إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا ۔صحیح بخاری (1303)

اے مرے بھائی! کہاں جا کے بسایا ہے مکاں؟
وہ تجلّی نہ رہی جس سے تھا روشن یہ جہاں


سُوئے افلاک تِری رُوح نے پرواز کیا
ہم یہاں رہ گئے لاچار و غریب و بے اماں


قہقہوں کی تِری گونج اب بھی ہے دیواروں میں
تُو جدا ہم سے ہوا، رہ گئے حسرت ،ارماں


تھا تُو شاہینِ فلک، اوجِ ثریا پہ مکیں
خاک میں ہم ہیں پڑے، تیرے بنا بے ساماں


چشمِ گریاں ہے کہ جب نام ترا لیتے ہیں
اک ترِی مسندِ خالی پہ لگی ہے نگراں


تُو مسافر تھا مگر ایسا سفر تھا یہ ترا
تیری رخصت سے ہوئے گھر کے در و بام فغاں


تیرا کُرتا تو تِری یاد دلاتا ہے مجھے
مگر اب اس میں مہکتی نہیں خوشبوئے رواں


تیرے بن زیست بجز حزن و اَلَم کچھ بھی نہیں
ایک خالی سا مکاں، ایک بجھا شمعِ نشاں


دیکھ ماں کی یہ نگہ، اشک فگن رہتی ہے
باپ کی پشت ہوئی خم، نہ سہارا نہ اماں


ہم غم و درد کی گرداب میں ڈوبے ہیں مگر
لوٹ آنے کا ترے کوئی وسیلہ نہ نشاں


یا الٰہی! تُو ترے لطف سے اس پر کر رحم
خلدِ فردوس میں بخش اس کو مَہ و مِہرِ مکاں


صبر دے ہم کو، عطا کر تُو تسلی و رضا
ہم ترے حکمِ قضا پر رہیں راضی ہر آں


ہم رہیں یا نہ رہیں دہر میں اے جانِ جہاں
تیری یادوں کی ضیا دل میں رہے گی تاباں


اشک آنکھوں سے بہیں گے ترے غم میں ہمراز
تیری یادوں سے رہے گا مرا دل ہی شاداں


صبر کی مانگ دعا رب سے ہمیشہ حافظؔ
موت برحق ہے، یہاں کون رہا ہے تاباں

ادارتی نوٹ: شاعر روایہ کے مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی کی وفات پر کچھ جذبات کا اظہار کیا ہے جسے ان کی ذاتی علمی کاوش کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے اور روایہ کے ادارتی مواد سے الگ ہے۔

Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *