نماز میں بھول ہوجائے تو کیا کریں؟


سلسلہ: فقہ الحدیث — روزمرہ زندگی کے شرعی مسائل


نماز میں بھول انسان سے ہوسکتی ہے۔ کبھی رکعتوں کی تعداد میں شک ہوجاتا ہے، کبھی کوئی عمل رہ جاتا ہے اور کبھی نمازی کسی عمل میں اضافہ کر بیٹھتا ہے۔ شریعت نے ایسی انسانی بھول کے لیے سجدۂ سہو کی صورت میں آسانی اور اصلاح کا طریقہ مقرر کیا ہے۔

حدیثِ نبوی ﷺ

:حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ

مفہوم: ’’جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو اور اسے معلوم نہ رہے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو شک کو چھوڑ دے اور جس تعداد کا یقین ہے اس پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے۔‘‘

(صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة)

بنیادی مسئلہ

اگر نمازی کو شک ہوجائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، اور کسی ایک جانب ترجیح قائم نہ ہوسکے، تو وہ یقینی تعداد یعنی کم تعداد کو بنیاد بنائے گا۔

مثلاً تین یا چار میں شک ہے اور کوئی جانب غالب نہیں، تو تین رکعتیں شمار کرے، چوتھی مکمل کرے اور سجدۂ سہو کرے۔

یہاں بھی وہی عظیم فقہی قاعدہ سامنے آتا ہے:

الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ

’’یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔‘‘

اگر ایک جانب غالب گمان ہو؟

اس مسئلے سے متعلق دوسری صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر غور کرنے کے بعد نمازی کو کسی ایک جانب قوی گمان ہوجائے تو وہ غالب گمان کے مطابق نماز مکمل کرسکتا ہے اور سجدۂ سہو کرے گا۔

اس طرح احادیث کو جمع کرنے سے دو صورتیں سامنے آتی ہیں

پہلی صورت: کسی طرف ترجیح نہیں — یقینی یعنی کم تعداد پر بنا کرے۔

دوسری صورت: کسی ایک طرف قوی گمان ہے — غالب گمان کے مطابق نماز مکمل کرے۔

سجدۂ سہو کیا ہے؟

نماز میں بھول کی تلافی کے لیے کیے جانے والے دو سجدوں کو سجدۂ سہو کہا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے مختلف مواقع پر سجدۂ سہو سلام سے پہلے بھی ثابت ہے اور سلام کے بعد بھی۔ اسی بنا پر فقہاء کے درمیان اس کی تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

لہٰذا کسی ایک معتبر فقہی طریقے پر عمل کرنے والے شخص کے بارے میں محض اس وجہ سے سختی کرنا درست نہیں کہ اس نے سجدۂ سہو سلام سے پہلے یا بعد میں کیا ہے۔

لیکن سجدہ سہو کے بعد دوبارہ تشہد کے لیے نہیں بیٹھا جائے گا بلکہ فورا سلام پھیر دیا جائے گا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدہ سہو کرنے کے بعد دوبارہ تشہد کے لیے بیٹھنا ثابت نہیں ہے۔

سجدہ سہوکے لیے کوئی دعا خاص نہیں ہے بلکہ وہی دعائیں پڑھی جائیں گی جو نماز میں سجدہ کی حالت میں پڑھی جاتی ہیں

فقہی مذاہب میں تفصیل

سجدۂ سہو کے اسباب اور اس کے سلام سے پہلے یا بعد میں ہونے کی تفصیلات میں فقہائے احناف، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے درمیان بعض فروعات میں اختلاف موجود ہے۔ یہ اختلاف متعلقہ احادیث کو جمع کرنے اور ان کے اطلاق کے طریقوں سے پیدا ہوا ہے۔

اس لیے عام مسلمان کو ایسے مسائل میں معتبر اہلِ علم سے رہنمائی لیتے ہوئے اختلافی مسائل کو نزاع کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

ایک عملی مثال

آپ ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ آخری رکعت میں اچانک شک ہوا

’’میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟‘‘

آپ نے غور کیا مگر کسی ایک تعداد کا غالب گمان نہیں ہوا۔

ایسی صورت میں تین کو یقینی سمجھیں، ایک رکعت مزید پڑھیں اور سجدۂ سہو کریں۔

بار بار شک ہونے کا حکم

اگر کسی شخص کو تقریباً ہر نماز میں رکعتوں کے بارے میں وسوسہ ہوتا رہتا ہے تو ہر مرتبہ اس وسوسے کے پیچھے چلنا درست طرزِ عمل نہیں۔ مسلسل وسوسے کو نظر انداز کرنا چاہیے اور یقین کے مطابق نماز جاری رکھنی چاہیے۔

شریعت انسان کو عبادت میں اطمینان چاہتی ہے، دائمی اضطراب نہیں۔

آج کا فقہی سبق

نماز میں بھول ہوجانا بذاتِ خود گناہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی اصلاح کا طریقہ سکھایا ہے۔

شک کی صورت میں یقین کو بنیاد بنائیے، نماز مکمل کیجیے اور شرعی صورت کے مطابق سجدۂ سہو کیجیے۔

عملی پیغام

نماز کے مسائل سیکھنا خود نماز کی حفاظت کا حصہ ہے۔ ہمیں صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نماز میں بھول، کمی، زیادتی یا شک ہوجائے تو سنت ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے۔

واللہ أعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *