(نقش پائے اقبال) طلسمِ شیشہ و آہن

طلسمِ شیشہ و آہن کو توڑ اور خود شناسا ہو
کہ تو خاکستری ذرّہ نہیں، خورشیدِ سیما ہو

نہیں پرواز کے قابل جو پروانوں کے شیدا ہیں
تجھے شاہین بننا ہے، فلک تیرا ٹھکانا ہو

جہاں میں علم و حکمت ہیں فقط زادِ رہِ منزل
اگر دل میں نہ سوزِ عشق ہو تو سب فسانہ ہو

گراں خوابی کو رخصت کر کہ جاری کارواں تیرا
دِرا کی لے پکارے جب نیا دورِ زمانہ ہو

نہ کھو جائے تری ہستی غبارِ راہِ باطل میں
تری فطرت کا جوہر ہے کہ تو موجِ توانا ہو

نگاہِ فقر رکھتی ہے حکومت پر تسلط بھی
سکندر کیوں بنے کوئی جو خود درویشِ دانا ہو

رہینِ منّتِ ساحل نہ ہو دریا کا فرزانہ
وہی قطرہ سمندر ہے جو طوفانوں سے برپا ہو

عبث ہے شکوۂ تقدیر خوابیدہ جو راہی ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے گر عزمِ مصفّا ہو

چھپا رہتا ہے جو سینوں میں وہ رازِ خودی کہہ دے
ترا ہر شعر اے ہمراز اک پیغامِ فردا ہو

Hamraz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *