نفاق کی تاریکیاں اور ہدایت کا بجھتا ہوا چراغ
سورۃ البقرۃ: آیات ۱۷ تا ۲۰

آیاتِ مبارکہ
﴿مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَا يُبْصِرُونَ ۝ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ۝ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ ۝ يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
البقرۃ: ۱۷–۲۰
ترجمہ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی، پھر جب اس نے اپنے گرد و پیش کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی چھین لی اور انہیں ایسی تاریکیوں میں چھوڑ دیا کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، اس لیے واپس نہیں لوٹتے۔
یا ان کی مثال آسمان سے برسنے والی بارش جیسی ہے جس میں تاریکیاں، گرج اور بجلی ہو۔ وہ کڑک کی آوازوں سے موت کے ڈر کے مارے اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیتے ہیں، حالانکہ اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ قریب ہے کہ بجلی ان کی نگاہیں اچک لے۔ جب ان کے لیے روشنی ہوتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں، اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بینائی چھین لیتا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
سیاق و ربط
گزشتہ درس میں منافقین کے قول و عمل کا تضاد، ان کی خودفریبی اور ہدایت کے بدلے گمراہی اختیار کرنے کا ذکر ہوا۔ اب قرآن دو نہایت بلیغ مثالوں کے ذریعے ان کی باطنی کیفیت واضح کرتا ہے۔ پہلی مثال آگ اور تاریکی کی ہے، جبکہ دوسری بارش، گرج اور بجلی کی۔
ان مثالوں کا مقصد محض منظر کشی نہیں بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ حق کی روشنی سامنے آجانے کے باوجود اس سے فائدہ نہ اٹھانا انسان کو کس روحانی محرومی میں مبتلا کرتا ہے۔
پہلی مثال: روشنی کے بعد تاریکی
فرمایا: ﴿ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ﴾ یعنی اللہ نے ان کی روشنی چھین لی۔
آگ کے روشن ہونے سے کچھ دیر کے لیے راستہ اور ماحول نمایاں ہوجاتا ہے، لیکن جب روشنی ختم ہوجائے تو تاریکی پہلے سے زیادہ پریشان کن محسوس ہوتی ہے۔ منافقین کی حالت بھی ایسی ہے کہ ایمان کے ظاہری ماحول سے انہیں بعض فوائد حاصل ہوتے ہیں، مگر حقیقی ایمان سے محرومی انہیں ہدایت کے نور سے محروم رکھتی ہے۔
اس مثال میں ایک اہم لطیفہ یہ ہے کہ قرآن نے روشنی کے زائل ہونے کا ذکر کیا، لیکن انہیں تاریکیوں میں چھوڑے جانے کو بھی بیان کیا۔ گویا ظاہری روشنی سے وقتی فائدہ اٹھانا اور دل میں حقیقی ہدایت کا موجود ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں۔
بہرے، گونگے اور اندھے
﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ﴾
یہاں جسمانی سماعت، گویائی اور بینائی کا انکار مقصود نہیں بلکہ حق سے متعلق ان کی اخلاقی اور روحانی بے حسی بیان ہوئی ہے۔ وہ حق سننے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے، سچائی بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں اور واضح دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
انسان کے پاس آنکھیں ہوں لیکن وہ حقیقت دیکھنا نہ چاہے، کان ہوں لیکن نصیحت سننے پر آمادہ نہ ہو، اور زبان ہو لیکن حق کا اقرار نہ کرے تو اس کی ظاہری صلاحیتیں اسے ہدایت نہیں دے سکتیں۔
دوسری مثال: بارش، گرج اور بجلی
دوسری مثال میں آسمان سے بارش برس رہی ہے۔ بارش زندگی اور رحمت کا ذریعہ ہے، لیکن اس کے ساتھ تاریکی، گرج اور بجلی بھی ہے۔
مفسرین نے اس مثال میں وحی اور اس کے ساتھ آنے والی آزمائشوں، تنبیہات اور احکام سے منافقین کے اضطراب کی مناسبت بیان کی ہے۔ حق کی دعوت میں رحمت اور ہدایت ہے، لیکن اس کے تقاضے نفس پر بھاری بھی پڑسکتے ہیں۔
منافق ان پہلوؤں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جو اسے آسان اور مفید محسوس ہوں، مگر جہاں قربانی، اطاعت یا آزمائش سامنے آئے وہاں پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
وقتی فائدے کا ایمان
﴿كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا﴾
جب روشنی ہوتی ہے تو چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو رک جاتے ہیں۔
یہ ایمان کے معاملے میں مفاد پرستی اور عدمِ استقامت کی نہایت مؤثر تصویر ہے۔ سچا ایمان محض آسان حالات میں اطاعت کا نام نہیں؛ آزمائش، نقصان اور مشکل میں بھی اللہ کے حکم کو مقدم رکھنا اس کا تقاضا ہے۔
البتہ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ ہر پریشان، کمزور یا آزمائش میں مبتلا مسلمان منافق ہے۔ ایمان والے بھی خوف اور کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہاں اصل مذمت اس رویے کی ہے جس میں انسان دانستہ طور پر حق کو ذاتی فائدے کے تابع بنادے۔
آج کی زندگی سے تعلق
ہمیں اپنی عبادات، معاملات اور دینی وابستگی میں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہمارا رویہ بھی صرف سہولت اور فائدے سے مشروط تو نہیں۔ جب دین کی بات ہمارے مفاد کے مطابق ہو تو ہم اسے قبول کرتے ہیں، لیکن جب وہ ہمارے نفس، کاروبار، تعلقات یا عادات کی اصلاح چاہتی ہے تو کیا ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں؟
قرآن کا یہ درس دوسروں کے ایمان پر فیصلہ لگانے کے بجائے اپنے اندر استقامت، اخلاص اور قبولِ حق پیدا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
آج کا عملی سبق اور محاسبہ
آج کسی ایسے دینی حکم پر غور کیجیے جسے آپ درست جانتے ہیں، لیکن اس پر عمل میں سستی محسوس کرتے ہیں۔ اس سستی کا سبب پہچانیے اور اصلاح کا ایک عملی قدم اٹھائیے۔
اپنے آپ سے سوال کیجیے: کیا میں آسانی اور مشکل دونوں میں حق کو حق تسلیم کرتا ہوں؟ کیا میری دینی وابستگی حالات کے ساتھ بدل جاتی ہے؟ کیا میں نصیحت سننے کے بعد اس پر عمل بھی کرتا ہوں؟
آج کی دعا
اللَّهُمَّ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، وَنَوِّرْ قُلُوبَنَا بِالْإِيمَانِ، وَاحْفَظْنَا مِنَ النِّفَاقِ وَالضَّلَالِ.
اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ، انہیں ایمان کے نور سے روشن فرما اور ہمیں نفاق اور گمراہی سے محفوظ رکھ۔
خلاصۂ درس
ہدایت کی روشنی انسان کو اسی وقت حقیقی فائدہ دیتی ہے جب وہ اسے دل سے قبول کرے اور اس کے تقاضوں پر ثابت قدم رہے۔ نفاق کی تاریکیوں سے بچنے کا راستہ اخلاص، قبولِ حق اور استقامت ہے۔
مصادر: جامع البيان للطبري؛ تفسير ابن كثير؛ معالم التنزيل للبغوي؛ الجامع لأحكام القرآن للقرطبي؛ التحرير والتنوير لابن عاشور؛ تيسير الكريم الرحمن للسعدي، تفسیر البقرۃ: ۱۷–۲۰۔

ادارتی نوٹ: مصنف روایہ کے مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ یہ مضمون ان کی ذاتی علمی کاوش کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے اور روایہ کے ادارتی مواد سے الگ ہے۔

Editorial Note: The author serves as Editor-in-Chief of Rewaya. This article is published as an authored scholarly contribution and is identified separately from Rewaya’s editorial content.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *