اصل مسلمان کون؟ — زبان اور ہاتھ کی حفاظت


سلسلہ: حدیث سے زندگی


حدیثِ نبوی ﷺ

:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

(صحیح البخاری، کتاب الإيمان؛ صحیح مسلم، کتاب الإيمان)

حدیث کا پیغام

اسلام صرف چند عبادات کا نام نہیں بلکہ انسان کے پورے کردار کی اصلاح چاہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مختصر حدیث میں مسلمان کے کردار کی ایک نہایت اہم علامت بیان فرمائی: اس کی ذات دوسروں کے لیے باعثِ امن ہو۔

لوگ اس کی زبان سے خوف زدہ نہ ہوں اور اس کے ہاتھ سے نقصان نہ اٹھائیں۔

زبان کا نقصان

زبان بظاہر ایک چھوٹا سا عضو ہے، لیکن اس سے پہنچنے والا نقصان بعض اوقات جسمانی نقصان سے بھی زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔

غیبت، بہتان، تہمت، گالی، مذاق اڑانا، تحقیر، جھوٹ، دل آزاری اور لوگوں کے درمیان فساد پیدا کرنا—یہ سب زبان کے وہ گناہ ہیں جو معاشرے کے امن کو تباہ کرتے ہیں۔

آج زبان میں صرف بولنا شامل نہیں رہا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے لکھے ہوئے الفاظ کو بھی ہماری زبان کی توسیع بنا دیا ہے۔

WhatsApp کا پیغام، Facebook کا تبصرہ، کسی پوسٹ کے نیچے تحقیر آمیز جملہ یا بغیر تحقیق کسی کے خلاف الزام آگے بڑھانا—یہ سب ہمارے اخلاقی اعمال کا حصہ ہیں۔

ہاتھ سے محفوظ رہنے کا مفہوم

ہاتھ سے مراد صرف کسی کو مارنا نہیں۔ کسی کا مال چھیننا، حق دبانا، نقصان پہنچانا، دھوکا دینا یا اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرنا بھی اسی اخلاقی دائرے میں آتا ہے۔

اسلامی معاشرہ وہ ہے جہاں انسان دوسرے انسان کے دین، عزت، جان اور مال کے لیے خطرہ نہ بنے۔

عبادت اور معاملات

ہم بعض اوقات دینداری کو صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات سے ناپتے ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ کی تعلیم ہمیں اپنے معاملات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔

اگر ہماری عبادت بڑھ رہی ہے مگر ہماری زبان زیادہ سخت، رویہ زیادہ تکلیف دہ اور معاملات زیادہ ظالمانہ ہوتے جارہے ہیں تو ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

آج کا محاسبہ

اپنے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کو یاد کیجیے۔

کیا ہماری زبان سے کسی کو تکلیف پہنچی؟

کیا ہم نے کسی کی غیبت کی؟

کیا کسی کے بارے میں غیر مصدقہ بات آگے بڑھائی؟

کیا سوشل میڈیا پر ایسا جملہ لکھا جسے سامنے بیٹھ کر کہنا ہمارے لیے مشکل ہوتا؟

اگر ایسا ہوا ہے تو توبہ کے ساتھ جہاں ممکن ہو اس نقصان کی اصلاح بھی کیجیے۔

آج کا نبوی سبق

اچھا مسلمان صرف وہ نہیں جو خود نیکی کرتا ہے؛ اچھا مسلمان وہ بھی ہے جس سے دوسرے محفوظ رہتے ہیں۔

آج کا عملی قدم

آج ایک دن کے لیے اپنی زبان اور اپنے کی بورڈ دونوں کی نگرانی کیجیے۔

کسی کے بارے میں کچھ لکھنے، بولنے یا آگے بھیجنے سے پہلے صرف اتنا سوچیے:

کیا اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی ہوگا؟

یہ ایک سوال بہت سے گناہوں سے بچا سکتا ہے۔

واللہ أعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *