موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی دباؤ، سماجی کمزوریوں اور غیر متعدی امراض کے باہمی تعلق کا ایک طبی و صحتِ عامہ کا مطالعہ
اصل علمی ماخذ
اصل عنوان: Climate Change and Non-Communicable Diseases: An Invisible Syndemic
مصنفین: Gokul Parameswaran، Sadeer Al-Kindi، Sanjay Rajagopalan
نوعیت: Perspective
جریدہ: PLOS Medicine
جلد و شمارہ: 23(5)
مضمون نمبر: e1005082
تاریخِ اشاعت: 8 مئی 2026
مستقل رقمی شناخت: 10.1371/journal.pmed.1005082
اجازت نامہ: Creative Commons Attribution License (CC BY)
روایہ پر پیشکش: اردو ترجمہ و اشاعتِ نو
اعلانِ اشاعتِ نو و ترجمہ
یہ مضمون اپنے اصل مصنفین اور اصل مقامِ اشاعت کی مکمل نسبت کے ساتھ
Creative Commons Attribution License (CC BY)
کی شرائط کے تحت اردو ترجمے کی صورت میں روایہ پر ازسرِنو شائع کیا جارہا ہے۔
اصل علمی ملکیت مصنفین کی ہے۔ متعلقہ اجازت نامہ اصل مصنفین اور ماخذ کو مناسب نسبت دیتے ہوئے مواد کے استعمال، تقسیم اور اشاعتِ نو کی اجازت دیتا ہے۔
یہ اردو ترجمہ علمی استفادے اور اردو قارئین تک تحقیق کی رسائی کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔
اردو عبارت اصل مصنفین کی تحریر کردہ عبارت نہیں بلکہ اصل انگریزی مضمون کا ترجمہ ہے۔
ترجمے میں اصل مفہوم، علمی اصطلاحات، اعداد و شمار، حوالہ نمبروں اور استدلال کو حتی الامکان محفوظ رکھا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی مسلسل بڑھتے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ماحولیاتی اختلالات کے ذریعے غیر متعدی امراض کو تیز کرتی ہے اور اسے غیر متعدی امراض سے متعلق بڑھتی ہوئی شرحِ اموات کا ایک اہم محرک قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود یہ سنڈیمک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل بھی ناکافی ہیں۔ اس مضمون میں مصنفین واضح کرتے ہیں کہ انسانی صحت میں بہتری کے لیے موسمیاتی تبدیلی اور غیر متعدی امراض کے باہمی تعلق پر توجہ دینا کیوں ضروری ہے۔
انسانی سرگرمیوں، بالخصوص رکازی ایندھن کے استعمال، کے نتیجے میں کرۂ ارض کے متعدد قدرتی نظاموں کی حدود میں پیدا ہونے والا اختلال انسانی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ دنیا میں 3.6 ارب سے زیادہ افراد ایسے خطوں میں رہتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے غیر محفوظ ہیں۔
2024 میں زمین کا درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 درجۂ سینٹی گریڈ کی اہم حد عبور کرگیا۔ موجودہ پالیسیوں کے تحت دنیا 2100 تک تقریباً 3 درجۂ سینٹی گریڈ اضافے کی سمت بڑھ رہی ہے۔
اس صورتِ حال کے غیر متعدی امراض، مثلاً قلبی و عروقی بیماریوں اور سرطان، پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بیماریاں مجموعی طور پر سالانہ تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہیں، جبکہ کرۂ ارض کے نظاموں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی دباؤ ان بیماریوں کو جنم دینے یا پہلے سے موجود بیماری کو مزید سنگین بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ [1–3]
موسمیاتی تبدیلی غیر متعدی امراض کے ایک سنڈیمک محرک کے طور پر کام کرتی ہے۔ سنڈیمک سے مراد ایسی صورتِ حال ہے جس میں بیماری، سماجی کمزوریاں اور ماحولیاتی خطرات باہم تعامل کرتے ہوئے مجموعی نقصان کو ان کے الگ الگ اثرات کے مجموعے سے بھی بڑھا دیتے ہیں۔ [4]
غیر متعدی امراض کے متعدد بنیادی ابتدائی خطراتی عوامل، مثلاً موٹاپا، بلند فشارِ خون اور نیند کی کمی، خود بھی ایسے متاثرہ ماحول سے تشکیل پاسکتے ہیں۔ تاہم غیر متعدی امراض کو متعدی بیماریوں کی وباؤں جیسی نمایاں حیثیت حاصل نہیں ہوتی؛ ان میں اچانک مریضوں کے بڑے گروہ سامنے نہیں آتے، کوئی واضح جرثومہ نہیں ہوتا اور نہ بیماری کی منتقلی کا کوئی فوری خطرہ دکھائی دیتا ہے۔
بیشتر اموات کو بھی براہِ راست ماحولیاتی اثرات سے منسوب نہیں کیا جاتا، کیونکہ سبب اور نتیجے کے درمیان تعلق پیچیدہ، غیر خطی اور تاخیر سے ظاہر ہونے والا ہوسکتا ہے۔ یہی سبب کی نسبت کا خلا موسمیاتی تبدیلی اور غیر متعدی امراض کے سنڈیمک کو نسبتاً پوشیدہ رکھتا ہے۔ اسی لیے مصنفین اس باہمی تعلق کو مؤثر طبی اور صحتِ عامہ کی مداخلت کے لیے ترجیح دینے پر زور دیتے ہیں۔
کرۂ ارض کے نظاموں میں اختلال اور امراض: ایک مربوط خاکہ
موسمیاتی تبدیلی کرۂ ارض کے مختلف نظاموں—فضائی کرہ، آبی کرہ، خاکی کرہ، برفانی کرہ، حیاتیاتی کرہ، ارضی کرہ اور انسانی کرہ—میں مختلف سطحوں پر اختلال پیدا کرتی ہے۔ ان اختلالات سے ایسے ماحولیاتی اثرات جنم لیتے ہیں جو ایک دوسرے سے تعامل کرتے، یکے بعد دیگرے نمودار ہوتے اور باہم مل کر شدت اختیار کرتے ہیں۔ غیر متعدی امراض پر ان تبدیلیوں کے اثرات براہِ راست بھی ہوسکتے ہیں اور بالواسطہ بھی۔
سب سے زیادہ ثابت شدہ براہِ راست راستہ فضائی درجۂ حرارت میں اضافے سے متعلق ہے۔ گرمی بذاتِ خود قلبی و استحالۂ غذائی نظام پر دباؤ ڈالنے والا ایک مستقل عامل ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد گرمی سے متعلق اموات میں 63 فی صد اضافہ ہوا ہے اور اب ان کی سالانہ تعداد 5 لاکھ 46 ہزار سے زیادہ ہے۔ [2]
درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا کے معیار کو بھی خراب کرتا ہے۔ یہ آلودگی پیدا کرنے والے مادّوں کی تشکیل کو تیز کرتا، ان کے منتشر ہونے میں رکاوٹ ڈالتا اور خشک حالات پیدا کرتا ہے، جن سے جنگلاتی آگ اور گرد و غبار کے طوفان شدید ہوسکتے ہیں۔ یہ اثرات باہم مل کر قلبی، تنفسی اور اعصابی نظام سمیت متعدد اعضا سے متعلق غیر متعدی امراض کا بوجھ بڑھاتے ہیں۔ [5]
ایک تحقیق کے مطابق گرم ہوتے ہوئے موسمی حالات کے باعث جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے سالانہ تقریباً 71 ہزار اضافی اموات ہوسکتی ہیں، جبکہ 2026 سے 2055 کے درمیان مجموعی اضافی اموات تقریباً 19 لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔ [6]
جسمانی صحت کے علاوہ شدید موسمی واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے اور مزاج سے متعلق عوارض اور صدمے سے وابستہ بیماریوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ [7]
بالواسطہ اثرات بنیادی طور پر ان نظامی ڈھانچوں میں خلل کے ذریعے سامنے آتے ہیں جو انسانی صحت کی حفاظت کرتے ہیں۔ بارش کے نظام میں تبدیلی، خشک سالی اور زمین کی زرخیزی میں کمی میٹھے پانی کی دستیابی اور غذائی معیار کو متاثر کرتے ہیں۔
زرعی پیداوار میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تبدیلیاں زیادہ حراروں والی، انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں پر انحصار بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں استحالۂ غذائی امراض بڑھ سکتے ہیں اور 2050 تک سالانہ 5 لاکھ سے زیادہ اموات واقع ہونے کا خدشہ ہے، جن میں بڑی تعداد قلبی امراض اور سرطان سے متعلق ہوسکتی ہے۔ [8، 9]
برفانی نظام میں تبدیلیاں، جن میں گلیشیروں کا پگھلنا اور سطحِ سمندر کا بلند ہونا شامل ہیں، آبادیوں کی نقل مکانی کا باعث بن سکتی ہیں اور لوگوں کی خوراک اور صحت کی سہولتوں تک مستحکم رسائی منقطع ہوسکتی ہے۔
ناموافق درجۂ حرارت لوگوں کو جسمانی سرگرمی سے بھی باز رکھ سکتا ہے، جبکہ گھروں کے اندر زیادہ وقت گزارنے سے پھپھوندی کے تخمک یا رنگ و روغن سے خارج ہونے والے فرّار نامیاتی مرکبات جیسے مضر عوامل سے سامنا بڑھ سکتا ہے۔ [10]
مجموعی طور پر یہ باہم مربوط اختلالات موسمیاتی تبدیلی کو کسی ایک خطرے کے بجائے ایک ایسے سنڈیمک محرک میں تبدیل کردیتے ہیں جو صحتِ عامہ کے ان نمونوں کی محدودیت واضح کرتا ہے جو باہم مربوط عالمی ماحولیاتی اثرات کے بجائے الگ الگ خطراتی عوامل پر توجہ دیتے ہیں۔
شکل 1: موسمیاتی تبدیلی اور غیر متعدی امراض کا سنڈیمک برفانی تودہ

شکل کی وضاحت:
موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی، جنگلاتی آگ کے دھوئیں، پانی کے عدم تحفظ، غذائی نظام میں خلل، شہری گرمی کے جزیروں اور طبی خدمات میں تعطل سمیت متعدد ماحولیاتی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ سطح کے نیچے اس سے وابستہ غیر متعدی امراض کا کہیں زیادہ وسیع مگر بڑی حد تک پوشیدہ بوجھ موجود ہے، جس میں قلبی امراض، سرطان، ذیابیطس، دائمی تنفسی امراض، ڈیمنشیا اور ذہنی امراض شامل ہیں۔ اصل شکل Nano Banana AI کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
موسمیاتی کمزوری: غیر متناسب بوجھ اور مجموعی محرومی
موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ معاشی اور سماجی طور پر محروم آبادیوں پر غیر متناسب طور پر پڑتا ہے، جس کے باعث یہ بنیادی طور پر عدل و مساوات کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
عالمی جنوب کے بیشتر ممالک موسمیاتی آفات کے حوالے سے حساس جغرافیائی خطوں میں واقع ہیں۔ سطحِ سمندر میں اضافہ، بدلتے ہوئے موسمی نمونے اور شدید موسمی واقعات مختلف ماحولیاتی نظاموں میں سلسلہ وار اثرات پیدا کرکے پہلے سے موجود نظامی کمزوریوں کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ [1]
موسمی حالات سے حساس معاشی شعبوں پر انحصار، کمزور بنیادی ڈھانچا اور مسلسل ناکافی وسائل کے حامل نظامِ صحت ان ممالک کی آفات کا مقابلہ کرنے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت محدود کردیتے ہیں۔
امریکہ میں وہ بستیاں جنہیں ماضی میں نسلی یا قومی بنیادوں پر سرمایہ کاری سے منظم طور پر محروم رکھا گیا تھا، آج بھی اکثر پختہ سطحوں کی کثرت، درختوں کی کمی، پرانی رہائش گاہوں اور بڑی شاہراہوں سے قربت جیسے حالات رکھتی ہیں، جو آلودگی سے سامنا اور دیگر ماحولیاتی خطرات بڑھاتے ہیں۔ [11]
پیشہ ورانہ خطرات بھی اس عدم مساوات میں اضافہ کرتے ہیں، کیونکہ کم آمدنی رکھنے والی آبادیوں کے افراد نسبتاً زیادہ ایسے بیرونی یا جسمانی مشقت کے کام انجام دیتے ہیں جن میں شدید گرمی سے سامنا زیادہ ہوتا ہے۔
ہم عملی اقدام میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ — تدارک کی راہ میں رکاوٹیں
موسمیاتی تبدیلی اور غیر متعدی امراض سے ہونے والی اموات کے درمیان تعلق کے بڑھتے ہوئے شواہد کے باوجود موافقت اور اثرات میں تخفیف کی حکمتِ عملیوں کے عملی نفاذ میں بڑا خلا موجود ہے۔ غیر متعدی امراض کے اثرات منتشر اور تاخیر سے ظاہر ہونے والے راستوں کے ذریعے سامنے آتے ہیں، جس سے سبب اور نتیجے کے تعلق کو واضح کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
مصنفین کے مطابق سیاسی جماعتی تقسیم نے اعتماد کے فقدان کو بڑھایا ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی کے انکار کے رجحانات کو تقویت ملی اور عملی اقدامات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ وہ امریکہ کے بعض حالیہ فیصلوں—پیرس معاہدے سے دست برداری، ماحولیاتی ضوابط میں تخفیف، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے اختیارات میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری روکنے—کو اس کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ [12]
پالیسی کی سطح پر ایک بنیادی مسئلہ مختصر مدتی سیاسی اہداف اور ماحولیاتی اثرات کے طویل مدتی نتائج کے درمیان عدم مطابقت ہے۔ موافقت کے لیے ابتدا میں بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جبکہ اس کے فوائد عموماً طویل مدت میں سامنے آتے ہیں۔
کثیر سطحی موافقتی حکمتِ عملی کی جانب
موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ اور متوقع اثرات کا تقاضا ہے کہ آبادیوں، ماحولیاتی بنیادی ڈھانچے اور نظامِ صحت کی سطح پر فوری موافقتی حکمتِ عملیاں اختیار کی جائیں۔ [3]
معاشرتی سطح پر زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں کے لیے مخصوص تعلیمی اور آگاہی پروگرام ضروری ہیں، جن میں شدید ماحولیاتی خطرات کے اوقات میں عملی حفاظتی تدابیر بھی سکھائی جائیں۔
زیادہ خطرے سے دوچار گھرانوں اور آبادیوں کے لیے ایئر کنڈیشننگ اور ہوا صاف کرنے والے آلات جیسی موافقتی سہولتوں پر مالی اعانت فراہم کرنا بھی لاگت کے اعتبار سے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی سطح پر مختلف شعبوں کے ماہرین کے درمیان تعاون ضروری ہوگا۔ طبی ماہرین شہری منصوبہ سازوں کے ساتھ مل کر سبزہ بڑھانے، سایہ دار راستے بنانے اور حرارت منعکس کرنے والی چھتوں جیسے اقدامات کے ذریعے موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ماحول تشکیل دے سکتے ہیں۔
پیشگی تنبیہ کے نظاموں کو عوامی ٹھنڈک اور صاف ہوا فراہم کرنے والے مراکز کے ساتھ مربوط کیا جاسکتا ہے تاکہ شدید موسمی واقعات کے دوران محفوظ پناہ فراہم کی جاسکے۔
طبی مراکز میں مریضوں کی رہنمائی کے دوران ماحولیاتی خطرات کا جائزہ بھی شامل کیا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے کمزور مریضوں کے لیے جو ایسی ادویات استعمال کررہے ہوں جو جسم کے درجۂ حرارت کو منظم کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ [5]
نظامِ صحت کو آفات کے لیے اپنی تیاری مضبوط کرنا ہوگی۔ اس میں موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل طبی بنیادی ڈھانچا، ضروری سامان کی رسدی زنجیر کا تسلسل اور ہنگامی حالات میں طبی رسائی برقرار رکھنے کے لیے موبائل طبی مراکز جیسے انتظامات شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کو صحت کے ایک بنیادی تقاضے کے طور پر دیکھنے سے غیر متعدی امراض کے عالمی بوجھ کی تشکیل میں اس کے کردار کو زیادہ واضح کیا جاسکتا ہے اور موسمیاتی اقدامات کو طبی فیصلہ سازی، صحتِ عامہ اور پالیسی سازی سے مربوط کیا جاسکتا ہے۔
چونکہ موسمیاتی نقصان تمام آبادیوں میں یکساں تقسیم نہیں ہوتا، اس لیے مصنفین کے مطابق دیرپا حل کے لیے عدل و مساوات پر مبنی حکمتِ عملی ضروری ہے، جس میں عالمی جنوب اور ساختی طور پر محروم آبادیوں کی بامعنی شرکت ہو۔
نتیجہ
مصنفین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور غیر متعدی امراض کا سنڈیمک اکیسویں صدی میں صحتِ عامہ کے فیصلہ کن مسائل میں سے ایک بن سکتا ہے۔
اس چیلنج کا مقابلہ صرف اختراعات سے نہیں ہوگا بلکہ ایسے راسخ نظاموں کا سامنا کرنے کے لیے اخلاقی قیادت اور سیاسی عزم بھی درکار ہوگا جو عملی اقدام میں تاخیر کو برقرار رکھتے ہیں۔
مصنفین کا اختتامی استدلال یہ ہے کہ موسمیاتی اقدامات کو انسانی صحت کے عالم گیر تقاضے سے وابستہ کرنا نظریاتی اختلافات کے درمیان فاصلے کم کرنے اور پائیدار اجتماعی اقدام کو تحریک دینے کا ایک واضح راستہ ہوسکتا ہے۔
مراجع | References
1. Navas-Acien A, Kaufman JD, Khatana SAM, Parks RM, Rajagopalan S, Smith CM. JAHA at scientific sessions 2024: climate change-related cardiovascular health effects in the global south. JAHA. 2026;15:e044079. DOI: 10.1161/JAHA.125.044079.
2. Romanello M, Walawender M, Hsu SC, Moskeland A, Palmeiro-Silva Y, Scamman D, et al. The 2025 report of the Lancet Countdown on health and climate change. The Lancet. 2025. DOI: 10.1016/S0140-6736(25)01919-1.
3. Münzel T, Lüscher T, Kramer CM, Churchwell K, Mbakwem A, Rajagopalan S. Environmental stressors and cardiovascular health: acting locally for global impact in a changing world: a statement of the European Society of Cardiology, the American College of Cardiology, the American Heart Association, and the World Heart Federation. Circulation. 2026;153(8):597–604. DOI: 10.1161/CIRCULATIONAHA.125.079034.
4. Swinburn BA, Kraak VI, Allender S, Atkins VJ, Baker PI, Bogard JR, et al. The global syndemic of obesity, undernutrition, and climate change: the Lancet Commission report. Lancet. 2019;393:791–846. DOI: 10.1016/S0140-6736(18)32822-8.
5. Münzel T, Khraishah H, Schneider A, Lelieveld J, Daiber A, Rajagopalan S. Challenges posed by climate hazards to cardiovascular health and cardiac intensive care: implications for mitigation and adaptation. Eur Heart J Acute Cardiovasc Care. 2024;13(10):731–744. DOI: 10.1093/ehjacc/zuae113.
6. Qiu M, Li J, Gould CF, Jing R, Kelp M, Childs ML, et al. Wildfire smoke exposure and mortality burden in the USA under climate change. Nature. 2025;647(8091):935–943. DOI: 10.1038/s41586-025-09611-w.
7. Heinz A, Brandt L. Climate change and mental health: direct, indirect, and intersectional effects. Lancet Reg Health Eur. 2024;43:100969. DOI: 10.1016/j.lanepe.2024.100969.
8. Springmann M, Mason-D’Croz D, Robinson S, Garnett T, Godfray HCJ, Gollin D, et al. Global and regional health effects of future food production under climate change: a modelling study. Lancet. 2016;387(10031):1937–1946. DOI: 10.1016/S0140-6736(15)01156-3.
9. Rockström J, Thilsted SH, Willett WC, Gordon LJ, Herrero M, Hicks CC, et al. The EAT-Lancet Commission on healthy, sustainable, and just food systems. Lancet. 2025;406(10512):1625–1700. DOI: 10.1016/S0140-6736(25)01201-2.
10. Lewis AC, Jenkins D, Whitty CJM. Hidden harms of indoor air pollution – five steps to expose them. Nature. 2023;614(7947):220–223. DOI: 10.1038/d41586-023-00287-8.
11. Vieira De Oliveira Salerno PR, Lewis PGT, Chen Z, Dazard J, Ganatra S, Ahmed EN, et al. Climate vulnerability and cardiovascular-kidney-metabolic disease in the United States. JAHA. 2025;14:e038251. DOI: 10.1161/JAHA.124.038251.
12. Dennis B. U.S. carbon emissions were falling. Why did they go up in 2025? The Washington Post. 2026. Cited 14 January 2026.
اصل مقالے کا حوالہ
Parameswaran G, Al-Kindi S, Rajagopalan S. (2026).
Climate change and non-communicable diseases: An invisible syndemic.
PLoS Medicine, 23(5), e1005082.
DOI: 10.1371/journal.pmed.1005082
اجازت نامہ: Creative Commons Attribution License (CC BY).