ادائیگیِ قرض کی دعا: ایک تخریجی و تحقیقی مطالعہ

میرے علم کے مطابق کسی بھی محدث نے اس حدیث کو ضعیف قرار نہیں دیا

حافظ بلال اشرف اعظمی

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، أخبرنا يحيى بن حسان، أخبرنا أبو معاوية، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن سيار، عن أبي وائل، عن علي رضي الله عنه أن مكاتباً جاءه فقال: إني قد عجزت عن كتابتي فأعني، قال: ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله ﷺ؟ لو كان عليك مثل جبل صبير دينا أداه الله عنك، قال: قل: ((اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ))[1]

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور اس نے کہا: میں مال معین کی ادائیگی سے عاجز و بے بس ہوگیا ہوں، میری مدد کیجئے، آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تجھ پر صبیر پہاڑ کے برابر قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی تجھ سے چکا دے گا، آپ نے فرمایا: کہو: ((اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ)) ”اے اللہ! مجھے حلال کے ذریعے حرام سے بے نیاز کردے اور مجھے اپنے فضل سے اپنے غیر سے بے پروا کردے۔“

اس کی سند حسن ہے، تفصیل درج ذیل ہے:

امام ترمذی رحمہ اللہ (م: 279ھ) اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: ”هذا حديث حسن غريب“ [2]

امام نووی، محمد بن عبد الواحد المقدسی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم، محمد بن مفلح المقدسی، ابو الفتح محمد بن علی، عبد العظیم المنذری، ابو الفضل زین الدین العراقی اور محمد بن علی الشوکانی نے اس حدیث کو اپنی کتب میں درج فرمایا ہے اور امام ترمذی کی تحسین کو برقرار رکھا ہے۔ [3]

امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”هذا حديث صحيح الإسناد“ [4]

امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”نتائج الأفکار“ میں فرمایا: ”حديث حسن غريب“ [5]

حافظ ابو الفضل زین الدین العراقی رحمہ اللہ (م: 806ھ) نے فرمایا: ”هذا حديث حسن“ [6]

تنبیہ: …… حافظ العراقی رحمہ اللہ کو راوی کی تعیین میں غلطی لگی ہے جیسا کہ کتاب کے محقق نے تنبیہ کی ہے۔

دور جدید کے محققین میں سے علامہ البانی رحمہ اللہ اور حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ [7]

نوٹ: …… یہ حقیقت ہے کہ کوئی انسان سہو سے محفوظ نہیں ہے۔ سبحان هو لا يسهو ولا ينسى۔ لیکن اس حدیث کے بارے میں محقق العصر مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی طرف سہو کی نسبت درست معلوم نہیں ہوتی۔ والله أعلم بحقيقة الحال۔

اس حدیث کی سند میں مشہور ضعیف راوی ابو شیبہ عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری، الکوفی الواسطی نہیں ہے بلکہ عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی ہے جو ثقہ عند الجمهور ہے، جس کی دو دلیلیں درج ذیل ہیں:

1: …… مسند الإمام أحمد، المستدرک على الصحيحين اور الأحاديث المختارة [8] میں عبد الرحمن بن اسحاق کے بعد ”القرشی“ کی وضاحت موجود ہے۔

2: …… محدثین کی تصریح و تحسین سے راوی کا تعین ہوگیا ہے، یعنی محدثین نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، بلکہ میرے علم کے مطابق کسی بھی محدث نے اس حدیث کو ضعیف قرار نہیں دیا، یعنی اس کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے۔

امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”واتفاق أهل الحديث على شيء يكون حجة“[9]

”محدثین کا کسی مسئلے میں اتفاق کرلینا حجت ہوتا ہے۔“

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”إذا اجتمع أهل الحديث على تصحيح حديث لم يکن إلا صدقاً“.

”جب تمام محدثین کسی حدیث کے صحیح ہونے پر اتفاق کرلیں تو ان کا موقف سچ ہی ہوتا ہے۔“ [10]

اگر اس کی سند میں مشہور ضعیف راوی ”عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الواسطی“ ہوتا تو محدثین ضرور اس کے بارے میں بیان کردیتے، پس محدثین کا اس حدیث کو صحیح قرار دینا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عند المحدثین اس سند میں ثقہ عند الجمهور ”عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی“ ہے، یعنی محدثین کی تصحیح اور تحسین راوی کے تعین میں مدد اور معاون ہے۔ [11]

ثابت ہوا کہ اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق سے مراد عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی ہے جو کہ ثقہ ہے۔ والحمد لله على ذلك۔

چند اعتراضات کا جواب:

اعتراض نمبر 1: …… عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی کے استادوں میں سیار ابی الحکم کا نام ملتا ہے، جب کہ عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی کے استادوں میں سیار ابی الحکم کا تذکرہ نہیں ہے، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی ہے، جو جمہور کے نزدیک ضعیف الحدیث ہے۔

جواب: …… اس شبہ کے پیدا ہونے کی دو وجہیں ہیں:

1: …… یہ دونوں راوی ایک ہی طبقہ کے ہیں۔

2: …… غالباً معترض نے صرف تهذيب التهذيب لابن حجر کو سامنے رکھا ہے، حالاں کہ جس طرح تهذيب التهذيب [12] میں ابن اسحاق الانصاری الکوفی کے اساتذہ میں سیار ابی الحکم کا نام ملتا ہے اور ابن اسحاق القرشی المدنی کے اساتذہ میں سیار ابی الحکم کا تذکرہ نہیں ہے، بالکل اسی طرح الجرح والتعديل لابن أبي حاتم [13] میں ابن اسحاق القرشی المدنی کے اساتذہ میں سیار ابی الحکم کا نام ملتا ہے اور ابن اسحاق الانصاری الکوفی کے اساتذہ میں سے سیار ابی الحکم کا تذکرہ نہیں ہے، پس معلوم ہوا کہ دونوں رواۃ (ابن اسحاق الکوفی اور ابن اسحاق القرشی المدنی) کے اساتذہ میں سیار ابی الحکم کا تذکرہ موجود ہے۔

بقول الدکتور بشار عواد ابو الحجاج یوسف بن عبد الرحمن المزی رحمہ اللہ (م: 742ھ) نے ابن اسحاق المدنی کے اساتذہ میں سیار ابی الحکم کے ذکر کو امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ (المتوفی: 327) کا وہم قرار دیا ہے۔ [14]

لیکن امام مزی رحمہ اللہ کا یہ دعویٰ چند وجوہات کی بنا پر درست معلوم نہیں ہوتا:

1: امام مزی رحمہ اللہ اس دعویٰ میں منفرد ہیں، جب کہ دیگر محدثین نے امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کی تائید کی ہے۔ [15]

2: دعویٰ کسی معتبر دلیل پر قائم نہیں ہے، لہٰذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

3: امام مزی متاخرین ائمہ حدیث میں سے ہیں، بلا دلیل ان کی بات قابل التفات نہیں ہوسکتی۔

4: اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔ [16]

اعتراض نمبر 2: …… عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی کے شاگردوں میں ابو معاویہ الضریر الکوفی کا نام ملتا ہے جب کہ عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی کے شاگردوں میں ابو معاویہ الضریر الکوفی کا تذکرہ نہیں ہے۔

جواب: …… ابن اسحاق القرشی المدنی اور ابو معاویہ الضریر کا زمانہ ایک ہے اور سماع ولقاء ممکن ہے، نیز کسی محدث نے دونوں کے سماع ولقاء کا انکار نہیں کیا اور یہی بات صحت سند کے لیے کافی ہے بلکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس اصول پر محدثین کرام رحمہم اللہ کا اجماع نقل کیا ہے کہ غیر مدلس راوی بصیغہ ”عن“ روایت کرے اور اپنے شیخ سے اس کا سماع ولقاء کی دلیل سے اگرچہ ثابت نہ ہو بلکہ امکان لقاء ہو تو روایت اتصال پر محمول ہوگی۔ [17]

لہٰذا ابو معاویہ کی ابن اسحاق القرشی المدنی سے روایت صحیح ہے اور شاگردوں میں ابو معاویہ کا تذکرہ نہ ملنا قطعاً مضر نہیں اور ویسے بھی کتب رجال وتراجم میں ایک راوی کے تمام اساتذہ اور تمام تلامذہ کا تذکرہ ناممکن ومحال ہے۔ محقق العصر حضرت مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ رقم طراز ہیں:

”کسی بھی راوی کے تمام شیوخ واساتذہ کا متداول کتب میں استیعاب نہیں اور نہ ہی ان کے مؤلفین نے اس کی صراحت کی ہے۔“ [18]

پس محدثین کی تصحیح اور عبد الرحمن بن اسحاق کے ساتھ ”القرشی“ کی وضاحت کے بعد اس اعتراض کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ متعدد محدثین نے عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی کے شاگردوں میں ابو معاویہ الضریر کا تذکرہ کیا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ابو معاویہ الضریر کا سماع ابن اسحاق المدنی سے قطعاً نہیں ہے، بالکل درست نہیں ہے اور معترض صاحب فارسی کے اس مصرع کا مصداق بنے ہوئے ہیں:

خود غلط بود آنچہ ما پنداشتیم

فائدہ: …… عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی کے تلامذہ میں کوفی اصحاب بھی شامل ہیں، دو کوفی تلامذہ درج ذیل ہیں:

1: ابو معاویہ محمد بن خازم الضریر الکوفی

2: ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الفزاری الکوفی

اعتراض نمبر 3: …… عبد الرحمن بن اسحاق کے بعد ”القرشی“ کی وضاحت کسی راوی کا وہم ہے۔

جواب: …… عبد الرحمن بن اسحاق کے بعد القرشی کی وضاحت کو کسی راوی کا وہم قرار دینا ایک خیالی اندازے کے سوا کچھ نہیں ہے، کیوں کہ ابو معاویہ الضریر کے دو شاگردوں یحییٰ بن یحییٰ التمیمی اور ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر الکوفی نے ابن اسحاق کے بعد القرشی کی وضاحت کو ذکر کیا ہے۔ [19]

اعتراض نمبر 4: …… کئی محدثین نے عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی کو بھی القرشی قرار دیا ہے۔ [20]

لہٰذا عبد الرحمن بن اسحاق کے ساتھ القرشی کی نسبت آنے سے اس کا المدنی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ پس عدم یقین کی بنا پر روایت ضعیف قرار پائے گی۔

جواب: …… اولاً: عموماً علمائے جرح وتعدیل کسی راوی کے ترجمہ کی ابتداء میں نام، کنیت اور نسبت وغیرہ کا تذکرہ کرتے ہیں، اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم دیکھیں تو (ترجمہ کی ابتداء میں) امام ابن عدی کے سوا کسی نے ابو شیبہ عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی کی نسبت ”القرشی“ ذکر نہیں کی، بلکہ تمام محدثین نے عبد الرحمن بن اسحاق المدنی کے ساتھ ”القرشی“ کی نسبت ذکر کی ہے، چناں چہ ابن اسحاق المدنی کی نسبت ”القرشی“ کی نسبت کے ساتھ معروف ومشہور ہے تو عبد الرحمن بن اسحاق المدنی کے ساتھ ”القرشی“ نسبت کی شہرت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عبد الرحمن بن اسحاق المدنی القرشی ہی ہے۔

ثانیاً: بعض محدثین کو عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی کے ساتھ القرشی کی نسبت ذکر کرنے میں سہو ہوا ہے، کیوں کہ دونوں رواۃ (ابن اسحاق الانصاری الکوفی اور ابن اسحاق القرشی المدنی) کا طبقہ، نام اور والد کا نام ایک جیسا ہے، ایسے مواقع میں وقوع سہو کوئی بعید بات نہیں ہے، کیوں کہ ذہن ایک راوی سے دوسرے راوی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے، اہل علم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں، نیز یہاں معاملہ نقل در نقل اور بلا تحقیق کا معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ ایک انصاری بلا دلیل کیسے قرشی ہوسکتا ہے؟

علامہ البانی رحمہ اللہ عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی کو القرشی قرار دینے کی تردید میں لکھتے ہیں:

”لکن وصفه بذلك في الإسناد وهم من الناسخ أو بعض الرواة“

”عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی کے ساتھ القرشی کی نسبت ذکر کرنا ناسخ یا بعض راویوں کا وہم ہے۔“

اور آخر میں نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”لتحرص على العلم الصحيح وتنجو من تقليد الرجال“

”صحیح علم پر توجہ دو اور رجال کی تقلید سے چھٹکارہ پاؤ۔“ [21]

الٰہی دیدۂ تحقیق دہ ہر یک مقلد را
چو عینک تابکے ہر سو بچشم دیگراں بیند

امام بیہقی رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی کے ساتھ القرشی کی نسبت ذکر کی، جس کا رد کرتے ہوئے حاشیے میں لکھتے ہیں:

”أبو شيبة هذا کوفي والقرشي هو عبد الرحمن بن إسحاق بن عبد الله رجل آخر کما صرح به صاحب التهذيب“[22]

امام محمد بن عیسیٰ ترمذی عبد الرحمن بن اسحاق العامری المدنی القرشی کو عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی سے الگ اور متمیز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”عبد الرحمن بن إسحاق هو القرشي“[23]

اگر عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی اور عبد الرحمن بن اسحاق المدنی دونوں ہی قرشی تھے تو امام ترمذی کے عبد الرحمن بن اسحاق کے بعد ”هو القرشی“ کہنے کا کوئی معنی ہی نہیں بنتا، پس ثابت ہوا کہ امام ترمذی کے نزدیک صرف ابن اسحاق المدنی ”القرشی“ تھا، ابن اسحاق الکوفی ”القرشی“ نہیں تھا۔

اعتراض نمبر 5: …… أطراف الغرائب والأفراد للإمام الدارقطني [24] میں لکھا ہے:

”غريب من حديث أبي وائل عن علي، تفرد به سيار أبو الحکم وتفرد به أبو شيبة عبد الرحمن بن إسحاق عن سيار“[25]

عبد الرحمن بن اسحاق کی کنیت ابو شیبہ لکھی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کی سند میں مشہور ضعیف راوی ابو شیبہ عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی الواسطی ہے۔

جواب: ……

ستعلم ليلى أي دين تداينت
وأي غريم للتقاضي غريمها

غرائب وافراد اہم فوائد پر مشتمل امام علی بن عمر دارقطنی کی ایک کتاب تھی جو مرتب انداز میں نہیں تھی، ظاہر بات ہے کہ ایسی کتاب سے استفادہ خاصا مشکل تھا، تبھی حافظ ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی (المتوفی: 507ھ) نے اسے اطراف کی ترتیب پر مرتب کیا جس کا نام أطراف الغرائب والأفراد ہے اور یہی مطبوع ومتداول ہے، اصل کتاب غیر مطبوع ہے۔

اس تمہید کے بعد اب اصل بات ملاحظہ فرمائیں کہ امام علی بن عمر دارقطنی (المتوفی: 385ھ) نے عبد الرحمن بن اسحاق القرشی المدنی (جس کا دوسرا نام عباد بن اسحاق ہے) اور عبد الرحمن بن اسحاق الانصاری الکوفی دونوں راویوں کو الگ الگ ذکر کیا ہے۔ [26] لیکن الغرائب والأفراد کے مرتب محمد بن طاہر المقدسی وہم کا شکار ہوئے کہ انھوں نے دونوں راویوں کو ایک ہی سمجھ لیا، جس کی دلیل یہ ہے کہ محمد بن طاہر المقدسی نے موضوع روایات کے بارے میں اپنی مستقل تصنیف ”معرفة التذکرة في الأحاديث الموضوعة“ میں [27] ”عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی کا دوسرا نام عباد بن اسحاق ذکر کیا ہے، جب کہ درست بات یہ ہے کہ ابن اسحاق المدنی کا دوسرا نام عباد بن اسحاق ہے، پس معلوم ہوا کہ دونوں راوی گڈمڈ ہوگئے اور انھوں نے دونوں کو ایک ہی سمجھ لیا اور کنیت ابو شیبہ ذکر کردی، اس لیے سند حدیث میں عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی الواسطی ہونے کی یہ دلیل محل نظر ہے، البتہ معترض صاحب کی یہ بات اس صورت میں کچھ قابل التفات ہوسکتی ہے کہ وہ یہ حوالہ امام دارقطنی کی اصل کتاب ”الأفراد والغرائب“ سے پیش فرمادیں اور اگر اصل کتاب غیر مطبوع یا مفقود ہے تو معترض صاحب اس کے دستیاب ہونے کا انتظار فرمائیں۔

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو مانگ کے لائے تھے چار دن

خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، اسے ضعیف قرار دینا بلا دلیل ہے اور درست نہیں ہے۔

حواشی و حوالہ جات

ادارتی نوٹ: حوالہ جات میں جلد، صفحہ اور حدیث کے اعداد اصل مضمون کے مطابق ہیں۔ جن مطبوعات کے ناشر، مقامِ اشاعت، سنِ اشاعت یا محقق کی تفصیلات اصل مضمون میں درج نہیں، ان کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ صفحات کی تعیین متعلقہ مطبوعہ نسخے کے مطابق ہے۔

[1] ترمذی، سنن الترمذی، حدیث: 3563۔ نیز دیکھئے: احمد بن حنبل، مسند الإمام أحمد، ج 1، ص 153، حدیث: 1319؛ حاکم، المستدرک على الصحيحين، ج 1، ص 538، حدیث: 1973؛ مقدسی، الأحاديث المختارة، ج 2، ص 117–118، احادیث: 489، 490؛ مسند البزار، ج 2، ص 185، حدیث: 563؛ احمد بن حنبل، فضائل الصحابة، احادیث: 1142، 1208؛ بیہقی، الدعوات الکبير، حدیث: 303؛ طبرانی، کتاب الدعاء، حدیث: 1042، وغیرہ۔
[2] ترمذی، سنن الترمذی، درسی نسخہ، ج 2، ص 673۔
[3] دیکھئے: نووی، الأذکار، ص 107؛ نووی، رياض الصالحين، ج 2، ص 158؛ مقدسی، العدة للکرب والشدة، ج 1، ص 56؛ ابن تیمیہ، الکلم الطيب، ج 1، ص 65؛ ابن قیم، الوابل الصيب، ص 309؛ محمد بن مفلح المقدسی، الآداب الشرعية، ج 1، ص 176؛ سلاح المؤمن في الذکر والدعاء، ج 1، ص 486؛ منذری، الترغيب والترهيب، ج 2، ص 380؛ عراقی، تخريج إحياء علوم الدين، رقم: 1117؛ شوکانی، تحفة الذاکرين بعدة الحصن الحصين، ج 1، ص 314۔
[4] حاکم، المستدرک على الصحيحين، ج 1، ص 538۔
[5] الفتوحات الربانية، ج 4، ص 29۔
[6] عراقی، قرة العين بالمسرة بوفاء الدين، ص 89۔
[7] البانی، سلسلة الأحاديث الصحيحة، حدیث: 266۔
[8] احمد بن حنبل، مسند الإمام أحمد، ج 1، ص 153؛ حاکم، المستدرک على الصحيحين، ج 1، ص 538؛ مقدسی، الأحاديث المختارة، ج 2، ص 117–118۔
[9] کتاب المراسيل، ص 192۔
[10] ابن تیمیہ، مجموع الفتاوی، ج 1، ص 10۔
[11] اس اصول کے لیے دیکھیں: بدیع الدین الراشدی، جلاء العينين بتخريج روايات البخاری في جزء رفع اليدين، ص 110۔
[12] ابن حجر، تهذيب التهذيب، ج 6، ص 136۔
[13] ابن ابی حاتم، الجرح والتعديل، ج 5، ص 212۔
[14] دیکھیں: مزی، تهذيب الکمال في أسماء الرجال، ج 16، ص 519–520۔
[15] دیکھیں: ابن عساکر، تاريخ دمشق، ج 34، ص 191۔
[16] دیکھیں: نور العينين في إثبات رفع اليدين، ص 59۔
[17] مسلم، صحیح مسلم، مقدمہ، ص 21 وما بعدہ۔
[18] ارشاد الحق اثری، مقالات، ج 3، ص 68۔
[19] دیکھیں: احمد بن حنبل، مسند الإمام أحمد، ج 1، ص 153؛ حاکم، المستدرک على الصحيحين، ج 1، ص 538۔
[20] دیکھیں: ابن عدی، الکامل في ضعفاء الرجال، ج 5، ص 495؛ بیہقی، السنن الکبری، ج 2، ص 136؛ حاکم، المستدرک على الصحيحين، حدیث: 3422؛ عراقی، طرح التثريب، ج 3، ص 247؛ ابن رجب، جامع العلوم والحکم، ص 12؛ محمد بن خلف، أخبار القضاة، ج 1، ص 359، وغیرہ۔
[21] البانی، سلسلة الأحاديث الصحيحة، حدیث: 266۔
[22] بیہقی، السنن الکبری، ج 2، ص 136۔ مزید دیکھیں: ابن رجب، جامع العلوم والحکم، تحقیق: احمد سالم، ص 12۔
[23] ترمذی، جامع الترمذی، تحقیق و شرح: احمد محمد شاکر، ج 1، ص 173۔
[24] أطراف الغرائب والأفراد، ج 1، ص 302۔
[25] أطراف الغرائب والأفراد، ج 1، ص 302۔
[26] دارقطنی، الضعفاء والمتروکين، ج 1، ص 275–276۔
[27] محمد بن طاہر المقدسی، معرفة التذکرة في الأحاديث الموضوعة، ج 1، ص 161۔

ادارتی نوٹ: مصنف روایہ کے مدیرِ شعبۂ حدیث و علومِ حدیث ہیں۔ یہ مضمون ان کی ذاتی علمی کاوش کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے اور روایہ کے ادارتی مواد سے الگ ہے۔

Editorial Note: The author serves as Section Editor of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *