قرآن سے رہنمائی — درس سوم
ہدایت کی مسلسل ضرورت
درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی
زیرِ مطالعہ آیات
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾
(سورۃ الفاتحہ: 6–7)
ترجمہ:
ہمیں سیدھا راستہ دکھا؛ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ ان لوگوں کا جن پر غضب ہوا، اور نہ گمراہوں کا۔
سب سے بڑی دعا کیا ہے؟
انسان اللہ تعالیٰ سے بہت کچھ مانگتا ہے۔ صحت، رزق، اولاد، کامیابی، امن اور مشکلات سے نجات—یہ سب جائز اور اہم دعائیں ہیں۔ لیکن قرآن نے ایک ایسی دعا ہمیں ہر نماز میں بار بار سکھائی ہے جو ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾
اے ہمارے رب! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت صرف یہ نہیں کہ اس کی دنیا آسان ہوجائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے زندگی گزارنے کا صحیح راستہ مل جائے۔ کیونکہ مال موجود ہو لیکن راستہ غلط ہو، علم موجود ہو مگر سمت غلط ہو، طاقت موجود ہو لیکن استعمال غلط ہو، تو یہی نعمتیں انسان کے لیے آزمائش بن سکتی ہیں۔
اس کے برعکس جسے اللہ تعالیٰ صحیح راستہ عطا کردے، اسے زندگی کا مقصد، اعمال کی سمت اور آخرت کی منزل سب واضح ہوجاتے ہیں۔
ہدایت صرف راستہ جان لینے کا نام نہیں
ہم عموماً ہدایت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ انسان کو صحیح اور غلط کا علم ہوجائے۔ لیکن قرآنی ہدایت اس سے کہیں وسیع ہے۔
ہدایت میں یہ سب شامل ہیں:
- حق کو پہچاننا؛
- حق کو قبول کرنا؛
- اس پر عمل کرنے کی توفیق ملنا؛
- غلط راستوں سے محفوظ رہنا؛
- اور حق پر زندگی کے آخری لمحے تک ثابت قدم رہنا۔
اسی لیے ایک مسلمان، جو پہلے ہی اسلام کی نعمت پا چکا ہے، دن میں بار بار یہ دعا کرتا ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾
گویا وہ کہتا ہے: اے اللہ! مجھے حق دکھا بھی، اسے سمجھنے کی توفیق بھی دے، اس پر چلنے کی قوت بھی عطا فرما اور مجھے اس پر قائم بھی رکھ۔
سیدھا راستہ کون سا ہے؟
قرآن نے صرف یہ نہیں کہا کہ سیدھا راستہ مانگو، بلکہ اگلی آیت میں اس راستے کی پہچان بھی بتادی:
﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾
یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔
قرآن دوسری جگہ ان لوگوں کی وضاحت کرتا ہے:
﴿مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ﴾
(النساء: 69)
یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔
اس سے ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے: ہدایت کوئی ایسا مبہم تصور نہیں جس کا معیار ہر شخص خود مقرر کرے۔ اس کا ایک راستہ ہے اور اس راستے پر چلنے والے نمونے بھی موجود ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا فہم اور اہلِ ایمان و صالحین کا طریقہ ہمارے لیے اس راستے کو عملی صورت میں واضح کرتا ہے۔
علم بھی چاہیے، عمل بھی
سورۃ الفاتحہ کے آخری الفاظ ہمیں دو بڑی لغزشوں سے خبردار کرتے ہیں:
﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾
ایک ان لوگوں کا راستہ ہے جو حق کو جاننے کے باوجود اس سے منہ موڑ دیں، اور دوسرا ان لوگوں کا جو صحیح علم کے بغیر راستہ اختیار کرکے گمراہ ہوجائیں۔
گویا قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ سیدھے راستے کے لیے دو چیزیں لازم ہیں:
صحیح علم + صحیح عمل
صرف علم کافی نہیں اگر انسان اس پر عمل نہ کرے، اور صرف جوش و جذبہ بھی کافی نہیں اگر وہ صحیح علم کی رہنمائی سے محروم ہو۔
مومن کا راستہ یہ ہے کہ پہلے حق کو کتاب و سنت سے پہچانے، پھر اخلاص کے ساتھ اسے اپنی زندگی میں نافذ کرے۔
ہمیں ہر روز ہدایت کیوں مانگنی پڑتی ہے؟
یہ سوال بہت اہم ہے: اگر ایک مسلمان پہلے ہی ایمان رکھتا ہے تو وہ ہر نماز میں ہدایت کیوں مانگتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک مرتبہ مل جائے تو پھر انسان ہمیشہ کے لیے اس سے بے نیاز ہوجائے۔ زندگی ہر روز نئے فیصلے ہمارے سامنے لاتی ہے۔
کبھی مسئلہ تجارت کا ہوتا ہے، کبھی خاندان کا، کبھی تعلیم کا، کبھی اختلاف کا، کبھی کسی خبر پر ردِعمل دینے کا، کبھی زبان کے استعمال کا اور کبھی کسی خواہش کے مقابلے میں اللہ کے حکم کو ترجیح دینے کا۔
ہر نئے مرحلے میں انسان کو پھر ہدایت درکار ہوتی ہے۔
اسی لیے مومن کی دعا صرف یہ نہیں:
’’اے اللہ! مجھے راستہ دکھا دے۔‘‘
بلکہ اس کے اندر یہ مفہوم بھی ہے:
’’اے اللہ! مجھے راستہ دکھاتا رہ، اس پر چلاتا رہ اور اس سے بھٹکنے سے بچاتا رہ۔‘‘
آج کے دور میں صراطِ مستقیم
آج انسان کے پاس معلومات کی کمی نہیں۔ موبائل فون کی ایک اسکرین پر ہزاروں آراء، نظریات، فتوے، تبصرے، ویڈیوز اور دعوے موجود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ہجوم میں حق کیا ہے؟
ہر مقبول بات صحیح نہیں ہوتی، ہر وائرل ہونے والی بات حقیقت نہیں ہوتی، ہر پُراعتماد مقرر عالم نہیں ہوتا اور ہر وہ خیال جو ہمیں اچھا محسوس ہو ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی درست ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سورۃ الفاتحہ کی دعا ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کرلیتی ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾
یعنی اے اللہ! معلومات کے اس ہجوم میں مجھے حق پہچاننے کی بصیرت عطا فرما۔
ہدایت مانگنے والے کی ذمہ داری
ہدایت کی دعا کرنے کے بعد انسان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ اگر کوئی شخص سیدھا راستہ مانگتا رہے مگر قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، رسول اللہ ﷺ کی سنت سے رہنمائی نہ لے، اہلِ علم سے رجوع نہ کرے اور اپنی خواہش کو حق پر مقدم رکھے تو اس نے دعا کے عملی تقاضے پورے نہیں کیے۔
ہدایت مانگنے کا تقاضا ہے کہ انسان حق کو تلاش بھی کرے۔
قرآن پڑھے۔
سنت کو سمجھے۔
صحیح علم حاصل کرے۔
اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھے۔
اور جب حق واضح ہوجائے تو اپنی خواہش، عادت یا سابقہ رائے کے بجائے حق کو ترجیح دے۔
اپنی ہدایت پر مطمئن نہ ہوجائیں
انسان کے لیے ایک خطرناک کیفیت یہ ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگے کہ اب اسے مزید اصلاح کی ضرورت نہیں۔
سورۃ الفاتحہ روزانہ اس غرور کو توڑتی ہے۔ ایک عالم بھی کہتا ہے:
﴿اهْدِنَا﴾
ایک طالب علم بھی کہتا ہے:
﴿اهْدِنَا﴾
ایک صالح شخص بھی کہتا ہے:
﴿اهْدِنَا﴾
اور ایک عام مسلمان بھی یہی کہتا ہے۔
گویا ہر شخص اپنے رب کے سامنے اعتراف کرتا ہے:
’’اے اللہ! میں ایک لمحے کے لیے بھی تیری ہدایت سے بے نیاز نہیں ہوں۔‘‘
آج کا عملی سبق
آج اپنی زندگی کے کسی ایسے معاملے کو سامنے لائیے جس میں آپ تذبذب کا شکار ہیں۔ پھر صرف یہ نہ سوچیں کہ ’’مجھے کیا پسند ہے؟‘‘ بلکہ اپنے آپ سے پوچھیے:
اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کس راستے میں ہے؟
قرآن و سنت کی رہنمائی کیا ہے؟
کیا میں حق تلاش کررہا ہوں یا اپنی پہلے سے قائم رائے کے لیے دلیل تلاش کررہا ہوں؟
یہی ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ کو روزمرہ زندگی میں اتارنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔
آج کی دعا
اللَّهُمَّ اهْدِنَا وَسَدِّدْنَا، وَثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ
اے اللہ! ہمیں ہدایت عطا فرما، ہمیں درست راستے پر قائم رکھ اور ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما۔
خلاصۂ درس
سورۃ الفاتحہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہدایت ہے۔ ہدایت صرف راستہ جان لینے کا نام نہیں بلکہ حق کو جاننا، اسے قبول کرنا، اس پر عمل کرنا اور اس پر ثابت قدم رہنا ہے۔
صراطِ مستقیم ان لوگوں کا راستہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت سے نوازا۔ اس راستے میں صحیح علم بھی ہے اور صحیح عمل بھی۔ علم عمل کے بغیر نامکمل ہے اور عمل صحیح علم کے بغیر انسان کو منزل تک پہنچانے کی ضمانت نہیں دیتا۔
اسی لیے ہر نماز میں، ہر دن، بار بار ہم اپنے رب سے کہتے ہیں:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾
اے ہمارے رب! ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اس پر چلا اور اسی پر قائم رکھ۔
مصادر و مراجع
القرآن الكريم: سورۃ الفاتحہ: 6–7؛ سورۃ النساء: 69۔
الطبري، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، تفسير سورة الفاتحة۔
ابن كثير، تفسير القرآن العظيم، تفسير سورة الفاتحة۔
القرطبي، الجامع لأحكام القرآن، تفسير سورة الفاتحة۔
السعدي، تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، تفسير سورة الفاتحة۔
Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.