سوامی

کہتا ہے مجھے ہند کے شملے کا سوامی

کیوں تجھ میں نظر آتی ہے کردار کی خامی؟

معبود ترا ایک ہے، باطل ہیں خدا سب

چھوڑی نہ مگر تو نے فرنگی کی غلامی!

پوشاک بھی اغیار کی، افکار بھی ان کے

باقی نہ رہی تجھ میں وہ تہذیبِ گرامی

شاہیں تھا، مگر چھوڑ دی پرواز فلک کی

زاغوں کی روش کا تو ہوا آج سے حامی

فرعون کے دربار میں جو حق کا علم تھا

اب تجھ میں کہاں جرأتِ گفتارِ پیامی

اب طور کی حاجت ہے نہ جلووں کی تمنا

سجدوں میں نہیں تیرے وہ اخلاصِ دوامی

دل دھلتا ہے گر اشک بہائے کوئی شب کو

مٹ جاتا ہے ہر داغِ گنہ، ہو کوئی نامی

تسلیم کا سر خم ہو جو فرمانِ نبیؐ پر

چھٹ جائے گی خود غیر کی چوکھٹ کی سلامی

سن لے یہ نوائے دلِ پُرسوز، اے ہمرازؔ!

ہو جائے بسر عمر اطاعت میں تمامی

Hamraz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *