مسلمان کی عزت، جان اور مال کی حرمت
درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی
آج کی حدیث
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا. الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ. التَّقْوَى هَاهُنَا»
اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ فرمایا، پھر فرمایا:
«بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»
ترجمہ:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، خرید و فروخت میں مصنوعی طور پر قیمت نہ بڑھاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، اور تم میں سے کوئی دوسرے کی خرید و فروخت پر خرید و فروخت نہ کرے۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے؛ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ فرمایا اور فرمایا: کسی انسان کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، حدیث: 2564۔
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں
اسلام انسان کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست نہیں کرتا بلکہ بندوں کے ساتھ اس کے تعلق کو بھی درست کرتا ہے۔ نماز، روزہ، ذکر اور تلاوت کے ساتھ یہ بھی دین کا حصہ ہے کہ ہماری زبان، رویّے، معاملات اور دل دوسرے انسانوں کے حقوق کے بارے میں کیسے ہیں۔
آج کی حدیث ایک مسلمان معاشرے کی اخلاقی بنیاد ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ اس میں دل کی بیماری سے لے کر مالی معاملات اور انسانی عزت تک سب کا ذکر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا مطلوب ایسا معاشرہ ہے جس میں لوگ بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہی نہ ہوں بلکہ حقیقتاً:
«وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»
اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
حسد سے ابتدا کیوں؟
حدیث کی ابتدا ہے:
«لَا تَحَاسَدُوا»
حسد بنیادی طور پر دل کی بیماری ہے۔ انسان کسی دوسرے کو اللہ کی عطا کردہ نعمت دیکھتا ہے اور اس کے زوال کی خواہش کرنے لگتا ہے۔
یہ بیماری پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے، پھر زبان اور عمل تک پہنچ سکتی ہے۔ حسد انسان کو غیبت، الزام، تحقیر، قطع تعلق اور کبھی ظلم تک لے جاتا ہے۔
اس کا علاج یہ ہے کہ انسان یہ حقیقت یاد رکھے کہ نعمتوں کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ دوسرے کو ملنے والی نعمت اللہ کے خزانے کو کم نہیں کرتی۔
دوسرے کی نعمت دیکھ کر حسد کے بجائے اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے فضل مانگنا چاہیے۔
معاملات میں مصنوعی فریب
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«وَلَا تَنَاجَشُوا»
نجش یہ ہے کہ کوئی شخص خریدنے کی حقیقی نیت کے بغیر کسی چیز کی قیمت بڑھائے تاکہ دوسرے خریدار کو زیادہ قیمت دینے پر آمادہ کیا جائے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اخلاق صرف مسجد تک محدود نہیں۔ بازار بھی اخلاق کا امتحان ہے۔
دھوکا، مصنوعی بولی، جھوٹی طلب پیدا کرنا، کسی چیز کی مقبولیت کے بارے میں غلط تاثر دینا یا خریدار کو ایسی معلومات دینا جن کا مقصد اسے غیر حقیقی قیمت پر آمادہ کرنا ہو—یہ سب اس بنیادی اخلاقی اصول کے خلاف ہیں۔
تجارت میں منافع مطلوب ہوسکتا ہے، مگر منافع کے لیے دیانت قربان نہیں کی جاسکتی۔
بغض اور تعلق توڑنے سے بچیں
پھر فرمایا:
«وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا»
ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو۔
اختلاف انسانی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر شخص ہماری رائے سے متفق نہیں ہوگا، اور نہ ہر اختلاف ختم کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اختلاف کو مستقل دشمنی، ذاتی بغض اور ایک دوسرے کی عزت پامال کرنے میں تبدیل کردینا اسلامی اخلاق نہیں۔
اختلاف ہوسکتا ہے، تحقیر ضروری نہیں۔ علمی رد ہوسکتا ہے، ذاتی دشمنی ضروری نہیں۔
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے
پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک جامع اصول بیان فرمایا:
«الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ»
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔
یہ اخوت محض جذباتی نعرہ نہیں۔ حدیث فوراً اس کے عملی تقاضے بیان کرتی ہے:
«لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ»
وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا اور اسے حقیر نہیں سمجھتا۔
گویا اخوت کا ثبوت الفاظ سے زیادہ رویّے میں سامنے آتا ہے۔
نہ اس پر ظلم کرے
«لَا يَظْلِمُهُ» ایک بہت وسیع اصول ہے۔
کسی کا مال ناجائز لینا ظلم ہے۔ کسی کی عزت خراب کرنا ظلم ہے۔ کسی کا حق روکنا ظلم ہے۔ کسی کمزور کو اپنی طاقت سے دبانا ظلم ہے۔ جھوٹا الزام لگانا ظلم ہے۔ کسی ملازم کی جائز اجرت روکنا ظلم ہے۔
اسلامی اخوت کا پہلا عملی تقاضا یہ ہے کہ دوسرا شخص ہمارے ہاتھ اور زبان سے محفوظ ہو۔
اسے تنہا نہ چھوڑے
فرمایا:
«وَلَا يَخْذُلُهُ»
یعنی ایسے موقع پر اسے بے یار و مددگار نہ چھوڑے جہاں جائز طور پر اس کی مدد مطلوب ہو۔
کبھی انسان خود ظلم نہیں کرتا، مگر کسی مظلوم کو ظلم کا شکار دیکھ کر اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اسے اپنا مفاد عزیز ہے۔
حدیث ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتی کہ ظالم نہ بنو؛ بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ البتہ مدد ہمیشہ عدل اور شرعی حدود کے مطابق ہوگی، محض گروہی یا شخصی وابستگی کی بنیاد پر نہیں۔
تحقیر — ایک خطرناک اخلاقی بیماری
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«وَلَا يَحْقِرُهُ»
وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر نہیں سمجھتا۔
پھر اس معاملے کی سنگینی واضح کرتے ہوئے فرمایا:
«بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ»
کسی انسان کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔
انسان کسی کو اس کی غربت، تعلیم، پیشے، زبان، خاندان، لباس یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کمتر سمجھ سکتا ہے۔ کبھی دینی علم یا عبادت بھی غرور کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انسان دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
حدیث اس ذہنیت کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔
تقویٰ کہاں ہے؟
اسی مقام پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«التَّقْوَى هَاهُنَا»
تقویٰ یہاں ہے۔
اور اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ فرمایا۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر صرف ظاہری حیثیت، مال یا شہرت سے متعین نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تقویٰ بنیادی معیار ہے۔
لیکن اس فرمان کو ظاہری اعمال کی اہمیت ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا بھی درست نہیں۔ صحیح تقویٰ دل میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے آثار انسان کے اعمال، زبان اور اخلاق میں ظاہر ہوتے ہیں۔
جان، مال اور عزت — تین بڑی حرمتیں
حدیث کے آخر میں رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت جامع اصول فرمایا:
«كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»
مسلمان کی تین بنیادی حرمتیں یہاں نمایاں کی گئیں:
- اس کی جان؛
- اس کا مال؛
- اس کی عزت و آبرو۔
ہم عموماً جان اور مال کی حرمت کو سمجھتے ہیں، لیکن حدیث نے عزت کو بھی انہی بنیادی حقوق کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا معمولی معاملہ نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی عزت حرام ہے
آج اس حدیث کا ایک اہم میدان سوشل میڈیا ہے۔
کسی شخص کے بارے میں غیر مصدقہ الزام آگے بڑھانا، مذاق اڑانا، تحقیر آمیز تصویر یا ویڈیو پھیلانا، کسی کی غلطی کو بلا ضرورت ہزاروں لوگوں کے سامنے پیش کرنا یا محض اختلاف کی وجہ سے اس کی شخصیت کو نشانہ بنانا—یہ سب کرتے وقت ہمیں حدیث کے یہ الفاظ یاد رکھنے چاہییں:
«وَعِرْضُهُ» — اس کی عزت بھی حرام ہے۔
جو بات ہم کسی شخص کے سامنے کہنا پسند نہیں کرتے، اسے ہزاروں لوگوں کے سامنے لکھ دینے سے اس کی اخلاقی نوعیت بہتر نہیں ہوجاتی۔
اختلاف اور عزت ایک ساتھ ممکن ہیں
کسی غلط بات کی علمی تردید کرنا اور کسی انسان کی تحقیر کرنا ایک چیز نہیں۔
غلطی کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔ دلیل کے ساتھ اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ علمی تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے گالی، تمسخر، کردار کشی اور ذاتی تضحیک ضروری نہیں۔
حق کی حفاظت اور انسان کی عزت کی حفاظت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔
دوسروں کے دل کا فیصلہ نہ کریں
گزشتہ درس میں ہم نے نیت کے بارے میں پڑھا تھا۔ آج کی حدیث اس سبق کو ایک اور پہلو سے مکمل کرتی ہے۔
اپنی نیت کی نگرانی ہماری ذمہ داری ہے، لیکن دوسروں کے دلوں کے بارے میں بلا دلیل فیصلے صادر کرنا ہمارا کام نہیں۔
کسی شخص کے عمل سے اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن یہ کہہ دینا کہ وہ لازماً شہرت، حسد یا کسی پوشیدہ بدنیتی کی وجہ سے ایسا کررہا ہے، ایسی بات ہے جس کے لیے ہمارے پاس اکثر علم نہیں ہوتا۔
آج کا عملی سبق
آج تین چیزوں کی حفاظت کیجیے:
اپنا دل: کسی کی نعمت دیکھ کر حسد سے بچیں۔
اپنی زبان: کسی انسان کو حقیر کہنے، مذاق اڑانے یا اس کی عزت مجروح کرنے سے بچیں۔
اپنا رویّہ: کسی ایسے شخص کی جائز مدد کیجیے جسے واقعی آپ کی ضرورت ہو۔
اور سوشل میڈیا پر کوئی منفی چیز share کرنے سے پہلے چند لمحے رک کر سوچیے:
اگر یہ بات میرے بارے میں ہوتی تو کیا میں چاہتا کہ لوگ اسے تحقیق کے بغیر آگے بڑھائیں؟
آج کا محاسبہ
رات کو اپنے آپ سے پوچھیے:
کیا آج میں نے کسی انسان کو دل میں حقیر سمجھا؟
کیا میری زبان یا تحریر سے کسی کی عزت متاثر ہوئی؟
کیا کسی کی کامیابی یا نعمت نے میرے دل میں حسد پیدا کیا؟
کیا آج میں کسی ضرورت مند کی جائز مدد کرسکتا تھا مگر نہیں کی؟
آج کی دعا
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ الْحَسَدِ وَالْكِبْرِ وَالْبَغْضَاءِ، وَأَصْلِحْ أَلْسِنَتَنَا وَأَخْلَاقَنَا، وَاجْعَلْنَا إِخْوَانًا مُتَحَابِّينَ فِيكَ
اے اللہ! ہمارے دلوں کو حسد، تکبر اور بغض سے پاک فرما، ہماری زبانوں اور اخلاق کی اصلاح فرما، اور ہمیں اپنی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی بنا۔
خلاصۂ درس
آج کی حدیث ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانے کی تعلیم دیتی ہے جس کی بنیاد صرف قانونی حقوق پر نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، باہمی احترام اور انسانی حرمت پر ہو۔
حسد دل کو خراب کرتا ہے، فریب معاملات کو خراب کرتا ہے، بغض تعلقات کو خراب کرتا ہے اور تحقیر انسانوں کی عزت کو تباہ کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سب کے مقابلے میں ایک جامع اصول دیا:
«وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»
اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
اور اس اخوت کی عملی حدیں بھی واضح کردیں:
«كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»
اس کی جان محفوظ، اس کا مال محفوظ اور اس کی عزت محفوظ۔
مصادر و مراجع
مسلم بن الحجاج، الصحيح، كتاب البر والصلة والآداب، حدیث: 2564۔
النووي، المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، شرح حديث «لا تحاسدوا»۔
ابن رجب الحنبلي، جامع العلوم والحكم، شرح الحديث الخامس والثلاثين۔
القرآن الكريم: سورۃ الحجرات، بالخصوص آیات 10–12۔
Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.