سوانح حیات سید محمد شریف گھڑیالویؒ ایک نظر میں

سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ (وفات: 1944ء) کے سوانح حیات پر مشتمل کتاب جولائی 2026ء کو دار ابی الطیب گوجرانوالہ سے شائع ہوئی۔ کتاب کے 176 صفحات ہیں۔ آغاز میں دار ابی الطیب کے ڈائریکٹر جناب عارف جاوید محمدی حفظہ اللہ کا رقم کردہ ’’عرض ناشر‘‘ ہے جو دو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد دس صفحات پر مشتمل پیش لفظ ہے، جو جناب سید طارق جاوید مشہدی صاحب کی قلمی خیرات ہے، جس میں انہوں نے بڑے خوبصورت اور جامع انداز میں مشہدی گھڑیالوی خاندان کا تعارف پیش کیا ہے۔

راقم الحروف کا سلسلۂ تلمذ بھی مشہدی خاندان سے جڑا ہوا ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے کہ مجھے سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ کے بھائی سید عطا محمد کٹھیالوی رحمہ اللہ کے پوتے فضیلۃ الشیخ سید ارشد مشہدی حفظہ اللہ کے سامنے کچھ عرصہ زانوئے تلمذ تہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ آپ طویل عرصہ ’’مدرسہ سلفیہ‘‘ دوکوٹہ، تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی میں منصبِ تدریس پر فائز رہے ہیں۔ میرے والد گرامی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد اشرف رحمہ اللہ (وفات: 2022ء) بھی تقریباً دس سال اس مدرسہ میں استاذ الحدیث رہے۔ شیخین میں بڑی محبت و احترام کا رشتہ قائم تھا۔

اس کے بعد 116 صفحات پر مشتمل متنِ کتاب ہے جو سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ کے بیٹے سید محمد اسماعیل مشہدی رحمہ اللہ (وفات: 1960ء) کے رشحاتِ قلم ہیں۔ انہوں نے اپنے والد بزرگوار سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے، سوانح حیات اور دینی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ اسی طرح ان کی امانت و دیانت، اخلاق و کردار اور زہد و ورع کے حیران کن اور بڑے مؤثر واقعات بیان کیے ہیں، جو اس ربط و ضبط سے کسی اور جگہ قارئین کو پڑھنے کو نہیں ملیں گے۔

سید محمد اسماعیل مشہدی رحمہ اللہ اکثر واقعات کے چشم دید گواہ تھے اور جو واقعات انہوں نے دیگر احباب سے ذکر کیے ہیں ان کی مکمل تفصیل لکھی ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر رقم طراز ہیں:

’’مولانا محمد یوسف صاحب بن مولوی امام دین صاحب مرحوم (بھکیاں والا حال ساکن بستی مومن آباد لائل پور شہر) سے روایت ہے، ان سے ان کے والد صاحب مولوی امام دین صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور شاہ صاحب اکٹھے کھانا کھانے بیٹھے، سالن ختم ہوتا دیکھ کر میں نے صاحب خانہ سے اور سالن لانے کو کہا، شاہ صاحب نے فوراً کھانا ترک کر دیا اور باہر آکر فرمایا: اگر ان کے گھر میں اور سالن نہ ہوتا تو کیا کرتے، آئندہ یاد رکھو! جتنا سالن ملے اتنے میں اکتفا کرو۔ مولوی صاحب مذکور نے ساری عمر اس نصیحت کو پلے باندھے رکھا۔‘‘

(سوانح حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی، ص: 123)

سید محمد اسماعیل مشہدی کشفِ اولیاء کے قائل تھے اور اس سلسلہ میں انہوں نے نفسِ مسئلہ کو نکھارنے کی پوری کوشش کی ہے۔ چنانچہ اپنے والد بزرگوار سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ کی کرامات کا تذکرہ کرنے سے پہلے رقم طراز ہیں:

’’پیغمبران علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ معجزات عطا فرماتا رہا ہے اور بنی آدم کی اکثر یہ عادت رہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اپنا رسول ہونا ظاہر فرماتے تھے وہ معجزہ طلب کرتے تھے، یعنی ایسی چیز دکھاؤ جو بظاہر ناممکن ہو، تعجب انگیز ہو اور عام آدمیوں سے اس کا صدور و ظہور محال ہو۔ پیغمبران علیہم السلام سے ایسی خلافِ عادت اشیاء کے ظہور کو معجزہ یا آیت کا نام دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾
(الرعد: 38)

اور کسی رسول کو یہ اختیار نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی (معجزہ) لائے مگر اللہ کے اذن سے۔

یعنی کسی رسول اور نبی سے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی آیت، نشانی یا معجزہ دکھا سکے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ پیغمبران علیہم السلام اپنے آپ معجزہ نہیں دکھاتے رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ایسا ہوتا رہا ہے۔ پیغمبران علیہم السلام کے مومنین صادقین اور پورے متبعین کو اصطلاحِ شرع میں اولیاء اللہ کہا گیا ہے اور ان سے کسی عجیب چیز کے ظاہر ہو جانے کو کرامت کا نام دیا گیا ہے اور جس طرح انبیاء اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر معجزات دکھانے پر قادر نہ تھے ٹھیک اسی طرح اولیاء اللہ بھی اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر کرامات دکھانے سے قاصر ہیں۔

اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے کسی دوست پر مخفی چیز ظاہر کر دے تو ممکن ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو قریب پڑی شے کا بھی علم نہیں ہو سکتا۔ اولیاء کرام کی کرامات پیغمبران علیہم السلام کے معجزات کی دلیل ہیں، پس کرامات اولیاء کے بس میں نہیں ہوتیں، اور یہ بھی نہیں کہ ہر وقت ان سے ظاہر ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے اذن و ارادہ کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی جب نورِ ایمان دل میں تیزی سے چمکتا ہے تب اولیاء اللہ کو سوجھتی ہے کہ اب اس وقت دعا قبول ہوگی، چنانچہ وہ دعا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے اور حیران کن چیز ظاہر ہو جاتی ہے۔

بعض دفعہ دل میں پیدا شدہ نور کا تعلق آنکھوں کے ساتھ بہت مضبوط ہو جاتا ہے اور جس طرح بجلی کا سوئچ دبانے سے قمقمہ میں روشنی آجاتی ہے اسی طرح اس نور کا کچھ حصہ باذنِ خدا آنکھوں میں آجاتا ہے، اور پس پردہ اور تہِ خاک کی چیزیں نظر آجاتی ہیں، اس کو ’’کشف‘‘ کہتے ہیں اور یہ کرامات ہی کی ایک قسم ہے۔‘‘

(سوانح حیات حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی، ص: 78–79)

سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ کا تحریر کردہ سفرِ حج کی روداد پر مشتمل مضمون کتاب میں شامل کیا گیا ہے، جو پہلے ماہنامہ ’’البدر‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ نے اپنے تین حج کی روداد بیان کی ہے جس سے حکومتِ حجاز کے تین ادوار (ترکی، شریفی اور سعودی) کا فرق واضح ہوتا ہے، اور پڑھنے والے کی زبان سے بے ساختہ خدامِ حرمین آل سعود کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔

کتاب کے آخر میں مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کا مقالہ بھی شاملِ اشاعت کیا گیا ہے جو مشہدی گھڑیالوی خاندان کے بارے میں اضافی اور مفید معلومات پر مشتمل ہے۔ مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ایک مقام پر رقم طراز ہیں:

’’عام عورتوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ بچوں سے کہنا کتا آیا، بلا آیا وغیرہ، شاہ صاحب کے نزدیک یہ عادت بے حد ناپسند تھی، اس میں پہلی بات تو یہ تھی کہ یہ جھوٹ ہے، دوسری یہ کہ بچوں کو یہ کہہ کر دھوکے میں مبتلا کرنا ہے، تیسری انہیں بزدل بنانا ہے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالنا ہے کہ اللہ کے سوا بھی کس سے ڈرا جا سکتا ہے، حالانکہ یہ بات غلط ہے، ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہیے نہ کہ کسی اور سے۔‘‘

(سوانح حیات حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی، ص: 158)

ایک جستجو

سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ پٹواری تھے، گھوڑی رکھی ہوئی تھی۔ علاقہ کے ضلع دار یا تحصیلدار نے اپنا حصہ مانگا تو آپ نے فرمایا: نہ رشوت لیتا ہوں نہ دیتا ہوں، حرام ہے۔ اس نے کسی گاؤں سے درخواست لکھوائی کہ شاہ جی ہم سے رشوت مانگتا ہے۔ خود درخواست لکھوائی تھی اور خود انکوائری کے لیے موقع پر آیا۔ لوگ جمع ہو گئے۔ شاہ جی نے کہا: انکوائری کا آغاز کرنے سے پہلے میں ایک درخواست کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا: بولو۔

فرمایا: یہ میری گھوڑی ہے، رشوت والے پیسوں سے دانہ لا کر اسے ڈالو۔ اگر میری گھوڑی نے رشوت والے دانے کھا لیے تو مان لینا اس کا مالک بھی رشوت لیتا ہے، اور اگر میری گھوڑی نے نہ کھائے، جو بے زبان ہے، تو پھر مان لینا کہ اس کا سوار رشوت کے قریب بھی نہیں جاتا۔ رشوت کے پیسوں سے دانہ لایا گیا، گھوڑی نے نیچے منہ کیا پھر اوپر اٹھا لیا، دانے کو منہ نہ لگایا۔ فرمایا: میرے تھیلے سے دانے لاؤ۔ شاہ جی کے تھیلے سے دانے لائے گئے تو گھوڑی نے کھائے۔ وہ شخص قدموں میں پڑ گیا اور معافی کا طلبگار ہوا۔

یہ واقعہ ایک صاحبِ علم سے میں نے سنا تھا لیکن اس کتاب میں مجھے نہیں ملا۔ نہ سید اسماعیل مشہدی رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے اور نہ مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ سینہ گزٹ واقعہ درست ہے یا نہیں، اس کی تصدیق یا تردید تو خانوادۂ مشہدی کے معزز افراد ہی کر سکتے ہیں، البتہ اس کتاب کے چند اقتباسات نے مجھے اس واقعہ کے بارے میں تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔

سید محمد اسماعیل مشہدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’آپ غریب امیر ہر ایک کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے تھے، گرداوری کرنے کے لیے اکیلے تشریف لے جاتے، کھیتوں میں جا کر خود زمین کی پیمائش کرتے تھے اور اپنا بستہ خود اٹھائے پھرتے تھے، صاحبِ زمین کو کبھی آپ نے تنگ نہیں کیا تھا کہ وہ اپنا کام چھوڑ کر پیمائش میں مدد دے، جتنی زمین میں پانی پڑتا اتنی لکھتے، باقی چھوڑ دیتے، کھیتوں میں پیدل جاتے، نہ گھوڑی تھی نہ گائے بھینس رکھے ہوئے تھے۔‘‘

(سوانح حیات حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی، ص: 30)

مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’شاہ صاحب کے حلقہ پٹوار میں کئی گاؤں شامل تھے، ان کے پاس ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں جانے کے لیے نہ گھوڑی تھی نہ کوئی اور سواری، جہاں جانا ہوتا پیدل جاتے، گھر میں گائے یا بھینس بھی نہ تھی، تنخواہ اتنی کم تھی کہ وہ اس سے نہ تو سواری کے لیے کوئی جانور خرید سکتے تھے نہ دودھ کے لیے۔‘‘

(سوانح حیات حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ، ص: 147)

مزید لکھتے ہیں:

’’تقریباً پینتیس برس محکمہ نہر میں انہوں نے پٹواری کی حیثیت سے ملازمت کی اور کبھی ان سے کسی کو شکایت نہیں ہوئی، نہ کسی زمین دار کو، نہ محکمہ مال کے کسی چھوٹے بڑے افسر کو، گرداور، تحصیلدار، ضلع دار وغیرہ تمام اہلکار ان کے عمل اور طریقِ عمل سے خوش تھے، انہوں نے ہر سرکاری کام پوری ایمانداری اور دیانتداری سے کیا۔‘‘

(سوانح حیات حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی، ص: 150)

منصبِ امارت پر فائز ہونے کی صحیح تاریخ

مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’جولائی 1930ء سے لے کر شاہ صاحب کی وفات یعنی مئی 1944ء تک وہ اس کے منصبِ امارت پر فائز رہے۔‘‘

(سوانح حیات حضرت سید محمد شریف گھڑیالوی رحمہ اللہ، ص: 161)

سید محمد اسماعیل مشہدی رحمہ اللہ نے بھی یہی لکھا ہے، دیکھیں (ص: 47 تا 50)، لیکن کتاب کے ’’عرض ناشر‘‘ میں منصبِ امارت پر فائز ہونے کی تاریخ 1931ء مرقوم ہے جو کہ درست معلوم نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔

فضیلۃ الشیخ مولانا شاہد رفیق حفظہ اللہ اور دیگر معزز احباب نے حاشیہ میں بڑی مفید توضیحات کا اضافہ کیا ہے تاکہ کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہے، لیکن میرے خیال میں تین مقامات ایسے ہیں جہاں کچھ تشنگی باقی رہی ہے۔ (دیکھیں ص: 94، 124، 139) لیکن شاید ان مقامات پہ یہی طرزِ عمل بہتر تھا۔ واللہ اعلم۔

حافظ بلال اشرف اعظمی

ادارتی نوٹ: مصنف روایہ کے مدیرِ شعبۂ حدیث و علومِ حدیث ہیں۔ یہ مضمون ان کی ذاتی علمی کاوش کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے اور روایہ کے ادارتی مواد سے الگ ہے۔

Editorial Note: The author serves as Section Editor of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *