نفاق: ظاہر اور باطن کا تضاد

سورۃ البقرۃ: آیات 8–16

درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی

آج کی آیات


﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ ۝ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ۝ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ۝ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ۝ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ ۝ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ۝ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ۝ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ۝ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ﴾

(سورۃ البقرۃ: 8–16)

ترجمہ

اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، حالانکہ وہ ایمان والے نہیں۔ وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں، مگر حقیقت میں اپنے آپ ہی کو دھوکا دیتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے، تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی، اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں، لیکن انہیں شعور نہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لاؤ تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟ خبردار! حقیقت میں یہی بے وقوف ہیں، مگر جانتے نہیں۔

اور جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لائے، اور جب اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اللہ ان کے استہزا کا بدلہ دیتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی میں مہلت دیتا ہے کہ وہ بھٹکتے رہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی؛ پس نہ ان کی تجارت نے کوئی نفع دیا اور نہ وہ ہدایت پانے والے ہوئے۔

گزشتہ دروس سے تعلق

سورۃ البقرۃ کے آغاز میں قرآن نے تین انسانی رویّے ہمارے سامنے رکھے ہیں۔ آیات 1–5 میں اہلِ ایمان اور اہلِ تقویٰ کا ذکر ہوا۔ آیات 6–7 میں ان لوگوں کا بیان آیا جو کھلے طور پر حق کا انکار کرتے ہیں۔ اب آیت 8 سے ایک تیسرے گروہ کا ذکر شروع ہوتا ہے: ایسے لوگ جن کی زبان کچھ کہتی ہے اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔

کھلا انکار پہچانا جاسکتا ہے، لیکن نفاق کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس میں حقیقت ظاہری دعوے کے پردے میں چھپی ہوتی ہے۔

صرف ’’ہم ایمان لائے‘‘ کہنا کافی نہیں

آیت کا آغاز ہے:


﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ﴾

انہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی حقیقت کھول دی۔

یہاں ایک بنیادی سبق ہے: دین صرف دعوے کا نام نہیں۔ زبان کا اقرار اہم ہے، لیکن سچا ایمان دل کے یقین اور عمل کی صداقت کے ساتھ وابستہ ہے۔

انسان لوگوں کے سامنے اپنی شخصیت کا ایک خوب صورت تعارف پیش کرسکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا ظاہر اور باطن دونوں موجود ہیں۔

دھوکا آخر کس کو؟

فرمایا:


﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ﴾

منافق سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے ظاہر کے ذریعے دوسروں کو دھوکا دے دیا۔ لوگ اسے مسلمان سمجھتے ہیں، اس لیے وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ حقیقت میں وہ اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے کوئی باطن پوشیدہ نہیں۔ انسان دوسروں کو اپنے بارے میں غلط تاثر دے سکتا ہے، لیکن اس تاثر سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔

دل بھی بیمار ہوتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ﴾

ان کے دلوں میں بیماری ہے۔

جسم کی طرح دل کی بھی بیماریاں ہیں: شک، حسد، تکبر، بغض، ریا، حق سے نفرت اور خواہشات کی غلامی۔

جسمانی بیماری محسوس ہوجائے تو انسان علاج تلاش کرتا ہے، لیکن دل کی بیماری کا ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان بیمار ہوکر بھی اپنے آپ کو صحیح سمجھتا رہتا ہے۔

اسی لیے دل کا محاسبہ مومن کی مسلسل ضرورت ہے۔

بیماری بڑھتی کیسے ہے؟

فرمایا:

﴿فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا﴾

جب انسان بار بار باطل کو اختیار کرتا اور حق سے منہ موڑتا ہے تو اس کی باطنی بیماری مضبوط ہوتی جاتی ہے۔

گناہ صرف ایک واقعہ نہیں؛ اگر اس پر اصرار ہو تو وہ عادت بنتا ہے، عادت مزاج بن سکتی ہے اور مزاج انسان کے پورے اخلاقی شعور کو بدل سکتا ہے۔

اسی لیے توبہ میں تاخیر خطرناک ہے۔

سب سے خطرناک خود فریبی

جب ان سے کہا گیا:

﴿لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾

زمین میں فساد نہ کرو، تو ان کا جواب تھا:

﴿إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾

ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

یہ نفاق کی نہایت خطرناک کیفیت ہے: انسان غلطی صرف کرتا نہیں بلکہ اسے اصلاح سمجھنے لگتا ہے۔

گناہ کرنے والا اگر جانتا ہے کہ میں غلط کررہا ہوں تو اس کے اندر توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ لیکن جب انسان اپنی خرابی کو خوبی اور فساد کو اصلاح سمجھنے لگے تو مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہوجاتا ہے۔

ہر ’’اصلاح‘‘ واقعی اصلاح نہیں

قرآن ہمیں یہ اصول دیتا ہے کہ کسی عمل کو صرف اصلاح کہہ دینے سے وہ اصلاح نہیں بن جاتا۔

اصلاح کا معیار اللہ کی ہدایت، حق، عدل اور خیر ہے۔

آج بھی افراد، گروہ اور ادارے اپنے اقدامات کے لیے خوب صورت نام استعمال کرسکتے ہیں۔ اصل سوال نام کا نہیں بلکہ حقیقت کا ہے:

اس عمل کا نتیجہ حق، عدل اور خیر ہے یا فساد؟

اہلِ ایمان کو حقیر سمجھنا

ان سے کہا گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا:

﴿أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ﴾

کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح یہ بے وقوف ایمان لائے ہیں؟

تکبر انسان کو حق قبول کرنے سے روک سکتا ہے۔ کبھی دلیل میں کوئی کمی نہیں ہوتی؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسان حق قبول کرنے والوں کو اپنے سے کمتر سمجھتا ہے۔

قرآن نے جواب دیا:

﴿أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ﴾

اصل بے وقوفی ہدایت قبول کرنے میں نہیں بلکہ ہدایت کو جانتے ہوئے گمراہی اختیار کرنے میں ہے۔

دو مجلسیں، دو چہرے

منافقین کی ایک اور علامت بیان ہوئی:


﴿وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ﴾

اہلِ ایمان کے پاس ایک زبان، اور اپنے ساتھیوں کے پاس دوسری زبان۔

یہ آیت ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ کیا ہماری بنیادی اخلاقی شخصیت ہر مجلس میں ایک ہی رہتی ہے؟ یا ہم ہر گروہ کے سامنے ایسا روپ اختیار کرتے ہیں جو اس گروہ کو خوش کرے؟

حکمت کے مطابق گفتگو کا انداز بدلنا اور چیز ہے؛ اصول، وفاداری اور سچائی بدل دینا بالکل دوسری چیز۔

ڈیجیٹل دنیا میں دوہرا کردار

آج انسان کی ایک حقیقی شخصیت اور ایک digital شخصیت بھی ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات وہ اپنی حقیقی زندگی میں کچھ اور اور سوشل میڈیا پر بالکل دوسری شخصیت پیش کرتا ہے۔

آن لائن نیکی دکھانا بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن اگر انسان کا اصل مقصد صرف لوگوں کے سامنے ایک ایسی دینی یا اخلاقی شخصیت قائم کرنا ہو جو اس کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، تو اسے اپنے باطن کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

سوال یہ نہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سمجھتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے:

اللہ مجھے حقیقت میں کیسا پاتا ہے؟

نفاقِ اعتقادی اور نفاقِ عملی

یہاں ایک اہم علمی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ان آیات کا بنیادی بیان اعتقادی نفاق کے بارے میں ہے: ظاہر میں ایمان اور باطن میں کفر۔

اس کے علاوہ احادیث میں بعض اعمال کو نفاق کی خصلتیں قرار دیا گیا ہے، جیسے جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت۔ کسی مسلمان میں ایسی خصلت پائی جائے تو محض اس ایک عمل کی وجہ سے اسے اعتقادی منافق قرار دینا درست نہیں؛ بلکہ اس میں نفاقِ عملی کی ایک خطرناک خصلت پیدا ہوئی ہے جس سے توبہ اور اصلاح ضروری ہے۔

ہدایت بیچ کر گمراہی خریدنا

ان آیات کا اختتام ایک نہایت بلیغ تجارتی مثال پر ہوتا ہے:


﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ﴾

انسان دنیا میں نفع چاہتا ہے۔ تجارت کا مقصد بھی نفع ہے۔ مگر قرآن ایک ایسی تجارت دکھاتا ہے جس میں انسان نے اپنے پاس موجود سب سے قیمتی امکان—ہدایت—دے کر گمراہی خرید لی۔

ظاہر میں وہ وقتی فائدے حاصل کرسکتا ہے، مگر قرآن کا فیصلہ ہے:

﴿فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ﴾

ان کی تجارت نفع مند نہ ہوئی۔

آیات دوسروں کو تلاش کرنے کے لیے نہیں

نفاق کی آیات پڑھتے وقت سب سے آسان کام یہ ہے کہ ہم سوچنا شروع کردیں کہ یہ صفات کس دوسرے شخص میں پائی جاتی ہیں۔

زیادہ مفید سوال یہ ہے:

ان آیات میں میرے لیے کیا تنبیہ ہے؟

کیا میرے ظاہر اور باطن میں فرق ہے؟ کیا میں لوگوں کے سامنے اپنی حقیقت سے بہتر نظر آنے کی کوشش کرتا ہوں؟ کیا میں اپنی غلطی کو اصلاح کا نام دیتا ہوں؟ کیا میں وعدہ کرکے آسانی سے توڑ دیتا ہوں؟ کیا میرے اصول مجلس بدلنے سے بدل جاتے ہیں؟

قرآن کا مقصد صرف منافقین کی تاریخی تصویر دکھانا نہیں؛ وہ ہمارے دلوں کی تربیت بھی کرتا ہے۔

آج کا عملی سبق

آج اپنی زندگی کے کسی ایک ایسے حصے کا انتخاب کریں جسے صرف اللہ جانتا ہے۔ اپنی خلوت، اپنے موبائل کا استعمال، مالی معاملہ، کسی کے بارے میں دل کا رویّہ یا کوئی پوشیدہ عادت۔

پھر اپنے آپ سے پوچھیے:

اگر میری یہ حالت لوگوں کے سامنے آجائے تو کیا میری ظاہر کردہ شخصیت اور میری اصل شخصیت ایک جیسی نظر آئیں گی؟

جہاں فرق نظر آئے، وہیں سے اصلاح شروع کریں۔

آج کا محاسبہ

کیا میری تنہائی اور مجلس کا کردار ایک ہے؟

کیا میں نے کبھی اپنی غلطی کو خوب صورت نام دے کر درست ثابت کرنے کی کوشش کی؟

کیا میں کسی دینی یا اخلاقی عمل کو صرف لوگوں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے کرتا ہوں؟

کیا میری زبان، وعدے اور امانتیں میرے ایمان کی گواہی دیتی ہیں؟

آج کی دعا


اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ النِّفَاقِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّيَاءِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ، وَأَصْلِحْ لَنَا سَرَائِرَنَا وَعَلَانِيَتَنَا

اے اللہ! ہم نفاق، ریا اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتے ہیں، اور تو ہمارے ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح فرما۔

خلاصۂ درس

سورۃ البقرۃ کی آیات 8–16 نفاق کی ایک مکمل نفسیاتی تصویر پیش کرتی ہیں: زبان پر ایمان کا دعویٰ، دل میں بیماری، فساد کو اصلاح سمجھنا، اہلِ ایمان کو حقیر جاننا، مختلف مجلسوں میں مختلف چہرے اختیار کرنا اور بالآخر ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لینا۔

اس پورے بیان کا سب سے اہم عملی سبق یہ ہے کہ مومن اپنی شخصیت کو لوگوں کی نگاہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے دیکھنا سیکھے۔

ایمان کی خوب صورتی یہ ہے کہ انسان کا ظاہر اور باطن ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔

مصادر و مراجع

القرآن الكريم، سورۃ البقرۃ: 8–16۔
الطبري، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، تفسير سورة البقرة۔
الفراء، معاني القرآن۔
البغوي، معالم التنزيل۔
ابن عطية، المحرر الوجيز۔
القرطبي، الجامع لأحكام القرآن۔
ابن كثير، تفسير القرآن العظيم۔
ابن عاشور، التحرير والتنوير۔
السعدي، تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *