اداراتی مراحل مکمل کر لے، اسے مناسب وقت پر شائع کیا جا سکتا ہے۔

لیکن مسلسل اشاعت کا مطلب بے ترتیبی نہیں۔

روایہ میں شائع ہونے والی تحریروں کو سال، جلد اور مہینے کے اعتبار سے مستقل آرکائیو میں محفوظ کیا جائے گا، تاکہ آج شائع ہونے والی تحریر چند دن بعد ویب سائٹ کے صفحات میں گم نہ ہو جائے بلکہ مستقبل میں بھی تلاش، مطالعہ اور حوالہ کے لیے دستیاب رہے۔

ڈیجیٹل صحافت اور آن لائن اشاعت میں یہ مستقل ریکارڈ ہمارے نزدیک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے عہد میں مصنف کی ذمہ داری

ہم ایک ایسے زمانے میں لکھ رہے ہیں جس میں مصنوعی ذہانت نے تحقیق، ترجمے، تدوین اور تحریر کے طریقوں کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

روایہ اس تبدیلی سے آنکھیں بند کرنے کے بجائے اسے ذمہ داری کے ساتھ سمجھنے کا قائل ہے۔

مصنوعی ذہانت زبان کی اصلاح، مواد کی تنظیم، ترجمے یا بعض تحقیقی معاون کاموں میں مفید ہو سکتی ہے، لیکن کوئی ٹیکنالوجی مصنف کی علمی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتی۔ غلط حوالہ، غیر مصدقہ دعویٰ یا ناقص استدلال اگر کسی AI نظام سے آیا ہو تب بھی شائع شدہ تحریر کی ذمہ داری انسانی مصنف ہی پر ہوگی۔

ہمارے نزدیک ٹیکنالوجی معاون ہو سکتی ہے؛ مصنف کا بدل نہیں۔

روایہ کس کا ہے؟

ایک علمی و ادبی مجلہ صرف مدیر یا ناشر کا نہیں رہتا۔ رفتہ رفتہ وہ اپنے مصنفین، قارئین، ناقدین اور ان تمام لوگوں کا مشترک علمی سرمایہ بن جاتا ہے جو اس کے صفحات پر ہونے والے مکالمے میں شریک ہوتے ہیں۔

اسی لیے روایہ کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوگا کہ ہم کیا شائع کرتے ہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ ہمارے قارئین کیا سوال اٹھاتے ہیں، اہلِ قلم کن نئے موضوعات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور علمی دنیا ہمیں کہاں اصلاح کی ضرورت محسوس کراتی ہے۔

ہم یہ دعویٰ لے کر سفر شروع نہیں کر رہے کہ روایہ ابتدا ہی سے کامل ہوگا۔

ہم صرف یہ عزم لے کر آغاز کر رہے ہیں کہ غلطی کی اصلاح سے گریز نہیں کریں گے، علمی دیانت کو سہولت پر قربان نہیں کریں گے، اور اچھے علمی و ادبی کام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھیں گے۔

آغاز

آج روایہ کا یہ سفر ایک چھوٹے سے قدم سے شروع ہو رہا ہے، لیکن ہر پائیدار علمی روایت کبھی نہ کبھی ایسے ہی ایک قدم سے شروع ہوئی تھی۔

ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں جب کوئی روایہ کے پرانے آرکائیو کی طرف لوٹے تو اسے صرف مضامین کا انبار نہ ملے، بلکہ ہمارے عہد کے سوالات، مباحث، تحقیقات، ادبی آوازیں، اختلافات، تجربات اور فکری سفر کا ایک منظم ریکارڈ دکھائی دے۔

اگر روایہ کسی نوجوان کو قلم اٹھانے کی ہمت دے سکے، کسی محقق کو اپنی تحقیق پیش کرنے کا ذمہ دار پلیٹ فارم فراہم کر سکے، کسی قاری کو نئی کتاب یا نئے خیال تک پہنچا سکے، مختلف زبانوں اور علمی روایتوں کے درمیان ایک چھوٹا سا پل قائم کر سکے، اور کسی بچے کی پہلی تحریر کو محفوظ کر کے اسے اگلی تحریر لکھنے کا حوصلہ دے سکے، تو اس سفر کا آغاز بے معنی نہیں ہوگا۔

روایہ اسی امید کے ساتھ اپنے علمی و ادبی سفر کا آغاز کرتا ہے۔

— حافظ محمد اشرف کریمی
مدیرِ اعلیٰ، روایہ
ستمبر 2026