ہدایت کی کتاب اور اہلِ تقویٰ کی پہچان
سورۃ البقرۃ: آیات 1–5
درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی
آج کی آیات
﴿الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
(سورۃ البقرۃ: 1–5)
ترجمہ
الم۔
یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں؛ پرہیزگاروں کے لیے سراسر ہدایت ہے۔
وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا، اور آخرت پر وہ کامل یقین رکھتے ہیں۔
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
سورۃ الفاتحہ کی دعا کا جواب
قرآن مجید کی ترتیب میں ایک نہایت خوبصورت معنوی ربط سامنے آتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ کے آخر میں بندہ اپنے رب کے حضور دعا کرتا ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾
ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔
اور اس کے فوراً بعد سورۃ البقرۃ کے آغاز میں قرآن سامنے آتا ہے:
﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾
گویا بندے نے ہدایت مانگی اور اس کے سامنے وہ کتاب رکھ دی گئی جو اسے سیدھا راستہ دکھانے والی ہے۔
یہ معنوی ربط ہمیں قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کی بنیاد سمجھاتا ہے: ہم ہدایت مانگتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی کتاب کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔
﴿الم﴾ — حروفِ مقطعات
سورۃ البقرۃ کا آغاز ﴿الم﴾ سے ہوتا ہے۔ انہیں اصطلاح میں حروفِ مقطعات کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد سورتوں کے آغاز میں اس نوع کے حروف آئے ہیں، مثلاً: الم، الر، حم، طه، يس اور ق۔
مفسرین نے ان کے بارے میں مختلف اقوال نقل کیے ہیں، لیکن ان کے قطعی اور متعین معنی کے بارے میں کوئی ایسی صریح صحیح دلیل موجود نہیں جس پر فیصلہ کن طور پر اعتماد کیا جاسکے۔ اسی لیے اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت نے ان کے حقیقی مراد کو اللہ تعالیٰ کے علم کے سپرد کیا ہے۔
البتہ مفسرین نے ایک اہم حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن انہی حروف سے مرکب ہے جنہیں عرب جانتے اور اپنی گفتگو میں استعمال کرتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ قرآن جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہے۔
یہ رویہ ہمیں ایک علمی اصول بھی سکھاتا ہے: جہاں قطعی علم نہ ہو وہاں انسان کو اپنے اندازے کو یقینی حقیقت بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
یہ کتاب شک سے بالاتر ہے
پھر فرمایا:
﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ﴾
یعنی یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
قرآن اپنی ابتدا ہی میں اپنے بارے میں ایک غیر معمولی اعلان کرتا ہے۔ یہ محض انسانی افکار، فلسفیانہ قیاسات یا کسی مؤلف کے تجربات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں کوئی شخص قرآن کے بارے میں شک نہیں کرے گا؛ بلکہ مفہوم یہ ہے کہ قرآن اپنی اصل، صداقت اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے کے اعتبار سے شک و شبہ کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں رکھتا۔
انسان کا شک حقیقت کو مشکوک نہیں بنادیتا۔ کبھی مسئلہ دلیل میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی نظر، علم یا ذہنی کیفیت میں ہوتا ہے۔
قرآن کس کے لیے ہدایت ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾
متقین کے لیے ہدایت ہے۔
قرآن دوسری جگہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت قرار دیا گیا ہے، لیکن یہاں بالخصوص متقین کا ذکر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ قرآن کی روشنی سب کے سامنے آسکتی ہے، مگر اس روشنی سے حقیقی فائدہ وہی شخص اٹھاتا ہے جس کے اندر حق قبول کرنے کی آمادگی ہو۔
تقویٰ کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بچتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔
متقی بے خطا انسان نہیں ہوتا۔ بلکہ متقی وہ ہے جو اپنے رب کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا چاہتا ہے، غلطی پر متنبہ ہو تو پلٹ آتا ہے، اور حق واضح ہوجائے تو اپنی خواہش پر حق کو ترجیح دینے کی کوشش کرتا ہے۔
پہلی صفت: غیب پر ایمان
متقین کی پہلی صفت بیان ہوئی:
﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾
وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
اسلامی ایمان صرف ان چیزوں تک محدود نہیں جو ہماری آنکھ دیکھ سکے یا تجربہ گاہ میں ناپی جاسکیں۔ اللہ تعالیٰ، فرشتے، وحی، آخرت، جنت، جہنم اور دیگر وہ حقائق جن کی خبر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دی ہے، ایمان بالغیب کے دائرے میں آتے ہیں۔
لیکن غیب پر ایمان کا مطلب ہر غیر ثابت شدہ، پراسرار یا توہماتی دعوے کو قبول کرنا نہیں۔
مومن اس غیب پر ایمان رکھتا ہے جس کی خبر معتبر وحی نے دی ہے۔
اس فرق کو سمجھنا آج کے دور میں خاص طور پر ضروری ہے، کیونکہ توہم، افواہ اور بے دلیل دعووں کو کبھی کبھی مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ ایمان بالغیب کا تعلق وحی سے ہے، وہم سے نہیں۔
دوسری صفت: نماز قائم کرنا
پھر فرمایا:
﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ﴾
وہ نماز قائم کرتے ہیں۔
قرآن نے صرف نماز پڑھنے کا نہیں بلکہ نماز قائم کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس میں نماز کی پابندی، اس کے اوقات، ارکان، خشوع اور اس کے حقیقی مقصد کا اہتمام شامل ہے۔
نماز مومن کی زندگی میں کبھی کبھار پیش آنے والا مذہبی عمل نہیں بلکہ روزانہ بار بار اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تجدید ہے۔
غیب پر ایمان دل کا عمل ہے، اور نماز اسی ایمان کا نمایاں عملی اظہار ہے۔
تیسری صفت: اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرنا
اس کے بعد فرمایا:
﴿وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾
اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
یہاں ایک لفظ بہت قابلِ غور ہے:
﴿رَزَقْنَاهُمْ﴾ — ہم نے انہیں رزق دیا۔
مومن کماتا ہے، محنت کرتا ہے اور تجارت کرتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بھولتا کہ اس کی صلاحیت، مواقع اور بالآخر حاصل ہونے والا رزق اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
اسی شعور کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے مال کو صرف اپنی ذات کا مطلق حق نہیں سمجھتا۔ اس میں اللہ کے مقرر کردہ حقوق ادا کرتا، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا اور ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے۔
یوں قرآن ایمان کو صرف دل اور عبادت گاہ تک محدود نہیں رکھتا؛ وہ انسان کی جیب اور معاشرتی ذمہ داری تک پہنچتا ہے۔
چوتھی صفت: پوری وحی پر ایمان
فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ﴾
متقی صرف قرآن پر ایمان نہیں رکھتا بلکہ اس حقیقت پر بھی ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل فرمائی۔
اسلام اپنے آپ کو انسانی ہدایت کی تاریخ سے الگ کوئی نیا سلسلہ قرار نہیں دیتا، بلکہ آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام اور تمام انبیاء کی دعوت کے اسی بنیادی سلسلے کی تکمیل ہے۔
البتہ مسلمان سابقہ انبیاء اور اصل الہامی کتابوں پر ایمان رکھنے کے ساتھ قرآن کو آخری محفوظ وحی اور محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی مانتا ہے۔
پانچویں صفت: آخرت پر یقین
فرمایا:
﴿وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ﴾
اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
یہاں صرف ایمان نہیں بلکہ یقین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
آخرت کا یقین انسان کی پوری زندگی کا زاویہ بدل دیتا ہے۔ اگر زندگی صرف دنیا تک محدود ہو تو کامیابی کا معیار مال، اقتدار، شہرت اور فوری فائدہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر موت کے بعد حساب یقینی ہے تو ہر فیصلہ ایک نئی معنویت اختیار کرلیتا ہے۔
پھر انسان یہ نہیں پوچھتا کہ:
’’اس کام سے مجھے کیا ملے گا؟‘‘
بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے:
’’اس کام کا جواب میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کیسے دوں گا؟‘‘
ایمان، عبادت اور معاشرت — تینوں ساتھ
ان آیات میں متقی انسان کی تصویر نہایت متوازن ہے۔
اس کا عقیدہ درست ہے: وہ غیب اور وحی پر ایمان رکھتا ہے۔
اس کا اللہ سے تعلق درست ہے: وہ نماز قائم کرتا ہے۔
اس کا بندوں سے تعلق بھی درست ہے: وہ اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتا ہے۔
اور اس کی منزل واضح ہے: وہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔
قرآن کا مطلوب انسان صرف عبادت گزار یا صرف سماجی خدمت کرنے والا نہیں؛ بلکہ ایسا مومن ہے جس کے عقیدے، عبادت، اخلاق، مال اور آخرت کے تصور میں ہم آہنگی ہو۔
اصل کامیابی کیا ہے؟
ان صفات کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی کامیاب ہیں۔
یہاں قرآن کامیابی کی اپنی تعریف پیش کرتا ہے۔
دنیا کامیابی کو دولت، عہدے، شہرت یا ظاہری کامیابی سے ناپ سکتی ہے۔ قرآن ان چیزوں کی جائز اہمیت سے انکار نہیں کرتا، لیکن انسان کی آخری کامیابی کو ان سے نہیں ناپتا۔
اصل فلاح یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی ہدایت پر زندگی گزارے اور آخرت میں کامیاب ہو۔
قرآن پڑھنے سے پہلے ایک سوال
ان آیات کی روشنی میں ہمیں قرآن پڑھتے وقت اپنے آپ سے ایک بنیادی سوال پوچھنا چاہیے:
میں قرآن سے کیا چاہتا ہوں؟
صرف معلومات؟
صرف علمی بحث؟
صرف تلاوت کا ثواب؟
یا واقعی ہدایت؟
جو شخص قرآن سے ہدایت چاہتا ہے اسے یہ آمادگی بھی پیدا کرنی ہوگی کہ قرآن جہاں اس کی سوچ، عادت یا خواہش کی اصلاح کرے، وہاں وہ اپنی ذات کو قرآن کے سامنے جھکا دے۔
آج کا عملی سبق
آج سورۃ البقرۃ کی ان پانچ آیات کی روشنی میں اپنی زندگی کے پانچ پہلو دیکھیے:
- ایمان: کیا میرا اللہ اور آخرت پر یقین میرے فیصلوں میں نظر آتا ہے؟
- نماز: کیا نماز میرے دن کا مرکز ہے یا باقی کاموں کے بعد بچ جانے والا وقت؟
- مال: اللہ کے دیے ہوئے رزق میں دوسروں کا کتنا حصہ ہے؟
- وحی: کیا میں اپنی رائے کو قرآن کے تابع کرتا ہوں یا قرآن کو اپنی رائے کے مطابق سمجھنا چاہتا ہوں؟
- آخرت: کیا اہم فیصلوں میں حسابِ آخرت میرے سامنے رہتا ہے؟
آج کا محاسبہ
رات کو چند لمحے نکال کر اپنے آپ سے پوچھیے:
آج میری زندگی میں تقویٰ کی کون سی علامت ظاہر ہوئی؟
میری نماز کی کیفیت کیسی رہی؟
کیا آج میرے مال، وقت یا صلاحیت سے کسی دوسرے انسان کو فائدہ پہنچا؟
کیا آج کسی فیصلے میں مجھے آخرت یاد آئی؟
آج کی دعا
اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ هُدًى لَنَا، وَارْزُقْنَا تَقْوَاكَ، وَأَقِمْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُفْلِحِينَ
اے اللہ! قرآن کو ہمارے لیے ہدایت بنا، ہمیں اپنا تقویٰ عطا فرما، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر قائم رکھ اور ہمیں فلاح پانے والوں میں شامل فرما۔
خلاصۂ درس
سورۃ الفاتحہ میں ہم نے اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی ہدایت مانگی۔ سورۃ البقرۃ کے آغاز میں ہمارے سامنے وہ کتاب آجاتی ہے جو ہدایت کا سرچشمہ ہے:
﴿هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ﴾
اور قرآن فوراً یہ بھی واضح کردیتا ہے کہ اس ہدایت سے حقیقی فائدہ اٹھانے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں: وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ کے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں، پوری وحی پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت کو یقینی حقیقت سمجھتے ہیں۔
پھر نتیجہ سنایا جاتا ہے:
﴿وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
یہی لوگ حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔
قرآن کے اس سفر کے آغاز ہی میں ہمیں اپنا مقصد بھی متعین کرلینا چاہیے: ہم اس کتاب کو صرف پڑھنے نہیں جارہے، بلکہ اس سے ہدایت لے کر اپنی زندگی بدلنے جارہے ہیں۔
مصادر و مراجع
القرآن الكريم: سورۃ الفاتحہ: 6–7؛ سورۃ البقرۃ: 1–5۔
الطبري، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، تفسير سورة البقرة۔
الفراء، معاني القرآن۔
البغوي، معالم التنزيل۔
ابن عطية، المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز۔
القرطبي، الجامع لأحكام القرآن۔
ابن كثير، تفسير القرآن العظيم۔
ابن عاشور، التحرير والتنوير۔
السعدي، تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان۔
Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.