اداریہ
ہر علمی روایت کی زندگی اس بات پر موقوف ہوتی ہے کہ اس کے وارث اپنے بڑوں کی کتابیں صرف الماریوں میں سجائیں یا ان سے مکالمہ بھی کریں۔ «روایہ» کا نام ہی اس عہد کی یاد دہانی ہے کہ علم نقل سے بڑھتا ہے، مگر نقد سے محفوظ رہتا ہے۔
اسی جذبے کے تحت ہم ایک ایسی کتاب کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے تفسیری ورثے کا ایک سنگِ میل ہے: علامہ سید محمود آلوسی بغدادی (م ۱۲۷۰ھ) کی «روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني»۔ یہ ایک تبصرہ کم اور ایک دعوت زیادہ ہے۔
ایک کتاب، بارہ صدیوں کا نچوڑ
روح المعانی میں زمخشری کی بلاغت، رازی کی گہرائی، بیضاوی کا ایجاز، ابو حیان کی نحوی باریکی اور ابو السعود کا ذوق ایک جگہ آ ملتے ہیں۔ اس پر مستزاد مصنف کا اپنا ناقدانہ شعور ہے، جو اقوال نقل کر کے رک نہیں جاتا بلکہ ترجیح دیتا اور بارہا اپنے بڑوں پر تعقب کرتا ہے۔
پھر ہر بحث کے آخر میں «ومن باب الإشارة» کا وہ حصہ ہے جو قاری کو الفاظ سے اٹھا کر تزکیہ کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ اس حصے پر اہلِ علم کی رائیں مختلف رہی ہیں، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ کتاب منتہی طالبِ علم کے لیے بے پناہ فوائد کا خزانہ ہے۔
برصغیر میں یہ کتاب ایک خاموش مرجع رہی ہے۔ ہماری معروف اردو تفاسیر کے بہت سے نکات اسی سرچشمے سے آئے، مگر عام اردو قاری ابھی تک اس تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتا۔
جو کام باقی ہے
عرب دنیا میں اس کتاب کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مؤسسۃ الرسالہ نے ۱۴۳۱ھ میں اسے تیس جلدوں میں مرفوع روایات کی تخریج کے ساتھ شائع کیا، اور جامعات میں سورت وار تخریج و دراسہ کے رسائل لکھے جا رہے ہیں۔
:مگر تین خلا ابھی تک نمایاں ہیں
صحابہ و تابعین کے آثار کی منظم تخریج اور ان پر حکم، جن پر تفسیر کا بڑا حصہ قائم ہے۔
مخطوطات کی بنیاد پر ایک ایسا متن، جو مصنف کی اصل عبارت کو بعد کے تصرفات سے ممتاز کرے۔
اردو میں ایک مستند تلخیص، جس میں لغوی و بلاغی جوہر بھی ہو اور روایات کی تخریج و حکم بھی۔
روایہ» کی دعوت»
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام کسی ایک فرد کا نہیں، ایک نسل کا ہے۔ کریمی لائبریری اینڈ ریسرچ سنٹر اس سمت میں قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، اور «روایہ» کے صفحات اس گفتگو کے لیے حاضر ہیں۔
ہم اردو، عربی اور انگریزی میں لکھنے والے محققین، مدارس کے اساتذہ اور جامعات کے طلبہ و طالبات کو دعوت دیتے ہیں کہ روح المعانی کے کسی پہلو پر اپنی تحقیق ہمیں بھیجیں: کسی ایک سورت کی روایات کی تخریج، مصنف کے منہج کا کوئی گوشہ، یا اشاری تفسیر پر ایک متوازن مطالعہ۔
ہمارے بڑوں نے علم کو امانت سمجھ کر ہم تک پہنچایا۔ اس امانت کا حق یہ ہے کہ ہم اسے پڑھیں، پرکھیں اور اگلی نسل تک زیادہ مستند صورت میں پہنچائیں۔ اسی عزم کے ساتھ یہ تحریر آپ تک پہنچائی جا رہی ہے۔
— حافظ محمد اشرف کریمی