ثقہ راویوں کی مخالفت سے عللِ حدیث کی شناخت

قسط دوم: مخالفت کے ذریعے تعلیل کی اقسام اور ان کے حدیثی احکام

اصل مصنف: ایاد عودہ علیوی

اردو پیش کش و تحقیقی تعلیقات: روایہ — عالمی علمی تحقیقات

تمہید

علمِ عللِ حدیث میں روایات کے باہمی اختلافات کی تحقیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ محدثین کسی روایت کے مختلف طرق جمع کرکے یہ معلوم کرتے ہیں کہ اختلاف کہاں پیدا ہوا، اس کے ذمہ دار راوی کون ہیں اور آیا اس اختلاف سے حدیث کی صحت متاثر ہوتی ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے راویوں کی عدالت و ضبط، متعلقہ شیوخ سے ان کا اختصاص اور روایت کے مختلف متون و اسانید کا تقابل کیا جاتا ہے۔

مخالفت کی تمام صورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کبھی ایک ثقہ راوی دوسرے ثقہ راویوں کے خلاف روایت بیان کرتا ہے، کبھی راوی کا فتویٰ اس کی اپنی روایت کے ظاہر سے مختلف ہوتا ہے، کبھی ایک ہی حدیث مرفوع اور موقوف دونوں صورتوں میں منقول ہوتی ہے، اور کبھی موصول و مرسل اسانید کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ ان صورتوں کے احکام اور ان میں ترجیح کے اصول الگ الگ تحقیق کے محتاج ہیں۔

اول: ثقہ راوی کی دوسرے ثقہ راویوں سے مخالفت

ثقہ راوی کی دوسرے ثقہ راویوں سے مخالفت علمِ علل کی اہم صورتوں میں سے ہے۔ اس میں ایک راوی حدیث کو کسی خاص سند یا متن کے ساتھ نقل کرتا ہے، جبکہ دوسرے قابلِ اعتماد راوی اسی حدیث کو مختلف صورت میں بیان کرتے ہیں۔

ایسی صورت میں کسی ایک راوی کی عمومی ثقاہت کافی نہیں ہوتی، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ متعلقہ روایت میں کس راوی کا ضبط زیادہ مضبوط ہے، کس کو اپنے شیخ کی روایات سے زیادہ واقفیت حاصل ہے اور کس صورت کی تائید دوسرے معتبر طرق سے ہوتی ہے۔

اگر تقابلی تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ ایک راوی نے دوسرے زیادہ مضبوط راویوں کی مخالفت میں غلطی کی ہے تو اس کی مخصوص روایت کو مرجوح قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم محض اختلاف کا وجود کسی روایت کو معلول ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

مخالفت سے متعلق چند اصطلاحات

مدرج: ایسی روایت جس میں اصل حدیث کے ساتھ کوئی زائد کلام اس انداز سے شامل ہوجائے کہ وہ حدیث ہی کا حصہ معلوم ہو۔ ادراج کی شناخت میں مختلف طرق کا تقابل اہم کردار ادا کرتا ہے۔

المزيد في متصل الأسانيد: ایسی صورت جس میں ایک بظاہر متصل سند کے مقابلے میں دوسری سند میں کسی اضافی راوی کا ذکر ہو۔ اس اضافے کا حکم متعلقہ سماع اور دوسرے نقدی قرائن کی بنیاد پر متعین کیا جاتا ہے۔

مقلوب: وہ روایت جس کی سند یا متن میں کسی نام، لفظ یا ترتیب کو دوسری صورت میں تبدیل کردیا گیا ہو۔

مضطرب: ایسی روایت جس کی مختلف صورتوں میں مؤثر اختلاف ہو اور معتبر تحقیق کے باوجود ان کے درمیان جمع یا کسی ایک کی ترجیح ممکن نہ ہو۔

مصحف: ایسی روایت جس میں کسی لفظ یا نام کی کتابت یا قراءت کی غلطی سے تبدیلی واقع ہوئی ہو۔

ان اصطلاحات کے تحت آنے والی ہر روایت کا حکم یکساں نہیں۔ بعض اختلافات غیر مؤثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض روایت کی محفوظ صورت متعین کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

دوم: راوی کا اپنی روایت کے خلاف فتویٰ دینا

مخالفت کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی راوی ایک حدیث نقل کرے، لیکن اس کا اپنا فتویٰ یا عمل بظاہر اس حدیث کے خلاف ہو۔ اس مسئلے کا تعلق روایت کی صحت کے ساتھ اس کی دلالت اور فقہی تعبیر سے بھی ہے۔

اگر راوی کا مخالف فتویٰ حدیث کے علم سے پہلے کا ہو تو یہ احتمال موجود ہے کہ حدیث معلوم ہونے کے بعد اس نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرلیا ہو۔ اسی طرح اگر فتویٰ حدیث کے سماع کے بعد کا ہو تب بھی ضروری نہیں کہ راوی نے حدیث کو ناقابلِ اعتماد سمجھا ہو۔ ممکن ہے اس نے کسی دوسری دلیل، تخصیص، تاویل یا اجتہادی بنیاد پر فتویٰ دیا ہو۔

اس لیے راوی کے فتویٰ اور اس کی روایت میں اختلاف کو محض سندی غلطی کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس مسئلے میں حدیث کا ثبوت، اس کی دلالت اور راوی کے فقہی موقف کا تاریخی پس منظر الگ الگ تحقیق کے محتاج ہیں۔

سوم: مرفوع اور موقوف روایت کا اختلاف

مرفوع اور موقوف کے اختلاف میں ایک ہی حدیث بعض راوی رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے صحابی کے قول یا عمل کے طور پر نقل کرتے ہیں۔

مرفوع روایت

اہلِ سنت کی معروف اصطلاح میں مرفوع وہ روایت ہے جس میں کوئی قول، فعل، تقریر یا صفت رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہو، خواہ اس کی سند متصل ہو یا منقطع۔

موقوف روایت

موقوف وہ روایت ہے جس کی نسبت کسی صحابی کی طرف ہو اور اسے رسول اللہ ﷺ تک مرفوع نہ کیا گیا ہو۔

رفع اور وقف میں ترجیح

جب ایک ہی روایت مرفوع اور موقوف دونوں صورتوں میں منقول ہو تو اس کے حکم میں مختلف علمی آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض اہلِ علم رفع کو ایک اضافی نسبت سمجھتے ہوئے اس کے قبول کرنے کی گنجائش بیان کرتے ہیں، جبکہ دوسرے ناقدین روایت کے تمام طرق اور متعلقہ قرائن کا تقابل کرکے فیصلہ کرتے ہیں۔

بعض اوقات صحابی ایک مضمون کو رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کے ساتھ بیان کرتا ہے اور کبھی اسی مضمون کو اپنے فتویٰ کی صورت میں نقل کرتا ہے۔ ایسی صورت میں رفع و وقف کا ظاہری اختلاف لازماً غلطی کی دلیل نہیں ہوتا۔

دوسری طرف اگر معتبر قرائن سے ثابت ہوجائے کہ کسی راوی نے صحابی کے قول کو غلطی سے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردیا ہے تو موقوف صورت زیادہ محفوظ قرار پاسکتی ہے۔

اس بحث کا بنیادی اصول یہ ہے کہ رفع کو ہر حالت میں وقف پر ترجیح دینے یا وقف کو ہمیشہ زیادہ محفوظ سمجھنے کا کوئی غیر مشروط قاعدہ درست نہیں۔ فیصلہ روایت کے مخصوص شواہد پر منحصر ہے۔

چہارم: موصول اور مرسل روایت کا اختلاف

مخالفت کی ایک اہم صورت وہ ہے جس میں بعض راوی حدیث کو متصل سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اسی حدیث کو ارسال کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔

موصول روایت

موصول وہ روایت ہے جس کی سند اپنے منسوب الیہ تک متصل ہو اور اس میں متعلقہ راویوں کے درمیان روایت کے حصول کا اتصال ثابت ہو۔

مرسل روایت

اہلِ سنت کی معروف اصطلاح میں مرسل وہ روایت ہے جس میں تابعی رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست حدیث نقل کرے اور درمیان میں صحابی کا ذکر نہ کرے۔

مرسل روایت کی حجیت کے بارے میں محدثین اور فقہاء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ بعض فقہی مکاتب مخصوص شرائط کے ساتھ مرسل روایت سے استدلال کرتے ہیں، جبکہ متعدد محدثین اتصالِ سند کے فقدان کو اس کی صحت میں مؤثر سمجھتے ہیں۔

موصول اور مرسل کے اختلاف میں ترجیح کے اقوال

پہلا قول: موصول کو ترجیح۔ اس موقف کے مطابق ثقہ راوی کی طرف سے سند کو متصل بیان کرنا ایک قابلِ قبول اضافہ ہوسکتا ہے، بشرطیکہ متعلقہ قرائن اس کی تائید کریں۔

دوسرا قول: مرسل کو ترجیح۔ بعض حالات میں ارسال زیادہ محفوظ ثابت ہوتا ہے، خصوصاً جب مضبوط راویوں کی روایت یا دوسرے شواہد اس کی تائید کریں۔

تیسرا قول: احفظ راوی کو ترجیح۔ اس موقف میں اصل معیار اتصال یا ارسال کی ظاہری صورت نہیں، بلکہ متعلقہ راویوں کے حفظ اور ضبط کی قوت ہے۔

چوتھا قول: کثرتِ رواۃ کو ترجیح کا قرینہ بنانا۔ جب زیادہ معتبر راوی ایک صورت پر متفق ہوں تو ان کی موافقت ترجیح کا سبب بن سکتی ہے، اگرچہ عددی کثرت ہر حالت میں فیصلہ کن نہیں۔

پانچواں قول: تساوی اور توقف۔ جب دونوں صورتوں کے متعلق شواہد میں ایسی برابری ہو کہ کسی ایک کو ترجیح دینا ممکن نہ ہو تو حکم میں توقف اختیار کیا جاسکتا ہے۔

ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ وصل و ارسال کا اختلاف محض ایک عمومی قاعدے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ ہر روایت کے مخصوص طرق، راویوں کے مراتب اور دوسرے نقدی قرائن کی تحقیق ضروری ہے۔

حاصلِ بحث

مخالفت کے ذریعے تعلیل کی مختلف صورتیں حدیثی نقد کی وسعت اور دقت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ثقہ راوی کی دوسرے ثقہ راویوں سے مخالفت، راوی کا اپنی روایت کے خلاف فتویٰ، مرفوع و موقوف کا اختلاف اور موصول و مرسل اسانید کا تعارض بظاہر ایک دوسرے سے متعلق ہیں، لیکن ان میں سے ہر صورت کا الگ علمی حکم ہے۔

ان اختلافات کی تحقیق میں محض سند کے ظاہری اتصال، راویوں کی تعداد یا عمومی ثقاہت پر اکتفا نہیں کیا جاتا، بلکہ مختلف شواہد کے مجموعے سے روایت کی محفوظ صورت متعین کی جاتی ہے۔ یہی منہج علمِ علل کو حدیثی تحقیق کا ایک دقیق اور مستقل شعبہ بناتا ہے۔

روایہ کی تحقیقی تعلیقات

تعلیق ۵ — مخالفت اور علت: ہر مخالفت علتِ قادحہ نہیں ہوتی۔ مخالفت کا مؤثر ہونا معتبر نقدی قرائن سے ثابت ہونا ضروری ہے۔

تعلیق ۶ — ادراج: کسی روایت میں زائد عبارت کی موجودگی بذاتِ خود ادراج کا ثبوت نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ عبارت اصل حدیث کا حصہ ہے یا کسی راوی کی توضیح۔

تعلیق ۷ — اضطراب: روایت کے مختلف طرق میں اختلاف کے باوجود اگر معتبر جمع یا ترجیح ممکن ہو تو اصطلاحی اضطراب کا حکم لگانا درست نہیں۔

تعلیق ۸ — راوی کا فتویٰ: راوی کا اپنی روایت کے خلاف فتویٰ دینا ایک اصولی اور فقہی مسئلہ بھی ہے۔ اسے براہِ راست روایت میں سندی غلطی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

تعلیق ۹ — رفع و وقف: رفع اور وقف میں ترجیح روایت کے مخصوص طرق اور قرائن سے متعین ہوتی ہے۔ کسی ایک صورت کو ہر حالت میں ترجیح دینا درست نہیں۔

تعلیق ۱۰ — مرسل روایت: مرسل روایت سے مخصوص شرائط کے ساتھ فقہی استدلال اور اس کی سند کو اصطلاحی اعتبار سے متصل قرار دینا دو الگ امور ہیں۔

تعلیق ۱۱ — تساوی اور توقف: ترجیح کے لیے کافی قرائن نہ ہونے کی صورت میں توقف ایک علمی موقف ہے۔ اس سے دونوں روایات کی قطعی صحت لازم نہیں آتی۔

تعلیق ۱۲ — اصطلاحی تنوع: اہلِ سنت اور امامیہ کے ہاں مرفوع، موقوف، مرسل اور متعلقہ اصطلاحات کے بعض استعمالات مختلف ہوسکتے ہیں۔ تقابلی تحقیق میں ہر اصطلاح کو اس کے متعلقہ علمی سیاق میں سمجھنا ضروری ہے۔

اصل ماخذ اور اشاعتی وضاحت

یہ تحریر ایاد عودہ علیوی کے عربی مقالے کے صفحات ۳۳۸–۳۴۳ میں زیرِ بحث موضوعات کی توضیحی اردو پیش کش ہے، لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں۔ روایہ کی تحقیقی تعلیقات مستقل مدیرانہ توضیحات ہیں اور اصل مصنف کی عبارت کا حصہ نہیں۔

اصل مقالے کے علمی استناد کے لیے بنیادی عربی متن سے رجوع ضروری ہے۔

Aliwi, I. A. (2026). Manhaj al-muhaddithin fi kashf al-‘ilal bi-mukhalafat al-thiqat: Dirasah muqaranah. Middle East Journal for Legal and Jurisprudential Studies, 6(3), 331–357.

https://doi.org/10.56961/mejljs.v6i3.1649

Original publication: CC BY 4.0. Urdu explanatory adaptation with independent editorial annotations.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *