فقہ الحدیث — درس اوّل

محض شک کی وجہ سے پہلے سے ثابت شدہ وضو ختم نہیں سمجھا جائے گا

وضو میں شک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟

تحریر: حافظ محمد اشرف کریمی
سلسلہ: فقہِ حدیث — روزمرہ زندگی کے شرعی مسائل


دینِ اسلام نے عبادات میں یقین، اطمینان اور سہولت کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ بعض اوقات انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اچانک اسے شک ہونے لگتا ہے کہ اس کا وضو باقی ہے یا ٹوٹ چکا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت نے ایک نہایت واضح اور آسان اصول دیا ہے: محض شک کی وجہ سے پہلے سے ثابت شدہ وضو ختم نہیں سمجھا جائے گا۔

حدیثِ نبوی ﷺ

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جسے نماز کے دوران خیال ہوتا تھا کہ شاید اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا

’’وہ نماز سے نہ نکلے، یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کرے۔‘‘

(صحیح البخاری، کتاب الوضوء؛ صحیح مسلم، کتاب الحیض)

فقہِ حدیث

:اس حدیث سے فقہ کا ایک نہایت اہم اور وسیع اصول اخذ کیا گیا ہے

الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ

“یقین شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا۔”

یعنی جس شخص کو یقینی طور پر معلوم ہے کہ اس نے وضو کیا تھا، پھر بعد میں صرف یہ شک پیدا ہوا کہ شاید وضو ٹوٹ گیا ہو، تو اس کا وضو بدستور قائم سمجھا جائے گا۔ وضو کے ٹوٹنے کے لیے محض وہم یا احتمال کافی نہیں۔

اسی طرح اگر کسی شخص کو یقین ہے کہ اس کا وضو نہیں تھا، مگر بعد میں شک ہو کہ شاید اس نے وضو کر لیا تھا، تو اصل حالت بے وضو ہونا ہے؛ لہٰذا اسے وضو کرنا ہوگا۔

کیا حدیث میں آواز سننا یا بو محسوس کرنا شرط ہے؟

حدیث کے الفاظ کا مطلب یہ نہیں کہ وضو صرف اسی وقت ٹوٹے گا جب آواز سنائی دے یا بو محسوس ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ یقین حاصل ہونے کی مثال کے طور پر بیان فرمائے ہیں۔

اگر کسی شخص کو کسی اور طریقے سے یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ اس سے ناقضِ وضو صادر ہوا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا، خواہ آواز یا بو نہ ہو۔

وسوسے کا علاج

یہ نبوی تعلیم بالخصوص ان لوگوں کے لیے بہت بڑی سہولت ہے جو طہارت اور نماز کے بارے میں بار بار وسوسے کا شکار ہوتے ہیں۔

:کبھی انسان سوچتا ہے

شاید وضو ٹوٹ گیا ہے۔
شاید کچھ خارج ہوا ہے۔
شاید دوبارہ وضو کرنا چاہیے۔

اگر اس کے پاس صرف شک ہے اور یقین نہیں، تو اسے اس شک کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے۔ بار بار وضو کرنا غیر ضروری مشقت پیدا کرتا ہے اور وسوسے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ایک عملی مثال

آپ نے ظہر سے پہلے وضو کیا۔ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو خیال آیا کہ شاید وضو کے بعد کوئی ایسی چیز پیش آئی تھی جس سے وضو ٹوٹ گیا ہو، لیکن آپ کو یقین نہیں۔

حکم: آپ باوضو ہیں۔ نماز جاری رکھیں۔

اس کے برعکس اگر آپ کو واضح طور پر یاد آجائے کہ وضو کے بعد ناقضِ وضو پیش آیا تھا اور اس کے بعد دوبارہ وضو نہیں کیا، تو وضو کرنا ضروری ہوگا۔

فقہی مذاہب اور اصولِ یقین

یہ اصول کسی ایک فقہی مکتب تک محدود نہیں، بلکہ فقہائے اسلام نے مختلف ابواب میں یقین اور شک کے فرق کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ طہارت، نماز، روزہ، نکاح، طلاق، معاملات اور دیگر متعدد فقہی ابواب میں ’’اليقين لا يزول بالشك‘‘ سے مسائل اخذ کیے جاتے ہیں۔

آج کا فقہی سبق

اگر وضو کا یقین ہو اور ٹوٹنے میں صرف شک ہو تو انسان باوضو ہے۔

اگر بے وضو ہونے کا یقین ہو اور وضو کرنے میں شک ہو تو وہ بے وضو ہے۔

:مختصر اصول یاد رکھیے

یقین پر عمل کریں، محض شک کو نظر انداز کریں۔

عملی پیغام

اسلام انسان کو وسوسوں اور غیر ضروری مشقت میں مبتلا نہیں کرتا۔ عبادت اطمینان، یقین اور اتباعِ سنت کے ساتھ کیجیے۔ جس چیز کا یقین ہو اسی پر حکم قائم کیجیے، اور محض وہم کو اپنے وضو اور نماز پر حاوی نہ ہونے دیجیے۔

واللہ أعلم بالصواب

Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *