منافقت کی چار عملی نشانیاں

جھوٹ، وعدہ خلافی، خیانت اور جھگڑے میں حق سے تجاوز

درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی

آج کی جامع حدیث

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


«أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ»

ترجمہ: چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ سب موجود ہوں، اس میں نفاق کی خصلتیں پوری طرح جمع ہوگئیں، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو، اس میں نفاق کی ایک خصلت موجود رہتی ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو بدعہدی کرے، اور جب جھگڑا کرے تو حق و انصاف کی حد سے گزر جائے۔

حوالہ: صحیح البخاری، كتاب الإيمان، حدیث: 34؛ صحیح مسلم، كتاب الإيمان، حدیث: 58۔

تین علامات والی حدیث

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری صحیح روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ»

ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔

حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 33؛ صحیح مسلم، حدیث: 59۔

دونوں روایات میں کوئی تعارض نہیں۔ ایک روایت میں تین نمایاں علامات بیان ہوئی ہیں، جبکہ دوسری روایت میں چار خصلتیں ذکر کرکے مسئلے کی مزید وضاحت کردی گئی ہے۔ ان صحیح روایات کو جمع کرنے سے منافقانہ کردار کے اہم عملی مظاہر زیادہ جامع صورت میں سامنے آتے ہیں۔

چوتھی علامت: جھگڑے میں حق سے تجاوز

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ»

یہ نہایت جامع اور ہمارے روزمرہ حالات سے گہرا تعلق رکھنے والا جملہ ہے۔

فجور فی الخصومة کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اختلاف یا جھگڑے میں حق و انصاف کی حدود توڑ دے۔ مقصد حق واضح کرنا نہ رہے بلکہ ہر قیمت پر مخالف کو شکست دینا بن جائے۔ پھر وہ جھوٹ، بہتان، گالی، تحقیر، غلط الزام، حقیقت چھپانے یا دوسرے کی کمزوریاں اچھالنے سے بھی نہ رکے۔

اختلاف نفاق نہیں، بے اصول اختلاف خطرناک ہے

دو انسانوں کا اختلاف ہوجانا بذاتِ خود کوئی منافقانہ خصلت نہیں۔ علمی، فقہی، تجارتی، خاندانی اور انتظامی معاملات میں اختلاف ہوسکتا ہے۔

اصل امتحان اختلاف کے بعد شروع ہوتا ہے۔

کیا میں اپنے مخالف کے بارے میں بھی سچ بولتا ہوں؟ کیا میں اس کی صحیح بات کو صحیح تسلیم کرسکتا ہوں؟ کیا میں اس پر وہ الزام لگانے سے بچتا ہوں جس کا میرے پاس ثبوت نہیں؟ کیا غصہ مجھے انصاف سے باہر لے جاتا ہے؟

قرآن مجید نے یہی اصول دیا:


﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾

(المائدۃ: 8)

ترجمہ: کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔

غصے میں کردار کا اصل امتحان

دوستی کی حالت میں اچھے الفاظ استعمال کرنا آسان ہے۔ اصل اخلاق اس وقت سامنے آتا ہے جب انسان ناراض ہو۔

کبھی برسوں کی دوستی ایک اختلاف پر ختم ہوتی ہے اور پھر دونوں فریق ایک دوسرے کے وہ راز ظاہر کرنا شروع کردیتے ہیں جو اعتماد کے زمانے میں انہیں معلوم ہوئے تھے۔

یہ طرزِ عمل صرف تعلق ختم کرنا نہیں؛ امانت، زبان اور انصاف—تینوں کا امتحان ہے۔

مومن اختلاف کرسکتا ہے، لیکن اختلاف اسے اخلاقی حدود سے آزاد نہیں کرتا۔

بحث جیتنے کے لیے جھوٹ

«وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ» کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان بحث جیتنے کے لیے ایسی بات مخالف کی طرف منسوب کردے جو اس نے کہی ہی نہیں۔

کبھی کسی کی بات کا آدھا حصہ نقل کیا جاتا ہے اور باقی حصہ چھپا دیا جاتا ہے۔ کبھی عبارت کو سیاق سے الگ کرکے ایسا مفہوم پیدا کیا جاتا ہے جو مصنف کا مقصود نہیں تھا۔ کبھی مخالف کی کمزور ترین بات کو اس کے پورے موقف کی نمائندگی بناکر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ علمی دیانت کے خلاف ہے۔

حق کی حمایت باطل طریقے سے نہیں کی جاسکتی۔

سوشل میڈیا کے جھگڑے

آج «وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ» کا ایک بڑا میدان سوشل میڈیا ہے۔

ایک اختلاف شروع ہوتا ہے، پھر دلیل پیچھے رہ جاتی ہے اور ذاتی حملے شروع ہوجاتے ہیں۔ پرانی تصاویر، نجی messages، خاندانی معاملات، طنزیہ القاب اور غیر متعلقہ کمزوریاں سامنے لائی جاتی ہیں۔

کبھی انسان سمجھتا ہے کہ چونکہ دوسرا شخص غلط ہے، اس لیے اب اس کے خلاف ہر طریقہ جائز ہے۔

حدیث اس سوچ کو رد کرتی ہے۔

مخالف کی غلطی ہمیں ظلم کا حق نہیں دیتی۔

خاندانی اختلاف میں بھی انصاف

میاں بیوی، بہن بھائی، رشتہ دار یا کاروباری شریک جب ناراض ہوتے ہیں تو بعض اوقات موجودہ اختلاف کے ساتھ برسوں پرانی غلطیاں بھی نکال لاتے ہیں۔

ایک مسئلہ حل کرنے کے بجائے دوسرے انسان کی پوری شخصیت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے۔

اسلام اختلاف کے وقت بھی عدل چاہتا ہے۔ جس معاملے پر اختلاف ہے بات اسی تک محدود رکھی جائے، اور دوسرے کے صحیح پہلو کا انکار محض ناراضی کی وجہ سے نہ کیا جائے۔

علمی اور مذہبی اختلاف میں زیادہ احتیاط

دینی اور علمی اختلاف میں اس حدیث کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں انسان اپنی سختی کو کبھی ’’دفاعِ حق‘‘ کا نام دے دیتا ہے۔

غلط موقف کی علمی تردید ضروری ہوسکتی ہے، لیکن علمی رد کے لیے غلط نسبت، تحقیر، نیت خوانی یا غیر ثابت الزام ضروری نہیں۔

محقق کی دیانت یہ ہے کہ مخالف کی بات کو بھی صحیح طور پر نقل کرے، پھر دلیل سے اس کا جائزہ لے۔

اگر مخالف کے پاس کوئی درست دلیل ہو تو اسے صرف اس لیے رد نہ کرے کہ وہ مخالف کی دلیل ہے۔

چار خصلتوں کا باہمی تعلق

اب پوری حدیث کو ایک ساتھ دیکھیے:

بات میں جھوٹ: حقیقت محفوظ نہیں۔

عہد میں غدر: وعدہ محفوظ نہیں۔

امانت میں خیانت: سپرد کی گئی چیز محفوظ نہیں۔

جھگڑے میں فجور: انصاف محفوظ نہیں۔

یوں نفاق کی یہ عملی خصلتیں انسانی اعتماد کے بنیادی ستونوں کو تباہ کرتی ہیں۔

اس کے برعکس مومن کا کردار یہ ہے:

گفتگو میں سچائی، عہد میں وفا، امانت میں دیانت اور اختلاف میں انصاف۔

حدیث کے الفاظ میں ایک بڑی امید

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«حَتَّى يَدَعَهَا»

یہاں تک کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے۔

یہ الفاظ صرف تنبیہ نہیں بلکہ اصلاح کا دروازہ بھی کھولتے ہیں۔

اگر انسان اپنے اندر جھوٹ، وعدہ خلافی، خیانت یا جھگڑے میں بے اعتدالی پاتا ہے تو اسے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے اس خصلت کو پہچاننا، اس سے توبہ کرنا اور اسے چھوڑنا ہے۔

برائی شخصیت کی مستقل تقدیر نہیں۔ انسان اللہ کی توفیق سے اپنا کردار بدل سکتا ہے۔

آج کا عملی سبق

آج اپنے کسی موجودہ اختلاف کو ذہن میں لائیے۔ پھر اپنے آپ سے پوچھیے:

کیا میں نے مخالف کی بات صحیح نقل کی ہے؟

کیا میں نے اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جس کا میرے پاس ثبوت نہیں؟

کیا غصے میں میں نے اس کی کوئی نجی بات ظاہر کردی؟

اگر وہ کسی بات میں درست ہے تو کیا میں اسے تسلیم کرسکتا ہوں؟

اگر کسی مقام پر زیادتی ہوئی ہے تو آج ہی اسے درست کرنا اس حدیث پر عمل ہے۔

آج کا محاسبہ


بات میں سچ؟
عہد میں وفا؟
امانت میں دیانت؟
اختلاف میں انصاف؟

یہ چار سوال روزانہ چند لمحوں میں ہمارے کردار کا ایک مؤثر محاسبہ بن سکتے ہیں۔

آج کی دعا


اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا الصِّدْقَ وَالْوَفَاءَ وَالْأَمَانَةَ وَالْعَدْلَ، وَطَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ النِّفَاقِ، وَأَلْسِنَتَنَا مِنَ الْكَذِبِ، وَخُصُومَاتِنَا مِنَ الظُّلْمِ

اے اللہ! ہمیں سچائی، وفا، امانت اور انصاف عطا فرما، ہمارے دلوں کو نفاق سے، ہماری زبانوں کو جھوٹ سے اور ہمارے اختلافات کو ظلم و زیادتی سے پاک فرما۔

خلاصۂ درس

رسول اللہ ﷺ نے نفاق کی عملی خصلتوں کا ایسا آئینہ ہمارے سامنے رکھا ہے جس میں صرف دوسروں کو نہیں بلکہ سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے۔


«إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ»

جھوٹ زبان کی دیانت ختم کرتا ہے، غدر عہد کی حرمت توڑتا ہے، خیانت اعتماد کو تباہ کرتی ہے، اور جھگڑے میں فجور انصاف کا دامن چھڑا دیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایمانی کردار کا خلاصہ چار الفاظ میں کیا جاسکتا ہے:

سچائی — وفا — امانت — انصاف

مصادر و مراجع

القرآن الكريم: سورۃ البقرۃ: 8–16؛ سورۃ المائدۃ: 8؛ سورۃ النساء: 58۔
البخاري، الصحيح، كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، حدیث: 33–34۔
مسلم بن الحجاج، الصحيح، كتاب الإيمان، باب بيان خصال المنافق، حدیث: 58–59۔
النووي، المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، باب بيان خصال المنافق۔
ابن حجر العسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، باب علامة المنافق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *