بندگی اور استعانت: زندگی کا مرکز

درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی

زیرِ مطالعہ آیت

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾
(سورۃ الفاتحہ: 5)

ترجمہ:
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

سورۃ الفاتحہ کی ابتدائی آیات میں بندہ اپنے رب کو رب العالمین، الرحمن، الرحیم اور مالک یوم الدین کے اوصاف سے پہچانتا ہے۔ اس معرفت کے بعد اب اس کے سامنے بنیادی سوال آتا ہے: جب میرا رب وہی ہے، رحمت کا سرچشمہ بھی وہی ہے اور روزِ جزا کا مالک بھی وہی ہے، تو میری زندگی کا مرکز کون ہونا چاہیے؟

قرآن اس سوال کا جواب ایک مختصر مگر نہایت جامع جملے میں دیتا ہے:

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾

یعنی ہماری بندگی بھی صرف تیرے لیے ہے اور ہمارا حقیقی سہارا بھی تو ہی ہے۔

صرف تیری ہی عبادت

عربی زبان میں عام ترتیب کے بجائے ﴿إِيَّاكَ﴾ کو پہلے لانے سے اختصاص کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ گویا بندہ اپنے رب کے حضور اعلان کرتا ہے: اے اللہ! ہماری عبادت صرف تیرے لیے ہے۔

عبادت کو صرف نماز، روزہ اور چند مخصوص مذہبی اعمال تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ قرآن کی تعلیم میں عبادت ایک وسیع حقیقت ہے۔ نماز، روزہ، دعا، ذکر، تلاوت اور حج یقیناً عبادت ہیں، لیکن اللہ کی اطاعت، حلال و حرام کی پابندی، والدین کے حقوق، دیانت دارانہ کاروبار، عدل، سچائی، حسنِ اخلاق اور اللہ کی رضا کے لیے انجام دیا جانے والا ہر مشروع عمل بھی بندگی کے مفہوم میں شامل ہوسکتا ہے۔

﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
(الأنعام: 162)

ترجمہ: کہہ دیجیے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔

پس بندگی کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ مسجد میں اللہ کو یاد کیا جائے؛ بلکہ بازار، گھر، دفتر، درس گاہ اور معاشرتی معاملات میں بھی انسان یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کیا چاہتا ہے۔

عبادت میں اخلاص

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ ہمیں اخلاص بھی سکھاتی ہے۔ عبادت اللہ کے لیے ہو، لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دینی وقار قائم کرنے کے لیے نہیں۔

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
(البينة: 5)

یعنی انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اسی کی عبادت کریں۔

یہاں انسان کو اپنے آپ سے ایک سوال کرتے رہنا چاہیے: میں یہ کام کس کے لیے کر رہا ہوں؟

بعض اوقات عمل بہت بڑا نظر آتا ہے مگر نیت میں خرابی اسے بے وزن کردیتی ہے، اور بعض اوقات ایک معمولی سا نیک عمل خالص نیت کی وجہ سے اللہ کے ہاں بڑی قدر حاصل کرلیتا ہے۔

اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں

آیت کا دوسرا حصہ ہے:

﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾

یہاں بندہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ عبادت کا عہد تو کرتا ہے، مگر ساتھ ہی جانتا ہے کہ اللہ کی توفیق کے بغیر وہ اس عہد کو پورا نہیں کرسکتا۔

یہ اسلام کی تربیت کا نہایت حسین توازن ہے: ذمہ داری انسان کی، توفیق اللہ کی۔

مومن کوشش ترک نہیں کرتا، اسباب اختیار کرتا ہے، علم حاصل کرتا ہے، محنت کرتا ہے، علاج کراتا ہے، روزگار تلاش کرتا ہے اور مشکلات کے حل کے لیے جائز انسانی ذرائع سے مدد بھی لیتا ہے؛ لیکن اس کا دل اسباب میں اٹک نہیں جاتا۔ وہ جانتا ہے کہ اسباب مؤثر بالذات نہیں، حقیقی اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
(الطلاق: 3)

ترجمہ: اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔

اسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں

بعض اوقات اللہ سے مدد مانگنے کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ انسان عملی تدبیر چھوڑ دے۔ قرآن و سنت کا منہج ایسا نہیں۔

بیماری میں علاج اختیار کرنا، رزق کے لیے محنت کرنا، علم کے لیے استاد سے رجوع کرنا، مشکل کام میں اہلِ مہارت سے مدد لینا—یہ سب جائز اسباب ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان سبب کو اصل کارساز نہ سمجھ لے۔

مومن کے ہاتھ اسباب میں مصروف ہوتے ہیں، لیکن اس کا دل اللہ سے وابستہ رہتا ہے۔

عبادت پہلے، استعانت بعد میں کیوں؟

آیت میں پہلے فرمایا:

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾

پھر:

﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾

اس ترتیب میں بھی بڑی تربیت ہے۔ انسان کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی ہے، اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اسے اللہ کی مدد درکار ہے۔ گویا بندہ عرض کرتا ہے:

اے اللہ! میں تیرا بندہ بن کر جینا چاہتا ہوں، مگر تیری مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں۔

اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو سکھائی گئی دعا میں نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا:

«اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ»

ترجمہ: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔

(سنن أبي داود، كتاب الصلاة؛ سنن النسائي)

یہ دعا دراصل ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ کی عملی تفسیر معلوم ہوتی ہے: عبادت بھی کرنی ہے اور اسی عبادت کے لیے اللہ سے مدد بھی مانگنی ہے۔

’’میں‘‘ نہیں، ’’ہم‘‘

آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ میں تیری عبادت کرتا ہوں اور میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں، بلکہ فرمایا:

ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔

یہ تعبیر مومن کو اجتماعیت کا شعور دیتی ہے۔ اسلام انسان کو صرف اپنی نجات تک محدود نہیں کرتا۔ مسلمان امت کا حصہ ہے۔ اس کی عبادت، اخلاق، ذمہ داریاں اور دعائیں ایک وسیع ایمانی برادری سے مربوط ہیں۔

نماز میں ایک شخص اکیلا کھڑا ہو تب بھی وہ کہتا ہے:

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ — ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔

یوں قرآن ہر روز اس کے اندر انفرادیت کے ساتھ اجتماعیت کا احساس بھی تازہ کرتا ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی کے لیے سبق

اس ایک آیت کو زندگی میں اتار لیا جائے تو بہت سی ترجیحات درست ہوسکتی ہیں۔

  • کام شروع کرتے ہوئے سوال ہو: کیا یہ اللہ کی رضا کے مطابق ہے؟
  • نیکی کرتے ہوئے سوال ہو: میں یہ کس کے لیے کررہا ہوں؟
  • مشکل پیش آئے تو دل کہے: میرا اصل سہارا اللہ ہے۔
  • کامیابی ملے تو اللہ کی توفیق کا اعتراف کیا جائے۔
  • ناکامی آئے تو مایوسی کے بجائے اپنی کوشش کا جائزہ لے کر اپنے رب سے مدد مانگی جائے۔
  • عبادت میں سستی ہو تو اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کی جائے۔

یوں ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ ہماری زندگی کا مقصد متعین کرتا ہے اور ﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ اس مقصد تک پہنچنے کا سہارا بتاتا ہے۔

آج کا عملی سبق

آج اپنے معمولات میں سے کسی ایک کام کا انتخاب کیجیے—نماز، مطالعہ، ملازمت، تجارت، تدریس، گھر کی ذمہ داری یا کسی انسان کی خدمت۔

پھر اپنے آپ سے دو سوال کیجیے:

کیا میں اسے اللہ کی رضا کے مطابق انجام دے رہا ہوں؟

کیا میں اس میں اپنی قوت پر بھروسا کررہا ہوں یا اللہ سے توفیق بھی مانگ رہا ہوں؟

یہ دو سوال آیت کے دونوں حصوں کو ہماری عملی زندگی سے جوڑ دیتے ہیں۔

آج کی دعا

اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ

اے اللہ! ہمیں اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر مدد عطا فرما۔

خلاصۂ درس

سورۃ الفاتحہ کی یہ مختصر آیت پورے انسانی سفر کی سمت متعین کردیتی ہے۔ ہم کس کے لیے جئیں؟ — اللہ کے لیے۔ کس کی بندگی کریں؟ — صرف اللہ کی۔ اپنی کمزوری میں حقیقی مدد کس سے مانگیں؟ — اللہ سے۔

بندگی انسان کو مقصد دیتی ہے اور استعانت اسے غرور سے بچاتی ہے۔ پہلی حقیقت کہتی ہے کہ تم ذمہ دار ہو؛ دوسری یاد دلاتی ہے کہ تم بے نیاز نہیں۔

﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ — اے اللہ! بندگی صرف تیری۔

﴿وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ — اور بھروسا و حقیقی مدد بھی تجھی سے۔

مصادر و مراجع

القرآن الكريم: سورۃ الفاتحہ: 5؛ سورۃ الأنعام: 162؛ سورۃ البینہ: 5؛ سورۃ الطلاق: 3۔

الطبري، جامع البيان عن تأويل آي القرآن۔
ابن كثير، تفسير القرآن العظيم۔
القرطبي، الجامع لأحكام القرآن۔
السعدي، تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان۔
أبو داود، السنن، كتاب الصلاة۔
النسائي، السنن، كتاب السهو۔

Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *