جب دل حق کے لیے بند ہوجائے

سورۃ البقرۃ: آیات 6–7

درس و تشریح: حافظ محمد اشرف کریمی

آج کی آیات


﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۝ خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾

(سورۃ البقرۃ: 6–7)

ترجمہ

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا، ان کے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کی سماعت پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

قرآن انسانوں کی تین کیفیتیں سامنے لاتا ہے

سورۃ البقرۃ کے آغاز میں قرآن انسانی رویّوں کی ایک نہایت معنی خیز تقسیم پیش کرتا ہے۔ پہلی پانچ آیات میں اہلِ تقویٰ کا ذکر ہوا: وہ غیب پر ایمان رکھتے، نماز قائم کرتے، اللہ کے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے، وحی پر ایمان رکھتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اب آیات 6–7 میں دوسری کیفیت سامنے آتی ہے: ایسے لوگ جن کے سامنے حق آتا ہے لیکن وہ مسلسل اور شعوری طور پر اسے رد کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد آیات 8 سے آگے منافقین کی کیفیت تفصیل سے بیان ہوتی ہے۔

یوں قرآن ابتدا ہی میں ہمیں بتاتا ہے کہ ایک ہی ہدایت کے سامنے انسانوں کے دلوں کا رویّہ یکساں نہیں ہوتا۔

کفر صرف لاعلمی کا نام نہیں

لفظ کفر کے اصل لغوی مفہوم میں ڈھانپنے اور چھپانے کا معنی پایا جاتا ہے۔ شرعی استعمال میں کفر اللہ تعالیٰ اور اس کی نازل کردہ حقانیت کے انکار کی مختلف صورتوں کے لیے آتا ہے۔

ان آیات میں ایسے منکرین کا ذکر ہے جن پر دعوت اور تنبیہ اثر انداز نہیں ہوتی، کیونکہ ان کا رویّہ محض معلومات کی کمی کا نہیں بلکہ حق سے مسلسل اعراض اور انکار کا بن چکا ہے۔

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر وہ شخص جو ابھی حق کو نہیں جانتا، لازماً اس کیفیت میں نہیں جس کا ان آیات میں ذکر ہے۔ کسی تک پیغام پہنچا ہی نہ ہو، کسی کے ذہن میں حقیقی سوالات ہوں یا کوئی تحقیق کے مرحلے میں ہو، تو اس کا معاملہ اس شخص جیسا نہیں جو حق واضح ہوجانے کے بعد ضد اور تکبر سے اسے رد کرتا رہے۔

کیا دعوت دینا بے فائدہ ہے؟

آیت میں فرمایا:


﴿سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دعوت و تبلیغ بے فائدہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو دعوت دینے، نصیحت کرنے اور حق پہنچانے کا حکم مسلسل دیا گیا۔

یہاں ایک مخصوص کیفیت بیان ہوئی ہے: بعض لوگ اپنے مسلسل انکار کے باعث اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ تنبیہ بھی ان پر اثر نہیں کرتی۔

داعی کی ذمہ داری حق کو حکمت اور دیانت کے ساتھ پہنچانا ہے؛ دلوں کو ہدایت دینا اس کے اختیار میں نہیں۔

ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا:


﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾

(القصص: 56)

ترجمہ: بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

انسان دلیل دے سکتا ہے، تعلیم دے سکتا ہے، نصیحت کرسکتا ہے اور بہترین اخلاق کے ساتھ حق پیش کرسکتا ہے؛ لیکن کسی دل کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

یہ حقیقت داعی کو دو بیماریوں سے بچاتی ہے: مایوسی اور غرور۔ کسی کے نہ ماننے پر وہ اپنے آپ کو ہدایت کا مالک نہیں سمجھتا، اور کسی کے قبول کرلینے پر اسے اپنی قابلیت کا نتیجہ نہیں سمجھتا۔

دل پر مہر کیسے لگتی ہے؟

اگلی آیت میں فرمایا:

﴿خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ﴾

اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔

اس مقام پر ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر اللہ نے دل پر مہر لگا دی تو انسان قصوروار کیسے ہوا؟

قرآن کے دوسرے مقامات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یہ مہر انسان کے اختیار سے کیے گئے مسلسل انکار، سرکشی اور حق سے اعراض کے نتیجے میں آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾

(الصف: 5)

ترجمہ: پھر جب وہ خود ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔

پہلے انسان کا اختیاری اعراض ہے، پھر اس مسلسل رویّے کی سزا کے طور پر دل قبولِ حق کی صلاحیت سے مزید محروم ہوتا جاتا ہے۔

گناہ دل کو بدلتا ہے

ان آیات کا پیغام صرف ان لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا نہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا؛ اس میں اہلِ ایمان کے لیے بھی سخت تنبیہ موجود ہے۔

دل کی حالت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ انسان جب بار بار حق کو جانتے ہوئے نظر انداز کرتا، گناہ کو معمول بناتا اور نصیحت سے منہ موڑتا ہے تو اس کے دل کی حساسیت متاثر ہوتی ہے۔

اسی لیے مومن گناہ کے بعد صرف اس کے ظاہری نتیجے سے نہیں ڈرتا بلکہ یہ بھی سوچتا ہے کہ:

اس گناہ نے میرے دل کے ساتھ کیا کیا؟

سماعت موجود، مگر قبولیت نہیں

فرمایا:

﴿وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ﴾

انسان کے کان جسمانی طور پر درست ہوسکتے ہیں۔ وہ قرآن کی آیات سن بھی سکتا ہے، لیکن حقیقی سماعت صرف آواز کان تک پہنچنے کا نام نہیں۔

قرآنی اصطلاح میں مفید سماعت وہ ہے جو انسان کو غور، قبول اور عمل تک پہنچائے۔

اسی لیے ممکن ہے کہ ایک شخص حق بار بار سنے مگر ہر مرتبہ اسے صرف رد کرنے کے لیے سنے، سمجھنے کے لیے نہیں۔

آنکھیں ہیں، مگر پردہ بھی ہے

پھر فرمایا:

﴿وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ﴾

ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔

قرآن انسان کو بار بار کائنات، تاریخ، اپنی ذات اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن صرف آنکھ کا دیکھنا کافی نہیں؛ بصیرت بھی درکار ہے۔

ایک ہی نشانی دو انسان دیکھ سکتے ہیں۔ ایک اسے دیکھ کر اپنے رب کو یاد کرتا ہے، دوسرا اسے دیکھ کر بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ فرق صرف آنکھ کا نہیں، دل کا بھی ہے۔

حق سے مسلسل فرار کی قیمت

ان آیات میں ایک خوفناک تدریجی حقیقت سامنے آتی ہے:

انسان پہلے حق سے منہ موڑتا ہے، پھر حق سے منہ موڑنا اس کی عادت بنتا ہے، پھر وہ حق سننا پسند نہیں کرتا، اور بالآخر اس کے لیے حق قبول کرنا دشوار سے دشوار تر ہوجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پہلی غلطی کے بعد توبہ بہت قیمتی ہے۔ توبہ صرف گناہ معاف کرانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دل کو سخت ہونے سے بچانے کا بھی ذریعہ ہے۔

اپنی رائے سے محبت یا حق سے محبت؟

ان آیات کا ایک نہایت اہم عملی سبق ہمارے علمی اور روزمرہ اختلافات سے متعلق ہے۔

بعض اوقات انسان کسی رائے کو اتنا اپنا لیتا ہے کہ بعد میں دلیل اس کے خلاف آجائے تب بھی اسے قبول کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ دلیل کو سمجھنے کے بجائے صرف اپنے موقف کا دفاع کرنے لگتا ہے۔

مومن کی تربیت اس کے برعکس ہونی چاہیے:

میری وفاداری اپنی رائے سے نہیں، حق سے ہے۔

اگر دلیل سے معلوم ہوجائے کہ میری بات غلط تھی تو اپنی رائے بدلنا شکست نہیں؛ حق کی طرف واپس آنا کامیابی ہے۔

ڈیجیٹل دور میں بند ذہن

آج انسان اکثر صرف انہی لوگوں کو سنتا اور پڑھتا ہے جن سے وہ پہلے ہی متفق ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع بھی بار بار ویسا ہی مواد سامنے لاسکتے ہیں جسے انسان پہلے پسند کرچکا ہو۔ نتیجتاً انسان اپنے گرد ایک ایسا فکری حصار بنا سکتا ہے جس میں مخالف دلیل سننے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔

قرآن ہمیں اپنے دل کی یہ کیفیت جانچنے کی دعوت دیتا ہے:

کیا میں دلیل سننے کے لیے تیار ہوں، یا صرف اپنی موجودہ رائے کی تصدیق چاہتا ہوں؟

یہ سوال صرف مذہبی مباحث میں نہیں، ہماری پوری فکری زندگی میں اہم ہے۔

کسی شخص کے دل پر مہر کا فیصلہ ہم نہیں کرتے

یہاں ایک ضروری احتیاط بھی ہے۔ قرآن میں دلوں پر مہر کا ذکر پڑھ کر ہمیں لوگوں کے بارے میں یہ فیصلے شروع نہیں کردینے چاہییں کہ فلاں شخص کا دل مہر زدہ ہے اور اب اس کی ہدایت ممکن نہیں۔

کسی معین شخص کے باطن اور انجام کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ بہت سے لوگ طویل عرصے تک حق سے دور رہنے کے بعد بھی اللہ کی توفیق سے ہدایت پاچکے ہیں۔

ہماری ذمہ داری لوگوں کے آخری انجام کے فیصلے کرنا نہیں، بلکہ حق پہنچانا، خیر خواہی کرنا اور اپنے دل کی حفاظت کرنا ہے۔

آج کا عملی سبق

آج اپنے آپ سے ایک مشکل سوال کیجیے:

اگر قرآن و سنت کی واضح دلیل میری پسندیدہ رائے کے خلاف آجائے تو کیا میں اپنی رائے بدلنے کے لیے تیار ہوں؟

پھر اپنی زندگی کے کسی ایک ایسے معاملے پر غور کریں جس میں آپ جانتے ہیں کہ درست کیا ہے، لیکن عمل میں مسلسل تاخیر کررہے ہیں۔

آج ہی اس میں ایک عملی تبدیلی کیجیے۔ حق معلوم ہونے کے بعد اسے مسلسل مؤخر کرنا دل کے لیے محفوظ رویّہ نہیں۔

آج کا محاسبہ

رات کو اپنے آپ سے پوچھیے:

کیا آج کوئی نصیحت مجھے ناگوار گزری صرف اس لیے کہ وہ میری خواہش کے خلاف تھی؟

کیا میں نے کسی واضح غلطی پر اصرار کیا؟

کیا قرآن پڑھتے ہوئے میں نے یہ سوچا کہ اس آیت کو اپنی زندگی میں کیسے نافذ کرنا ہے؟

کیا میرے اندر اپنی غلطی تسلیم کرنے کی ہمت موجود ہے؟

آج کی دعا


رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ

اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے۔

(آل عمران: 8)

خلاصۂ درس

سورۃ البقرۃ کی پہلی پانچ آیات نے ہمیں ان لوگوں کی تصویر دکھائی جو قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ آج کی دو آیات اس کے برعکس ایک خطرناک کیفیت سامنے لاتی ہیں: حق سے ایسا مسلسل انکار جو بالآخر انسان کے دل، سماعت اور بصیرت کو قبولِ حق سے محروم کردیتا ہے۔

یہ آیات ہمیں دوسروں کے انجام کے فیصلے کرنے کے لیے نہیں بلکہ سب سے پہلے اپنے دل کی حفاظت کے لیے ملی ہیں۔

اس لیے جب حق واضح ہو تو اسے قبول کرنے میں تاخیر نہ کریں، غلطی ہوجائے تو فوراً پلٹیں، نصیحت سننے کی صلاحیت زندہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے دل کی ثابت قدمی مانگتے رہیں۔

دل کی زندگی اس میں ہے کہ حق سامنے آئے تو وہ جھک جائے۔

مصادر و مراجع

القرآن الكريم: سورۃ البقرۃ: 6–7؛ سورۃ الصف: 5؛ سورۃ القصص: 56؛ سورۃ آل عمران: 8۔
الطبري، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، تفسير سورة البقرة۔
الفراء، معاني القرآن۔
البغوي، معالم التنزيل۔
ابن عطية، المحرر الوجيز۔
القرطبي، الجامع لأحكام القرآن۔
ابن كثير، تفسير القرآن العظيم۔
ابن عاشور، التحرير والتنوير۔
السعدي، تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان۔


ادارتی نوٹ: مصنف روایہ کے مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ یہ مضمون ان کی ذاتی علمی کاوش کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے اور روایہ کے ادارتی مواد سے الگ ہے۔

Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *