دریاؤں کا سنگم: تفسیر «روح المعانی» پر ایک تبصرہ

کتاب اور مصنف

روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، از: علامہ شہاب الدین ابو الثناء سید محمود آلوسی بغدادی (۱۲۱۷–۱۲۷۰ھ / ۱۸۰۲–۱۸۵۴ء)۔ عام مطبوعہ نسخوں میں تیس اجزاء۔

«روح المعانی» تفسیری ادب کی اس طویل روایت کا آخری بڑا سنگِ میل ہے جو طبری سے شروع ہو کر زمخشری، رازی، بیضاوی اور ابو السعود تک پہنچتی ہے۔ جدید دور سے پہلے کی اس آخری عظیم جامع تفسیر نے گزشتہ بارہ صدیوں کے علمی سرمایے کو ایک جگہ سمیٹ دیا۔

علامہ آلوسی بغداد کے نامور علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس نے بعد میں نعمان خیر الدین آلوسی اور محمود شکری آلوسی جیسے اہلِ علم پیدا کیے۔ آپ ابتداءً شافعی المسلک تھے، پھر بغداد کے حنفی مفتی کے منصب پر فائز ہوئے۔ سلوک میں مولانا خالد شہرزوری نقشبندی سے تعلق معروف ہے۔

تفسیر کی تالیف میں پندرہ برس کے لگ بھگ لگے، اور مشہور روایت کے مطابق بارہویں صدی ہجری کے نصفِ ثانی کے اوائل میں یہ مکمل ہوئی۔ مصنف نے اسے استنبول کے سفر میں عثمانی دربار میں پیش کیا، جس کی روداد ان کے سفرناموں «نشوة الشمول» اور «نشوة المدام» میں محفوظ ہے۔

منہج و اسلوب

آلوسی کا منہج تفسیر بالمأثور اور تفسیر بالرأیِ محمود کا امتزاج ہے۔ شیخ محمد حسین ذہبی نے «التفسير والمفسرون» میں اسے رائےِ محمود کی تفاسیر میں شمار کیا ہے، اور یہ درجہ بندی مجموعی طور پر درست ہے۔

ہر آیت کے ذیل میں عموماً ایک مرتب ترتیب نظر آتی ہے:

  1. لغوی تحقیق اور مفردات کی اشتقاقی بحث۔
  2. نحوی ترکیب اور اعراب کے مختلف احتمالات، اکثر ابو حیان اور سمین حلبی کی سطح پر۔
  3. بلاغی نکات، جن میں زمخشری اور ابو السعود کا اثر واضح ہے۔
  4. متواتر و شاذ قراءات اور ان کی توجیہ۔
  5. مأثور روایات، اسبابِ نزول اور اقوالِ صحابہ و تابعین۔
  6. فقہی احکام، جن میں مذاہبِ اربعہ کا ذکر اور فقہِ حنفی کی طرف میلان۔
  7. کلامی مباحث، جن میں اشاعرہ و ماتریدیہ کی تائید اور معتزلہ و دیگر فرقوں پر رد۔
  8. آخر میں «ومن باب الإشارة» کے عنوان سے صوفیانہ نکات۔

اسلوب کے اعتبار سے آلوسی ایک ناقد جامع ہیں، محض ناقل نہیں۔ وہ اقوال نقل کر کے اکثر «والذي أميل إليه» یا «والحق» کہہ کر اپنی ترجیح دیتے ہیں، اور بارہا اپنے بڑوں پر بھی تعقب کرتے ہیں۔ زبان متین اور دقیق ہے، جو مبتدی کے لیے بوجھل مگر منتہی کے لیے لذیذ ہے۔

مصادر و ماخذ

«روح المعانی» کی اصل قوت اس کے مصادر کی وسعت ہے۔ آلوسی کے بنیادی ماخذ یہ نظر آتے ہیں: زمخشری کی «الكشاف»، رازی کی «مفاتيح الغيب»، بیضاوی کی «أنوار التنزيل»، ابو السعود کی «إرشاد العقل السليم»، ابن عطیہ کی «المحرر الوجيز» اور ابو حیان کی «البحر المحيط»۔

ان کے علاوہ کتبِ حدیث و شروح، لغت کی امہات، نحو کے متون اور صوفیاء کی تصانیف سے بھی کثیر نقول ہیں۔ یوں یہ تفسیر ایک طرح سے پورے تفسیری کتب خانے کا خلاصہ بن جاتی ہے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بعض مقامات پر مصنف کی اپنی آواز نقول کے انبار میں دب جاتی ہے۔ محقق قاری کو یہ پہچاننے کے لیے کہ کون سی عبارت آلوسی کی ہے اور کون سی منقول، اکثر اصل مصادر سے موازنہ کرنا پڑتا ہے۔

تفسیرِ اشاری

روح المعانی کا سب سے ممتاز اور سب سے زیادہ زیرِ بحث پہلو اس کا اشاری حصہ ہے۔ ظاہری تفسیر مکمل کرنے کے بعد مصنف «ومن باب الإشارة في الآيات» کے عنوان سے سلوکی و روحانی نکات بیان کرتے ہیں۔

ان کا اہم اصولی موقف یہ ہے کہ اشارہ ظاہرِ معنی کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس پر اضافہ ہے۔ اسی لیے وہ باطنیہ کی اس تاویل کا رد کرتے ہیں جو ظاہرِ شرع کو معطل کردے، اور اشاری تفسیر کو اصل تفسیر سے الگ عنوان میں رکھ کر قاری کو التباس سے بچاتے ہیں۔

ان نکات میں ابن عربی، قشیری اور دیگر صوفیاء کے اقوال بھی آتے ہیں۔ اس حصے کی قدر و قیمت پر اہلِ علم کی رائیں مختلف ہیں: اہلِ تصوف اسے اس تفسیر کی روح قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض ناقدین اسے تفسیر کے بجائے ذوقی استنباط مانتے ہیں جس کی حجیت محدود ہے۔

امتیازات

اوّل، جامعیت۔ ایک ہی کتاب میں لغت، نحو، بلاغت، قراءات، فقہ، کلام اور تصوف کا ایسا اجتماع کم دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی لیے بعض اہلِ علم اسے ایک تفسیری دائرۃ معارف کہتے ہیں۔

دوم، تنقیدی شعور۔ آلوسی اسرائیلی روایات اور بے بنیاد قصوں پر بالعموم نقد کرتے ہیں اور بعض روایات کے موضوع یا ضعیف ہونے کی صراحت کرتے ہیں۔ یہ وصف انہیں بہت سی متأخر تفاسیر سے ممتاز کرتا ہے۔

سوم، اثر و نفوذ۔ بعد کی تفاسیر، بالخصوص برصغیر کی اردو تفاسیر میں روح المعانی ایک اہم مرجع رہی ہے، مثلاً مفتی محمد شفیع کی «معارف القرآن» میں اس کے حوالے کثرت سے ملتے ہیں۔ دینی مدارس میں منتہی درجے کے طلبہ اور مدرّسین کے لیے یہ ایک بنیادی مطالعاتی کتاب ہے۔

چہارم، اعتدال۔ مصنف عقل اور نقل، ظاہر اور باطن، فقہ اور تصوف کو ایک دوسرے کا حریف نہیں، بلکہ معاون بناکر پیش کرتے ہیں۔

تنقیدی ملاحظات

اوّل، حدیثی تخریج کی کمی۔ آلوسی اکثر روایات کو بغیر سند اور بغیر حکم کے نقل کرتے ہیں، اور بعض جگہ ضعیف بلکہ منکر روایات بھی در آتی ہیں۔ اصولِ حدیث کے معیار پر اس تفسیر کے مرویات کی مستقل تخریج ابھی تک ایک اہم علمی ضرورت ہے۔

دوم، نقول کی کثرت۔ مصادر کی وسعت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بعض مباحث طوالت کا شکار ہو جاتے ہیں، اور بعض اوقات نقل کا حوالہ واضح نہیں ہوتا۔

سوم، کلامی و مسلکی رجحان۔ صفاتِ باری تعالی، توسل اور بعض دیگر مسائل میں مصنف کے موقف کو مختلف مکاتبِ فکر نے مختلف زاویوں سے دیکھا ہے۔ یہ بحث بھی موجود ہے کہ بعض مقامات پر طباعت کے وقت مصنف کے صاحبزادے نعمان آلوسی کی تصرف کا اثر ہے، جس کا حتمی فیصلہ مخطوطات کے موازنے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

چہارم، اشاری حصے کی حدود۔ اگرچہ مصنف نے اشارہ اور تفسیر میں فرق قائم رکھا ہے، تاہم بعض اشارات لفظِ قرآنی سے بہت دور جا پڑتے ہیں اور عام قاری کے لیے اشتباہ کا باعث بن سکتے ہیں۔

پنجم، طباعت کا مسئلہ۔ قدیم بولاقی اور بعد کی اشاعتیں متن کی غلطیوں سے خالی نہیں۔ جدید محقق طبعات نے صورتِ حال بہتر کی ہے، لیکن مخطوطات کی بنیاد پر ایک معیاری تحقیقی اشاعت کی ضرورت باقی ہے۔

مجموعی رائے

«روح المعانی» علمِ تفسیر کی ان چند کتابوں میں سے ہے جن کے بغیر کوئی سنجیدہ تفسیری تحقیق مکمل نہیں ہوتی۔ یہ ایک طرف سابقہ تفاسیر کا نچوڑ ہے اور دوسری طرف ایک ناقد عالم کی اپنی ترجیحات کا آئینہ۔

محقق کے لیے اس کی اصل قدر اس کی لغوی، نحوی اور بلاغی تحقیقات میں ہے۔ البتہ اس کی مرویات کو اصل مصادرِ حدیث سے پرکھے بغیر دلیل بنانا درست نہیں، اور اشاری حصے کو تفسیر کے بجائے ذوقی استنباط کے درجے میں رکھنا چاہیے۔

تجویز: یہ تفسیر منتہی طلبہ، مدرّسین اور محققین کے لیے ناگزیر ہے۔ اردو میں اس کی مرویات کی تخریج کے ساتھ ایک مستند تلخیص یا انتخاب کی تیاری ایک قیمتی علمی خدمت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *