حدیث سے زندگی — درس اوّل

اگر کوئی میری تعریف نہ کرے تو کیا میں یہ کام پھر بھی کروں گا؟
اگر میرا نام سامنے نہ آئے تو کیا مجھے پھر بھی اس خیر کے پھیلنے پر خوشی ہوگی؟

حدیث سے زندگی — درس اوّل

نیت: عمل کی قدر کا بنیادی معیار

درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی

آج کی حدیث

عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:


«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

ترجمہ:
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا اعتبار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت کسی دنیاوی مقصد کے حصول کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کے لیے، تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔

حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 1؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907۔

ایک حدیث، پوری زندگی کا اصول

رسول اللہ ﷺ کی یہ مختصر حدیث اسلامی زندگی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ بظاہر اس میں نیت کا ذکر ہے، لیکن حقیقت میں یہ عبادت، علم، تجارت، ملازمت، خدمت، دعوت، تعلیم، تصنیف اور ہمارے روزمرہ کے تقریباً ہر عمل کے باطن کو درست کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

اسلام صرف یہ نہیں دیکھتا کہ انسان نے کیا کیا؛ بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس نے کیوں کیا۔

دو انسان ایک ہی کام انجام دے سکتے ہیں۔ ظاہری اعتبار سے دونوں کے اعمال یکساں دکھائی دیں، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی قدر یکساں ہونا ضروری نہیں؛ کیونکہ دونوں کی نیتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔

یہی حقیقت رسول اللہ ﷺ کے فرمان میں سمٹ آئی ہے:

«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»

اعمال کا اعتبار نیتوں پر ہے۔

نیت کیا ہے؟

نیت بنیادی طور پر دل کے ارادے اور قصد کا نام ہے۔ انسان کسی عمل کو کس مقصد سے انجام دے رہا ہے، یہی اس کی نیت ہے۔

عبادت میں نیت ایک طرف مختلف عبادات میں امتیاز پیدا کرتی ہے، اور دوسری طرف یہ طے کرتی ہے کہ عمل کس کے لیے کیا جارہا ہے۔

ایک شخص علم حاصل کرتا ہے تاکہ اللہ کی رضا حاصل کرے، اپنی جہالت دور کرے اور لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ دوسرا وہی علم صرف شہرت، بحث میں برتری یا لوگوں میں مقام حاصل کرنے کے لیے حاصل کرسکتا ہے۔ ظاہری سرگرمی ایک ہے، مگر دونوں کے باطن میں بڑا فرق ہے۔

ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی

رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ اعمال نیتوں کے مطابق ہیں، بلکہ فوراً فرمایا:

«وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى»

اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔

یہ الفاظ انسان کو اپنے باطن کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ایک عمل دنیا کی نظر میں بہت بڑا ہو، مگر کرنے والے کا اصل مقصد اللہ کی رضا نہ ہو۔ اور ہوسکتا ہے ایک بظاہر معمولی عمل خالص نیت کے سبب اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت وزنی ہوجائے۔

اسی لیے مومن صرف اپنے اعمال کی تعداد نہیں دیکھتا؛ وہ ان کے پیچھے موجود نیت کو بھی دیکھتا ہے۔

ہجرت کی مثال کیوں؟

رسول اللہ ﷺ نے اصول بیان کرنے کے بعد ہجرت کی مثال ذکر فرمائی۔ ہجرت ایک عظیم دینی عمل ہے، لیکن اگر کوئی شخص اسی ظاہری عمل کے ذریعے محض دنیاوی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہو تو اس کے عمل کی حقیقت اس کی نیت کے مطابق ہوگی۔

یہ مثال ہمیں ایک نہایت اہم سبق دیتی ہے:

کسی عمل کی دینی شکل خود بخود اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کا مقصد بھی دینی ہے۔

اسی لیے نماز، صدقہ، علم، دعوت، تصنیف، دینی خدمت اور خیراتی کام—سب میں انسان کو اپنے دل کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

اخلاص اور نیت

نیت کی اصلاح کا سب سے اہم پہلو اخلاص ہے، یعنی عمل بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾

(البينة: 5)

ترجمہ: اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔

اخلاص کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو اپنے اچھے کام کے دنیاوی نتائج بالکل نظر نہ آئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس عمل کا بنیادی محرک اور مقصود کیا ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور کس نیت کے ساتھ کھڑا ہے۔

عام کام بھی عبادت بن سکتے ہیں

اس حدیث کا ایک بہت خوبصورت عملی پہلو یہ ہے کہ صحیح نیت انسان کے بہت سے معمول کے کاموں کو بھی اجر کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔

انسان روزگار کماتا ہے۔ اگر مقصد صرف دولت جمع کرنا نہ ہو بلکہ حلال رزق حاصل کرنا، اہل و عیال کی کفالت کرنا اور حرام سے بچنا بھی ہو تو یہی روزگار اجر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

وہ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اگر نیت مفید علم، اپنی اصلاح اور دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہو تو تعلیم بھی عبادت کا رنگ اختیار کرسکتی ہے۔

وہ اپنے بچوں کی تربیت کرتا ہے، والدین کی خدمت کرتا ہے، کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے یا معاشرے کے لیے کوئی مفید کام انجام دیتا ہے؛ صحیح نیت ان روزمرہ اعمال کو آخرت کی کمائی میں بدل سکتی ہے۔

یوں مومن کی زندگی عبادت گاہ اور دنیاوی زندگی کے دو الگ خانوں میں تقسیم نہیں رہتی۔ صحیح نیت اس کی پوری جائز زندگی کو اللہ کی بندگی سے جوڑ دیتی ہے۔

ایک عمل میں کئی نیتیں

ایک نیک عمل کرتے ہوئے کئی جائز اور نیک مقاصد جمع ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص دینی کتاب پڑھتا ہے تو اس کی نیت ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی جہالت دور کرے، اللہ کے دین کو بہتر سمجھے، اپنے عمل کی اصلاح کرے، اپنے گھر والوں کو سکھائے اور حاصل شدہ علم دوسروں تک پہنچائے۔

اسی طرح کسی مفید تحریر یا درس کے ذریعے ایک شخص خود بھی علم کا اعادہ کرسکتا ہے اور دوسروں کی رہنمائی بھی کرسکتا ہے۔

اس لیے عمل شروع کرنے سے پہلے چند لمحوں کے لیے اپنی نیت کو واضح کرلینا معمولی بات نہیں۔ یہ عمل کی پوری قدر بدل سکتا ہے۔

نیت زبان کا جملہ نہیں، دل کا عمل ہے

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ نیت بنیادی طور پر دل کے قصد کا نام ہے۔ ہر کام سے پہلے زبان سے مخصوص الفاظ ادا کرنا نیت کی حقیقت نہیں۔

اگر کوئی شخص وضو کے لیے اٹھتا ہے، نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا روزے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں موجود شعوری قصد ہی نیت کی اصل ہے۔

اس لیے اصل توجہ الفاظ دہرانے کے بجائے دل کے مقصد کو درست کرنے پر ہونی چاہیے۔

نیت کی حفاظت بھی ضروری ہے

کبھی انسان عمل کا آغاز خالص نیت سے کرتا ہے، لیکن دورانِ عمل لوگوں کی تعریف، شہرت یا اپنی بڑائی کا احساس اس کے دل میں جگہ بنانے لگتا ہے۔

یہاں مومن کو اپنے دل کی نگرانی کرنی چاہیے۔

نیت کی اصلاح صرف عمل شروع کرنے سے پہلے نہیں بلکہ عمل کے دوران اور عمل کے بعد بھی ضروری ہوسکتی ہے۔

عمل سے پہلے سوال ہو:

میں یہ کیوں کررہا ہوں؟

عمل کے دوران سوال ہو:

کیا میرا مقصد اب بھی درست ہے؟

اور عمل کے بعد انسان اپنی نیکی پر غرور کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے قبولیت مانگے۔

سوشل میڈیا کے دور میں نیت

آج اس حدیث کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ نیکی، علم، صدقہ، عبادت اور خدمت کے کام چند لمحوں میں دوسروں کے سامنے آسکتے ہیں۔

ہر چیز کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا بذاتِ خود ایک ہی حکم نہیں رکھتا؛ بعض اوقات کسی مفید کام کی تشہیر سے دوسروں کو ترغیب ملتی ہے یا علم پھیلتا ہے۔ لیکن یہاں نیت کی نگرانی بہت ضروری ہوجاتی ہے۔

ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:

اگر کوئی میری تعریف نہ کرے تو کیا میں یہ کام پھر بھی کروں گا؟

اگر میرا نام سامنے نہ آئے تو کیا مجھے پھر بھی اس خیر کے پھیلنے پر خوشی ہوگی؟

یہ سوال ہمارے باطن کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

دوسروں کی نیت کا فیصلہ نہ کریں

اس حدیث کا مقصد ہمیں دوسروں کے دلوں میں جھانکنے کا اختیار دینا نہیں، بلکہ اپنی نیت کی اصلاح سکھانا ہے۔

کسی دوسرے شخص کے ظاہری عمل کو دیکھ کر فوراً یہ فیصلہ کردینا کہ وہ شہرت، دکھاوے یا کسی دنیاوی مقصد کے لیے ایسا کررہا ہے، درست طرزِ عمل نہیں۔ دلوں کا حقیقی حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

ہماری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے دل سے سوال کریں، دوسروں کے دلوں کے بارے میں فیصلے نہ کرتے پھریں۔

آج کا عملی سبق

آج اپنے تین معمول کے کام منتخب کیجیے۔ وہ ملازمت، کاروبار، مطالعہ، تدریس، گھر کی خدمت، بچوں کی تربیت، تحریر یا کوئی دینی کام ہوسکتا ہے۔

ہر کام سے پہلے چند لمحے رک کر اپنے دل سے پوچھیے:

میں یہ کام کیوں کررہا ہوں؟

پھر اپنی نیت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور کوئی مناسب نیک مقصد شامل کیجیے۔

مثلاً:

میں علم حاصل کررہا ہوں تاکہ اپنی اصلاح کرسکوں اور دوسروں کو فائدہ پہنچا سکوں۔

میں حلال رزق کما رہا ہوں تاکہ اپنی ذمہ داریاں اللہ کے حکم کے مطابق پوری کرسکوں۔

میں کسی انسان کی مدد کررہا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان اور خیر کو پسند فرماتا ہے۔

آج کا محاسبہ

دن کے اختتام پر صرف یہ نہ دیکھیے کہ آج آپ نے کتنے کام کیے۔ ایک اور سوال بھی کیجیے:

میں نے یہ کام کس کے لیے کیے؟

یہ ایک سوال انسان کے پورے دن کو عبادت اور محاسبۂ نفس کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔

آج کی دعا


اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا الْإِخْلَاصَ فِي الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ، وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا صَالِحَةً وَلِوَجْهِكَ خَالِصَةً

اے اللہ! ہمیں قول و عمل میں اخلاص عطا فرما، ہمارے اعمال کو صالح بنا اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص فرما۔

خلاصۂ درس

حدیث «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام میں عمل کی ظاہری صورت کے ساتھ اس کا باطنی مقصد بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

صحیح نیت معمول کے جائز کام کو بھی اجر کا ذریعہ بنا سکتی ہے، جبکہ نیت کی خرابی بڑے سے بڑے ظاہری عمل کی قدر کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس لیے مومن اپنے اعمال کے ساتھ اپنے دل کی بھی نگرانی کرتا ہے۔ وہ ہر اہم کام سے پہلے اپنے آپ سے پوچھتا ہے:

میں یہ کیوں کررہا ہوں، اور کس کے لیے کررہا ہوں؟

جب اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ کی رضا سے جڑ جائے تو زندگی کے بہت سے معمولی کام بھی آخرت کا سرمایہ بن سکتے ہیں۔


«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى»

مصادر و مراجع

القرآن الكريم: سورۃ البینہ: 5۔
البخاري، الصحيح، كتاب بدء الوحي، حديث: 1۔
مسلم، الصحيح، كتاب الإمارة، حديث: 1907۔
النووي، شرح صحيح مسلم۔
ابن رجب الحنبلي، جامع العلوم والحكم، شرح الحديث الأول۔
ابن حجر العسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، كتاب بدء الوحي۔

Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *