آزاد رسائی اوراشاعتِ نو کی پالیسی

تمہید

روایہ علم، تحقیق اور معتبر علمی مواد کی وسیع تر رسائی کو اہمیت دیتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت عالمی علمی تحقیقات کے شعبے میں دنیا کے مختلف علمی و تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے منتخب آزاد رسائی کے مضامین، ان کے تراجم، خلاصے اور علمی تعارف پیش کیے جاسکتے ہیں۔

روایہ کسی تحریر کے محض آن لائن دستیاب ہونے کو اس کی اشاعتِ نو کی اجازت نہیں سمجھتا۔ کسی بھی علمی مضمون کی باز اشاعت یا ترجمے سے پہلے اس کے حقوقِ اشاعت اور اجازت نامے کی باقاعدہ جانچ کی جائے گی۔

1۔ بنیادی اصول

روایہ صرف اسی علمی مواد کو مکمل یا جزوی طور پر دوبارہ شائع کرے گا جس کے اجازت نامے میں اس نوعیت کے استعمال کی واضح اجازت موجود ہو۔

اصل مصنف کی علمی ملکیت ہر صورت برقرار رہے گی۔ اشاعتِ نو سے کسی مضمون کی مصنفیت، اصل مقامِ اشاعت یا علمی نسبت روایہ کی طرف منتقل نہیں ہوگی۔

2۔ آزاد رسائی اور آزاد اشاعتِ نو میں فرق

کسی مضمون کا بلا معاوضہ پڑھنے کے لیے دستیاب ہونا لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ اسے کسی دوسری ویب سائٹ، رسالے یا کتاب میں دوبارہ شائع بھی کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا ہر مضمون کے لیے الگ طور پر اس کا اجازت نامہ دیکھا جائے گا۔ صرف آزاد رسائی کا لفظ اشاعتِ نو کے لیے کافی تصور نہیں کیا جائے گا۔

3۔ قابلِ قبول اجازت نامے

ایسے اجازت نامے جن میں اصل مصنف کا حوالہ دیتے ہوئے نقل، تقسیم اور باز اشاعت کی اجازت ہو، روایہ میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

جن اجازت ناموں میں ترمیم اور اخذ و اقتباس کی اجازت بھی موجود ہو، ان کے تحت ضرورت کے مطابق اردو ترجمہ، اختصار یا علمی توضیح تیار کی جاسکتی ہے۔

اگر کسی اجازت نامے میں تجارتی استعمال، ترمیم، ترجمے یا نئی صورت میں اشاعت پر پابندی ہو تو روایہ ان شرائط کی مکمل پابندی کرے گا۔

4۔ ترجمے کی پالیسی

کسی علمی مضمون کا مکمل اردو ترجمہ صرف اس وقت شائع کیا جائے گا جب متعلقہ اجازت نامہ ترجمے یا اخذ و تبدیلی کی اجازت دیتا ہو، یا حقوق رکھنے والے فریق سے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی ہو۔

ہر ترجمے کے ساتھ واضح کیا جائے گا کہ یہ اصل مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔ اصل عنوان، مصنف، جریدہ، سنِ اشاعت، اصل ربط اور اجازت نامہ بھی درج کیا جائے گا۔

ترجمے کو اصل مصنف کی اپنی اردو تحریر کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔

5۔ اصل ماخذ کی نشان دہی

ہر باز شائع شدہ یا مترجم مضمون کے ساتھ حتی الامکان درج ذیل معلومات فراہم کی جائیں گی:

  • اصل مصنف یا مصنفین
  • اصل مضمون کا عنوان
  • جریدے کا نام
  • جلد اور شمارہ
  • سنِ اشاعت
  • مستقل رقمی شناخت
  • اصل مضمون کا ربط
  • متعلقہ اجازت نامہ

اگر اصل ناشر کی طرف سے نسبت دینے کا کوئی مخصوص طریقہ مقرر ہو تو اسی کی پابندی کی جائے گی۔

6۔ تبدیلیوں کی وضاحت

اگر روایہ کسی مضمون میں ترجمہ، اختصار، عنوان کی تبدیلی، توضیح، حواشی یا کوئی دوسری قابلِ ذکر تبدیلی کرے تو اس کی واضح نشان دہی کی جائے گی۔

قاری کو اصل علمی متن اور روایہ کی جانب سے کیے گئے اضافے یا تبدیلی میں حتی الامکان واضح فرق فراہم کیا جائے گا۔

7۔ تصاویر، نقشے، جدول اور دیگر مواد

کسی مضمون کا عمومی اجازت نامہ لازماً اس میں شامل ہر تصویر، نقشے، جدول، خاکے یا دوسرے فریق کے مواد پر لاگو نہیں ہوتا۔

اس لیے ایسے مواد کے حقوق الگ سے دیکھے جائیں گے۔ جس مواد کی باز اشاعت کی اجازت واضح نہ ہو، اسے حذف کیا جائے گا، متبادل مواد استعمال کیا جائے گا یا متعلقہ حقوق رکھنے والے سے اجازت حاصل کی جائے گی۔

8۔ تحقیقی خلاصے اور علمی تعارف

روایہ اہم عالمی تحقیقات کے اصل اور خود مرتب کردہ خلاصے، تعارف اور تجزیے بھی شائع کرسکتا ہے۔

ایسے مواد میں اصل تحقیق کا مناسب حوالہ دیا جائے گا اور خلاصے یا تجزیے کو اصل مضمون کی مکمل باز اشاعت کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا۔

9۔ مصنف اور ناشر کا احترام

روایہ اصل مصنف، جریدے اور ناشر کی علمی نسبت کو نمایاں طور پر محفوظ رکھے گا۔ کسی باز شائع شدہ مضمون کو اس انداز میں پیش نہیں کیا جائے گا جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ ابتدا ہی سے روایہ کے لیے لکھا گیا تھا۔

10۔ حقوق سے متعلق اعتراض

اگر کسی مصنف، ناشر یا حقوق رکھنے والے فریق کو روایہ پر شائع شدہ کسی مواد کے استعمال کے بارے میں اعتراض ہو تو وہ روایہ سے رابطہ کرسکتا ہے۔

قابلِ اعتبار اعتراض موصول ہونے پر معاملے کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق مواد کی نسبت درست کی جائے گی، اس میں ترمیم کی جائے گی یا اسے عارضی یا مستقل طور پر ہٹا دیا جائے گا۔

11۔ ادارتی جانچ

کسی آزاد رسائی کے مضمون کو شائع کرنے سے پہلے روایہ کی ادارتی ٹیم کم از کم درج ذیل امور کی تصدیق کرے گی:

  • اصل ماخذ معلوم ہو۔
  • مصنف کی شناخت موجود ہو۔
  • اجازت نامہ واضح ہو۔
  • مطلوبہ استعمال اس اجازت نامے کے تحت جائز ہو۔
  • تیسرے فریق کے مواد کی قانونی حیثیت معلوم ہو۔
  • اصل مضمون تک رسائی کا معتبر ربط موجود ہو۔

12۔ علمی دیانت

اس منصوبے کا مقصد علمی مواد کی غیر ضروری نقل نہیں بلکہ اہم عالمی تحقیق کو زیادہ وسیع قارئین، بالخصوص اردو علمی حلقے، تک ذمہ دارانہ انداز میں پہنچانا ہے۔

روایہ باز اشاعت، ترجمے اور علمی خلاصے میں امانت، درست نسبت، شفافیت اور حقوقِ اشاعت کے احترام کو بنیادی اصول تصور کرتا ہے۔


آخری نظرِ ثانی: اکتوبر 2026